بارباڈوس 400 سال بعد برطانیہ کی عملداری سے آزاد

گزشتہ رات بارباڈوس نے دولت مشترکہ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے خود کو آزاد ملک بنانے کا اعلان کیا۔ گزشتہ رات تقریب کے دوران، ملکہ کی نمائندگی کرنے والے برطانوی شاہی پرچم کو نیچے اتارا گیا۔

برج ٹاﺅن: کریبیئن جزائرکا ملک بارباڈوس 400سال بعد برطانیہ کی عملداری سے آزاد ہوگیا۔ ملک کی آخری گورنر جنرل ڈیم سینڈرا میسن نے ملک کی پہلی صدر کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

گزشتہ رات بارباڈوس نے دولت مشترکہ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے خود کو آزاد ملک بنانے کا اعلان کیا۔ گزشتہ رات تقریب کے دوران، ملکہ کی نمائندگی کرنے والے برطانوی شاہی پرچم کو نیچے اتارا گیا۔ تقریب میں برطانیہ کے شہزادہ چارلس نے بھی خصوصی شرکت کی۔

گزشتہ ماہ بارباڈوس نے ملکہ برطانیہ کی جگہ ڈیم سینڈرامیسن کو صدر بنانے کی قرارداد منظور کی تھی۔

خیال رہے کہ کیریبین جزیرے نے تقریباً 400 سال بعد اپنے نوآبادیاتی ماضی سے چھٹکارا حاصل کیا ہے۔کیریبین جزیرہ جوکہ اب تک تاج برطانیہ کے ماتحت تھا ‘اب ایک آزاد جمہوری ریاست بننے جارہا ہے۔ اس نئی ریاست کو ابتدائی مراحل میں عالمی وباء کورونا وائرس اور بادشاہت سے جڑے اپنے برے ماضی کی وجہ سے سیاحت کے شعبے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

بارباڈوس کے ایسا کرنے کے بعد اب یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بہت جلد بارباڈوس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آسٹریلیا اور کینیڈا بھی ملکہ برطانیہ سے تعلقات ختم کرکے آزاد جمہوریتیں بننے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اب یہ دباؤ آسٹریلیا اور کچھ حد تک کینیڈا میں بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔

آسٹریلیا میں تو اس حوالے سے نومبر 1999 میں اس معاملے پر ووٹنگ بھی ہوچکی ہے، تاہم اس وقت یہ تجویز وہاں پر بھاری اکثریت سے منظور نہیں ہوسکی تھی۔

واضح رہے کہ بارباڈوس کے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ملکہ برطانیہ‘ آسٹریلیا، کینیڈا اور جمائیکا سمیت دیگر 15 ریاستوں کی سربراہ ہیں۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button