بنگال میں سرکاری زمینوں پر قائم مذہبی عمارتیں ہٹانے کی ہدایت

حکومت کے رہنما خطوط میں سرکاری زمین پر بنائے گئے غیر قانونی مندروں یا مزاروں کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ تعمیرات کے مفاد عامہ کے منصوبوں میں رکاوٹ ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال حکومت نے اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ کوہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری زمین پر تعمیر مذہبی عمارتوں کو جلد سے جلد خالی کرائی جائے۔

ریاستی سیکریٹریٹ نوبنو کی جانب سے آٹھ اضلاع کے منتظمین کو ‘مقبوضہ اراضی کی بازیابی کے لیے رہنما خطوط بھیجے گئے ہیں۔

ہدایات کے مطابق ڈھانچہ ہٹا کر رپورٹ نوبنو کو بھیجنے کی بھی ہدایت دی ہے گئی ہے۔ ان اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ کورپورٹ 18 فروری تک بھیجنی ہوگی۔

حکومت کے رہنما خطوط میں سرکاری زمین پر بنائے گئے غیر قانونی مندروں یا مزاروں کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ تعمیرات کے مفاد عامہ کے منصوبوں میں رکاوٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سڑک کو چوڑا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے یہ ہدایات علی پور دوار، مشرقی مدنا پور، شمالی 24 پرگنہ، مشرقی بردوان، دارجلنگ، جنوبی دیناج پور، کوچ بہار اور کالمپونگ کے ضلع کلکٹروں کو بھیجی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ اگرچہ ممتا بنرجی کی حکومت میں مذہبی ڈھانچے کو ہٹانے کی یہ ہدایت دی جارہی ہے، لیکن یہ پالیسی بائیں بازو کے دور میں ہی متعارف کرائی گئی تھی۔

2010 میں، حکومت نے اس سلسلے میں ایک گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں ‘عوامی مقامات سے مذہبی عمارتوں کو ہٹانے کی پالیسی بنائی گئی تھی۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button