بغاوت قانون کا استعمال پریشان کن رجحان: سپریم کورٹ

چیف جسٹس نے کہا کہ جب کوئی سیاسی جماعت برسراقتدار ہوتی ہے تو پولیس عہدیدار اس کی حمایت کرتے ہیں اور پھر جب کوئی نئی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو حکومت ان عہدیداروں کے خلاف کارروائی شروع کرتی ہے۔

نئی دہلی: چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی زیرصدارت ایک بنچ نے آج ایک پریشان کن رجحان کی طرف زبانی اشارہ کیا جس کے تحت برسراقتدار جماعت کے حامی پولیس عہدیداروں کو کسی دوسری سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب کوئی سیاسی جماعت برسراقتدار ہوتی ہے تو پولیس عہدیدار اس کی حمایت کرتے ہیں اور پھر جب کوئی نئی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو حکومت ان عہدیداروں کے خلاف کارروائی شروع کرتی ہے۔

یہ ایک نیا رجحان ہے جس کی روک تھام کی ضرورت ہے۔ جسٹس سوریہ کانت بھی اس بنچ میں شامل تھے۔

بنچ نے مزید کہا کہ یہ انتہائی پریشان کن رجحان ہے اور اس کا ذمہ دار محکمہ پولیس ہے۔ عدالت نے ایک معطل سینئر اے ڈی جی رینک کے عہدیدار گرجیندر پال سنگھ کو گرفتاری سے تحفظ منظور کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔

واضح رہے کہ گرجیندر پال سنگھ کے خلاف بغاوت اور غیرمحسوب اثاثہ جات اکٹھا کرنے کے دو فوجداری مقدمات درج ہیں۔ حکومت چھتیس گڑھ نے یہ مقدمات دائر کئے ہیں۔ عدالت ِ عظمیٰ نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ فی الحال ان مقدمات میں سنگھ کو گرفتار نہ کرے تاہم عدالت نے سنگھ کو ہدایت دی کہ وہ تحقیقات کے سلسلہ میں ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔

تبصرہ کریں

Back to top button