بلڈوزر سیاست کیا رنگ لائے گئی؟

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

رمضان کے مقدس مہینہ میں دہلی کے جہانگیرپوری علاقہ میں مودی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے دن کے اجالے میں مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا کر ان غریب مسلمانوں کے سروں سے ان کا سایہ چھین لیا اور اب گزشتہ دنوں دہلی کے شاہین باغ کے مکینوں سے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف تاریخی احتجاج کرنے کی پاداش میں ان سے بدلہ لینے کی خاطران کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزرس چلانے کی پوری کوشش کی گئی۔ شاہین باغ کے جیالوں نے دہلی مونسپل کارپوریشن کے اس جارحانہ اقدام کے خلاف زبردست مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدی عملے کوکو ئی انہدامی کاروائی انجام دیے بغیر واپس ہونے پر مجبور کردیا۔سینکڑوں لوگ انہدامی کارروائی کے خلاف سڑکوں پر اُتر آئے اور خواتین اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بلڈوزرس کے سامنے ٹھہر گئیں جس کے نتیجہ میں وقتی طور پر خطرہ ٹل گیا، لیکن اس بات کے پورے امکانات ہیں کہ شاہین باغ اور اس کے اطراف کے علاقوں پر اچانک پولیس اور بلدیہ یلغار کرے گی اور وہاں بلڈوزرس چلادیے جائیں گے۔ بلدی حکام اس کے لیے یہ جواز پیش کر رہے ہیں کہ ”غیر مجاز قبضوں“کی برخاستگی کے لیے یہ انہدامی کارروائی ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا صرف جہانگیر پوری اور شاہین باغ میں ہی غیر قانونی قبضے ہوئے ہیں اور یہیں پر ہی آیا بغیر بلدی اجازت کے تعمیری کام ہوئے ہیں۔ دہلی کے دیگر علاقے کیا غیر مجاز قبضوں سے پاک ہیں؟ وہاں کوئی غیر قانونی تعمیر نہیں ہوئی ہے؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ غیر مجاز قبضوں کے انہدام کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کل تک فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کی املاک کو لوٹتی اور جلاتی تھیں اور آج یہی کام قانون کی آڑ میں حکومت کر رہی ہے۔ مسلمانوں کے اندر خوف اور ڈر کی کیفیت کو مزید بڑھانے کے لیے اس قسم کی ظالمانہ حرکتیں کی جارہی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں ایک جلوس پر سنگ باری کے جھوٹے الزام کے بعد مسلمانوں کے گھروں کو زمین دوز کر دیا گیا۔ گجرات میں بھی اس نوعیت کی گھناو¿نی حرکتیں ایک زمانہ دراز سے جاری ہیں۔ اب ملک کے دارالحکومت میں جہاں فوج، پولیس ، سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم رہتے ہیں ، ان کی ناک کے نیچے مسلمانوں سے ان کے جینے کا حق بھی چھین لیا جا رہا ہے۔ انسان کو سَر چھپانے کے لیے ایک آسرا بھی نہ ہوتو آخر انسان کہاں جائے۔ جہانگیر پوری میں جہاں غریب مسلمان رہتے ہیں اور جن کی معاشی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ کی کمائی پر ان کا گزارا ہوتا ہے ، وہاں اچانک بلڈوزرس چلادیے جا تے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے حکم امتناع کے باوجود بلدی عملہ یہ جابرانہ اقدام کر تا ہے لیکن اس پر بلدی عہدیداروں سے کوئی جواب طلب نہیں کیا جاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ شاہین باغ میں بلدیہ کی انہدامی کارروائی کے خلاف سی پی آئی ایم سپریم کورٹ میں درخواست داخل کرتی ہے تو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت یہ کہہ کر سماعت سے انکار کر دیتی ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کی ایماءپر غیر مجاز قبضوں کے خلاف جاری مہم میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ انہدامی کارروائی کے لیے بھی قانون کے کچھ اصول ہیں۔ اس پر عمل کئے بغیر کسی کو بے گھر کردینا یہ خود انسانیت کے خلاف ہے۔ جس انداز میں جہانگیر پوری اور شاہین باغ میں ایک مخصوص طبقہ کے ساتھ جبر اور ظلم کا رویہ اختیار کیا گیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی عنوان پر مسلمانوں کو پریشان کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔
اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ غیر قانونی قبضوں سے کئی شہری مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان غیر مجاز قبضوں کے خلاف غیرجانبدار انداز میں کا رروائی ہوتی ہے تو کسی کو اعتراض کا موقع نہیں ملتا۔ ہندوستان کا کون سا شہر ایسا ہے جہاں غیر مجاز قبضے نہیں ہو تے۔ دہلی میں خود کئی آبادیاں ایسی ہیں جو غیر قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔ بلدیہ کی اجازت کے بغیر دہلی کے کئی علاقے آباد ہیں۔ یہاں چونکہ مسلمان آباد نہیں ہیں اس لیے وہاں کسی بلدی عہدیدار کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہاں بلڈوزر چلادے۔ یہ افتاد صرف مسلمان آبادیوں پر اس لئے آ تی ہے کہ ان سے موجودہ حکومت خوش نہیں ہے۔ وہ کسی بھی طرح ہراساں کر کے یہ جتلانا چاہتی ہے کہ ہماری مخالفت کا یہی انجام ہو گا۔ رام نومی کے نام پرہندو فرقہ پر ست جلوس نکالتے ہیں اور مسجدوں کو نشانہ بناتے ہیں، لیکن الزام مسلمانوں پر آ تا ہے اور پھر مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزرس چلادیے جاتے ہیں۔ فرقہ پرستوں کی اشتعال انگیز تقاریر کے خلاف پولیس کوئی کارروائی نہیں کر تی البتہ مسلم نوجوانوں پر جلوس پر سنگباری کرنے کا بے بنیاد الزام لگا کر انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ بہرحال کوئی نہ کوئی حیلہ تراش کر مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنا اب حکومت کی پالیسی بن گئی ہے۔ اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کی زیرقیادت دوبارہ بی جے پی حکومت تشکیل پانے کے بعدیوپی کے حالات دن بہ دن بگڑتے جا رہے ہیں۔ اب وہاں وارانسی میں گیان واپی مسجد کا مسئلہ چھیڑ دیا گیا ہے۔ خدا کے اس گھر کو بھی بابری مسجد کی طرح ڈھاکر بتکدے میں بدلنے کی پوری تیاری کرلی گئی ہے۔ اب سے سات ماہ پہلے پانچ خواتین نے عدالت میں درخواست داخل کی تھی کہ گیان واپی مسجد میں شرنگار گوری کا مندر ہے، اس لیے وہاں پوجا کرنے کی انہیں عدالت اجازت دے۔ اسی طرح قطب مینار پر بھی فرقہ پرستوں نے اپنا دعویٰ ٹھونک دیا۔ یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ قطب مینار نہیں ہے بلکہ یہ وشنو استمھ ہے لہٰذا یہاں ہندوو¿ں کو ہنومان چالیسہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ قطب مینار کو قطب الدین ایبک نے 1193میں تعمیر کرایا تھا۔ یہ سلاطین دہلی کے دور کی تاریخی عمارت ہے جس کی حیثیت اس وقت ایک عالمی ورثہ کی ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ مغل بادشاہ شاہجہاں کی یادگارِ محبت تاج محل کو بھی ہندو مندر جتانے کی سازش رچائی جا رہی ہے۔جب کہ تاج محل کوشاہجہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کیا تھا۔ عام مسلمان کو تاج محل یا قطب مینار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، لیکن مسلمان حکمرانوں کو بدنام کرنے کی اس حوالے سے جو ناپاک کوشش ہو رہی ہے وہ قابلِ مذمت ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان پر آٹھ سو سال حکومت کی، لیکن کوئی ایک مثال نہیں پیش کی جاسکتی کہ مسلمانوں نے یہاں کسی مذہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہ کی بے حرمتی کی ہو۔ مسلم حکمرانوں نے اپنی رعایا پروری اور مذہبی رواداری کے ایسے بے مثال نمونے چھوڑے ہیں کہ اس پر دنیا آج بھی حیران ہے۔ اگر مسلم حکمران تعصب اور مذہبی تنگ نظری کا ثبوت دیتے تو بقول شخصے دہلی، آ گرہ، اودھ اور دوسرے علاقوں میں مسلمانوں کے سوا کوئی دوسرے مذاہب کے لوگ نظر نہ آ تے۔ ملک کے پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پر ساد نے شیرشاہ سوری کے بارے میںلکھا کہ اس نے فرمان جاری کیا تھا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں۔ ان کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی ہوگی تو وہاں کے حاکم کو معزول کر دیا جائے گا۔ ٹیپو سلطان کے تعلق سے یہ تاریخی ریکارڈ موجود ہے کہ اس نے کئی مندروں کو امداد دی تھی۔ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کے باوجود وہ اپنی غیر مسلم رعایا کے لیے ایک مسیحا کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کی شہادت پر ہندو عورتوں نے جس غم کا اظہار کیا اسے تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھا گیا۔ تاریخ کی ان حقیقتوں کو جھٹلانا فرقہ پرستوں کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔
ہندوستان کی آزادی کے اندرون 75سال بعدآج ملک میں یہ ماحول بنتا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے ساتھ ان کے مکانات اور دکانات پر بھی بلڈوزر چلادیے جارہے ہیں۔ چناچہ بغیر کوئی قانونی راحت دیے مسلمانوں کو بے خانماں برباد کرکے فرقہ پرست طاقتیں خوش ہو رہی ہیں۔ اقتدار کے نشے میں مسلمانوں کو اپنے زِ یر کرنے کا یہ جابرانہ حربہ اس لیے استعمال کیا جارہا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی مثبت ایجنڈا نہیں ہے۔ مودی حکومت کی گزشتہ آٹھ سالہ کارکردگی ہو یا پھر یوگی کی گزشتہ پانچ سالہ سرکار ہو ، دونوں نے ہندوتوا کی شراب پِلا کر یہاں کی اکثریت کو اتنا مدہوش کردیا کہ ان کی نظروں سے ملک اور قوم کے حقیقی مسائل اوجھل ہوگئے۔ آج معاشی حیثیت سے ملک جس بدحالی کے دور سے گزر رہا ہے اس پر سنگھ پریوار سے ہمدردی رکھنے والوں کو کوئی فکر نہیں ہے۔ لاکھوں نوجوان ڈگریاں رکھ کر روزگار کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، لیکن معمولی نوکری بھی انہیں نہیں مل رہی ہے۔ پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کے بعد پکوان گیس کی قیمت بھی بڑھادی گئی۔ آخر غریب کا چولھا کیسے سُلگے گا اس پر کسی گو شہ سے فکرمندی کا اظہار ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ ہندوراشٹرا کی رٹ لگا کر سب کو سُلانے اور خاموش کر دینے کی حکمت عملی سنگھ پریوار نے تیار کی ہے۔ اس میں مرکز کی بی جے پی حکومت اور جہاں جہاں بی جے پی کی ریاستی حکومتیں ہیں وہاں یہ رنگ بھر رہی ہیں۔ فرقہ پرستوں کی ان جارحانہ کارستانیوں سے ملک کو بچانے کے لئے مختلف سطح پر منظم انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے خود مسلمانوں کو اپنے تحفظ کے بارے میں ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ پے در پے ہونے والے واقعات نے ثابت کردیا کہ حکومت کی مشنری چاہے وہ پولیس ہوکہ فوج مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر پولیس کا رویہ مسلمانوں کے تئیں جانبدارانہ ہوتا جا رہا ہے۔ دہلی میں جو کچھ مسلمانوں پر ظلم ہوا ہے، اس میں پولیس کا رول بھی مجرمانہ تھا۔ جہانگیرپوری میں سپریم کورٹ کے امتناعی احکام کے باوجود مونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں نے مسلمانوں کے مکانات پر بلڈوزر چلادیے۔ ان عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تھی، لیکن ان سے معمولی پوچھ گچھ بھی نہیں ہو ئی۔ اسی طرح شاہین باغ میں جب کہ کوئی غیر قانونی قبضے نہیں تھے لیکن بلدی عہدیدار بلڈوزر کے ساتھ آ گئے تاکہ مسلمانوں کی دکانوں کو تباہ تاراج کر دیں۔ یہ تو شاہین باغ کے جواں مردوں کا کارنامہ تھا کہ فاشسٹ طاقتیں اپنے منصوبے میں ناکام ہوگئیں اور مسلمانوں کی جائیدادیں محفوظ رہیں۔ 2019میں شاہین باغ میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جو احتجاج منظم کیا گیا تھا اس کی یاد پھر ایک بار تازہ ہوگئی۔ بی جے پی حکومت کو اسی بات کا غصہ ہے کہ شاہین باغ کے احتجاج سے سی اے اے اور این آر سی پر سے پردہ اٹھ گیا اور عالمی سطح پر یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ ان سیاہ قوانین کا مقصد ہندوستان سے مسلمانوں کو نکالنا ہے۔ان دگرگوں حالات میں جب کہ مسلمانوں پر تابڑ توڑ حملے ہو رہے ہیں، مسلمانوں کو ہمت سے کام لینا چاہیے اور کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ دشمن یہی چاہتا ہے کہ مسلمان اپنا حوصلہ کھو دیں اور پست ہمت ہوکر دشمن کے سامنے ہتھیارڈال دیں۔ موجودہ حالات انتہائی سنگین ہیں لیکن ہمیں ڈٹ کر ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے اور ملک کے انصاف پسند اور جمہوریت نواز طاقتوں کو ساتھ لے کر ان فسطائی طاقتوں کے خلاف صف بستہ ہونا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ملک کو بھی خطرناک بحران میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہر ظلم کے خلاف جمہوری انداز میں احتجاج کرتے ہوئے مسلمان اپنے دستوری حقوق کا مطالبہ کرنے سے پیچھے نہ ہٹیں کیوں کہ اس ملک پر مسلمانوں کا بھی اتناہی حق ہے جتنا دوسروں کا حق ہے، یہ حق کوئی چھین نہیں سکتا۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button