بنگلہ دیش میں یونیورسٹی کے 20 طلبہ کو سزائے موت

طالب علم ابرار فہد کو حکمران جماعت عوامی لیگ کے طلبہ ونگ کے 25 اراکین نے 6 گھنٹے تک کرکٹ کے بلے اور دیگر اشیا سے مارا۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے چہارشنبہ کو یونیورسٹی کے 20 طالب علموں کو 2019 میں سوشل میڈیا پرحکومت پر تنقید کرنے والے نوجوان کے وحشیانہ قتل کے الزام میں سزائے موت سنادی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق 21 سالہ ابرار فہد کی مسخ شدہ لاش ان کی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اس وقت ملی جب اس نے ایک فیس بک پوسٹ لکھی جس میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کو بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاہدے پر دستخط کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

طالب علم ابرار فہد کو حکمران جماعت عوامی لیگ کے طلبہ ونگ کے 25 اراکین نے 6 گھنٹے تک کرکٹ کے بلے اور دیگر اشیا سے مارا۔

فہد کے والد برکت اللہ نے فیصلے کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں فیصلے سے خوش ہوں، مجھے امید ہے کہ سزائیں جلد مل جائیں گی۔‘پراسیکیوٹر عبداللہ ابو نے بتایا کہ باقی 5 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button