بلوچستان میں بس کھائی میں گرپڑی‘ 19افراد ہلاک

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سیول ہاسپٹل زوب ڈاکٹر نورالحق نے بتایاکہ زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ چیف منسٹر بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے حادثہ پر دکھ کا اظہارکیا۔ انہوں نے حکم دیاکہ سیول ہاسپٹل میں ایمرجنسی ڈکلیرکی جائے۔

کراچی: پاکستان کے گڑبڑزدہ صوبہ بلوچستان میں اتوار کے دن کم ازکم 19افراد اس وقت ہلاک اور دیگر 11 زخمی ہوگئے جب ایک تیزرفتاربس موسلادھاربارش کے دوران پہاڑی سڑک سے پھسل کر گھاٹی میں گرپڑی۔ بس میں 30 سے زائد افراد سفرکررہے تھے اور وہ اسلام آباد سے کوئٹہ جارہی تھی۔ حادثہ زوب میں پیش آیا۔

 اسسٹنٹ کمشنر سیدمہتاب شاہ نے بتایاکہ بس کوئٹہ کے قریب پہنچ گئی تھی کہ ایک خطرناک موڑ پر ڈرائیور نے کنٹرول کھودیا اور بس کھائی میں جاگری۔ ہم نے 19نعشیں نکالی ہیں اور 11کو دواخانہ میں شریک کرایا ہے۔بارش اور تیز رفتاری کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

 دی ایکسپریس ٹریبون نے یہ اطلاع دی۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سیول ہاسپٹل زوب ڈاکٹر نورالحق نے بتایاکہ زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ چیف منسٹر بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے حادثہ پر دکھ کا اظہارکیا۔ انہوں نے حکم دیاکہ سیول ہاسپٹل میں ایمرجنسی ڈکلیرکی جائے۔

 وزیراعظم شہبازشریف نے بھی غمزدہ خاندانوں سے اظہارتعزیت کیا۔ پاکستان میں خراب سڑکوں‘ ٹریفک قوانین کا پاس ولحاظ نہ رکھنے اور گاڑیوں کی دیکھ ریکھ پرتوجہ نہ دینے کی وجہ سے جان لیوا حادثات عام ہیں۔

 گذشتہ ماہ شمالی بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے قریب ایک ویان کھائی میں گرپڑی تھی۔ اس حادثہ میں 22 افراد کی جانیں گئی تھیں۔ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 9افراد شامل تھے۔

تبصرہ کریں

Back to top button