بنگلہ دیش میں پرتشدد واقعات، محمد فیض کو جیل کی سزا

عہدیداروں نے بتایا ہے کہ محمد فیض نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ عوام کو اکسایا جس کے بعد ملک میں فرقہ ورانہ تشدد پھوٹ پڑا۔ یہ واقعات اس ماہ کے اوائل میں پیش آئے۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں شرپسندوں اور انتہاپسندوں کے خلاف کاروائیوں میں تیزی پیدا کی جارہی ہے تاکہ ملک میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔

حال ہی میں ملک میں پیش آئے فسادات کے بعد حکام نے کہیں زیادہ چوکسی اختیار کرلی ہے۔

سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ محمد فیض جن کے خلاف بنگلہ دیش کی ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ (ڈی ایس اے) کے تحت کاروائی کی جارہی ہے انہیں جیل بھیج دیاگیاہے۔

عہدیداروں نے بتایا ہے کہ محمد فیض نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ عوام کو اکسایا جس کے بعد ملک میں فرقہ ورانہ تشدد پھوٹ پڑا۔ یہ واقعات اس ماہ کے اوائل میں پیش آئے۔

سینئر جوڈیشیل مجسٹریٹ نے جمعہ کو فیض کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔جس کے بعدانہیں جیل کی سزا سنائی گئی۔ یہ بات خان محمد رضوان نے بتائی جو کہ سی آئی ڈی کے پولیس عہدیدار ہیں۔

پولیس کے عہدیدار خان محمد رضوان نے خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس کے نمائندہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔

پولیس کے عہدیدار نے مزید بتایا ہے کہ اگرچیکہ محمد فیض کو گرفتار کرلیاگیاہے اور اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہے ہیں کہ آیا اس شرپسندانہ کاروائی میں مزید کتنے افراد ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں سمجھاجاتاہے کہ ٹکنالوجی کا بھی استعمال کیاگیا۔ 17اکتور کو مذکورہ کیس کو پولیس سے سی آئی ڈی کے حوالے کردیاگیا۔ عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے محمد فیض کو جیل کی سزا سنائی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button