برف سے ڈھکی چوٹیوں پر تعینات ہندوستانی فوجیوں کے حوصلے بلند: جنرل نروانے

مشرقی لداخ ٹکراؤ کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل نروانے نے کہا کہ صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کے لئے حال میں ہندوستان اور چین کے درمیان 14 ویں دور کی فوجی بات چیت ہوئی۔

نئی دہلی: فوج کے سربراہ جنرل ایم ایم نروانے نے ہفتہ کے دن کہا کہ ہندوستانی فوج کا پیام واضح ہے کہ وہ ملک کی سرحدوں پر جوں کا توں موقف یکطرفہ تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دے گی۔

نئی دہلی میں آرمی ڈے پریڈ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سال ِ گزشتہ فوج کے لئے انتہائی چیلنجنگ رہا۔ انہوں نے چین سے متصل شمالی سرحدوں کی صورتِ حال کا حوالہ دیا۔

15جنوری کو آرمی ڈے فیلڈ مارشل کے ایم کری اپا کے ہندوستانی فوج کے پہلے ہندوستانی کمانڈر اِنچیف بننے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ انہوں نے 1949میں اپنے برطانوی پیشرو کی جگہ لی تھی۔

مشرقی لداخ ٹکراؤ کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل نروانے نے کہا کہ صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کے لئے حال میں ہندوستان اور چین کے درمیان 14 ویں دور کی فوجی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سطحوں پر مشترکہ کوششوں کی وجہ سے کئی علاقوں سے فوج پیچھے ہٹی ہے جو ایک تعمیری قدم ہے۔

جنرل نروانے نے کہا کہ باہمی اور مساوی سلامتی کی بنیاد پر موجودہ صورتِ حال کا حل ڈھونڈنے کی کوشش جاری رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ برف سے ڈھکی پہاڑیوں پر تعینات فوجیوں کے حوصلے بلند ہیں۔

جنرل نروانے نے کہا کہ ہمارا صبر ہماری خوداعتمادی کی علامت ہے لیکن کوئی بھی اسے آزمانے کی کوشش نہ کرے۔ ہمارا پیام واضح ہے۔ ہندوستانی فوج‘ ملک کی سرحدوں پر جوں کا توں موقف بدلنے کی کسی بھی یکطرفہ کوشش کی اجازت نہیں دے گی۔

ہندوستان اور چین کی افواج 5 مئی 2020 سے مشرقی لداخ میں ٹکراؤ کی حالت میں ہیں۔ پینگانگ جھیل علاقہ میں پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی۔ ٹکراؤ دور کرنے کے لئے دونوں ممالک 14 ادوار کی فوجی سطح کی بات چیت کرچکے ہیں۔

5 مئی 2020کے بعد ہندوستانی اورچینی افواج نے دھیرے دھیرے اپنی تعیناتی بڑھادی۔ انہوں نے ہزاروں فوجی اور بھاری اسلحہ سرحد پر پہنچادیا۔ حساس سیکٹر میں حقیقی خط ِ قبضہ (ایل اے سی) پر دونوں طرف سے 50 ہزار تا 60 ہزار فوجی فی الحال تعینات ہیں۔

ہاٹ اسپرنگ‘ دیبسانگ پل اور دیمچوک کے علاقوں میں افواج پیچھے ہٹانے کا عمل ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے۔ جنرل نروانے نے کہا کہ ایل او سی خط ِ قبضہ کی صورتِ حال سالِ گزشتہ سے بہتر ہے لیکن پاکستان ابھی بھی دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے۔

سرحد کے اُس پار ٹریننگ کیمپس میں 300 تا 400 دہشت گرد ہندوستان میں دراندازی کے منتظر ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 194 دہشت گرد مارے گئے۔ سرحد پار ڈرونس کے ذریعہ اسلحہ اسمگل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

جموں و کشمیر کے اندرونی علاقوں میں گزشتہ 2 سال میں حالات سدھرے ہیں۔ شمال مشرق میں سیکوریٹی صورتِ حال گزشتہ ایک برس میں قابل ِ لحاظ حد تک بہتر ہوئی ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button