بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ و ر پیدا

خان ضیا

صرف 27 سکنڈ کی ایک ویڈیو کلپ نے ہندوستانی مسلمانوں پر چھائی ہوئی مایوسی ، بے بسی اور پژ مردگی اور خوف کی کیفیت کو ایک ہی جھٹکہ میں ختم کردیا۔ ریاست کرنانک سے تعلق رکھنے والی 19سالہ مسلم طالبہ مسکان خان نے اپنے ایک رد عمل سے ساری دنیا میں دھوم مچادی۔قوم کی مظلومیت کا رونا رونے والے نام نہاد مسلم سیاسی قائدین اپنی سیاسی قیادت کو تسلیم کروانے کی کوشش میں اپنی ہی قوم کو کوستے رہ گئے۔ سیکولرازم کے نام نہاد محافظ اپنی سیاسی دوکان چمکاتے رہ گئے۔ بڑے بڑے قائدین ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ایک سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت پر زور دیتے رہ گئے ، لیکن ایک اکیلی لڑکی نے لمحوں میں خود اپنا پلیٹ فارم بنا ڈالا وہ لڑکی جو نا تو کسی تنظیم سے وابستہ ہے اور نا ہی اسے کسی قیادت اور رہنما کی مدد حاصل ہے۔مسکان نے اپنی دانش مندی اور اپنے جذبہ ایمانی کا فطری مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ اکبر کا جو نعرہ لگایا ،وہ آج ساری دنیا میں گونج رہا ہے۔یقینا اللہ بڑا ہے اور اللہ ہی بڑا ہے ۔ اس احساس کو جگاکر مسکان نے عا لم اسلام کی نئی نسل کے اندر ایک نئی روح پھونکی ہے۔ مسکان نے ایک سبق قوم تک پہنچایا ہے کہ مشکل حالات میں صرف اللہ کو پکارو ۔کوئی پارٹی آپ کی مدد نہیں کرسکتی، کوئی سیاست دان آپ کی مدد کو نہیں آئے گا۔ مسکان کے رد عمل کے بعد ایسا لگا جیسے ٹیپو سلطان کاوارث پیدا ہوگیا ہے ۔ اس بات کا احساس ہونے لگا کہ دور جدید کی رضیہ سلطان اور چاند بی بی نے آخر کار جنم لے لیا ہے۔ اچانک مردہ دلوں میں جان پیدا ہوگئی ۔ ایک بے باکانہ اور فطری رد عمل نے ہندوستانی ریاست کرناٹک کی ایک بہادر مسلم طالبہ کو ہندوستانی مسلمانوں کی نئی نسل کا آئیڈیل بنادیا۔ سارے خود ساختہ قائدین آج اس بہادر لڑکی کے ساتھ فون پر بات کرکے اپنی قیادت کا قد اونچا کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں ۔ اس لڑکی نے ساری دنیا کے مسلمانوں کا دل جیت لیا۔ یہاں پر میںان واقعات کو دہرانا نہیں چاہتا لیکن ان واقعات کی سنگینی اور تیز رفتاری کے باوجود ایک غیر متوقع اور پریشان کن صورت حال میںاس لڑکی کے قوت فیصلہ اور مناسب ردعمل کی داد دینا چاہتا ہوں ۔ انتہائی بے باکانہ ، دانش مندانہ ، نپا تلا اور محتاط ردعمل جس میں نا تو کوئی کمی تھی اور نہ ہی زیادتی، ایسے ماحول میں جب مخالف سمت سے بد تمیزی اور ظلم اور زیادتی کا طوفان اٹھ رہا ہو ایک اکیلی لڑکی چالیس پچاس فرقہ پرست جنونیوں کے گھیرے میں ہو تو ان حالات میں اپنے حواس برقرار رکھنا ہی دشوار ہوجاتا ہے، لیکن مسکان نے نہ صرف اپنے حواس کو برقرار رکھا بلکہ صرف ستائیس سیکنڈ کی صورت حال سے بڑی ہی کامیابی کے ساتھ نمٹ کر دکھادیا۔ شائد ایک منجھا ہوا سیاسی قائد بھی اس صورتحال سے اتنی مہارت سے نمٹ نہ سکے۔ مسکان بیک وقت اپنا دفاع بھی کررہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے حقوق کی لڑائی بھی لڑرہی تھی ۔ مسکان نے نہ تو صبر کا دامن ہاتھ سے جانے دیا اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی پہل کی جس کی وجہ سے بعد میں اس پر یہ الزام عائد کیا جاسکے کہ مسکان کی اس حرکت کے رد عمل میں یہ کچھ ہوا بلکہ مسکان نے صرف اپنا رد عمل ظاہر کیا ۔ اس لڑکی کی دور اندیشی تو دیکھئے وہ احتجاج بھی درج کروارہی تھی، میڈیا کو اپنا مدعا بھی بتارہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے پرنسپل کی ہدایات پر بھی عمل کرتی جارہی تھی ۔ مسکان کی یہی وہ ادائیں ہیں جو تمام ناظرین کو اس کا گرویدہ بنادیتی ہیں۔ مسکان نے اتنا ہی رد عمل دکھایا جتنا اسے دکھانا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج نہ صرف مسلم لڑکیوں بلکہ غیر مسلم لڑکیوں کے ایک بہت بڑے طبقہ کی آئدیل بن گئی ہے۔ گودی میڈیا نے مسکان کی اس ویڈیو کے اندر منفی پہلو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی ہوگی، لیکن وہ اس ویڈیو میں کچھ بھی منفی پہلو تلاش نہ کرسکی ۔ اگر بالفرض مسکان نے اللہ اکبر کا نعرہ پہلے لگایا ہوتا تو شائد ساری گودی میڈیا اسی بات کو ثابت کرنے پر زور لگاتی کہ اگر مسکان نے اللہ اکبر نہ کہا ہوتا تو سری رام کا نعرہ بھی نہیں لگتا، لیکن گودی میڈیا کو ایسی بے تکی باتوں کا بھی موقع نہ مل سکا۔
بظاہر تو مسکان کا رد عمل انتہائی مختصر اور فطری تھا لیکن اس رد عمل کے زبردست مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اس رد عمل کا سب سے مثبت نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ مسکان کے رد عمل سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ صنف نازک ہونا کوئی کمزوری نہیں ہے اور اپنے حقوق کی خاطر ڈٹ جانا ناممکن نہیں ہے۔ حقوق کی لڑائی کے لیے ایک بہت بڑے پلیٹ فارم کی ضرورت نہیں بلکہ حقوق کی لڑائی انفرادی طور پر اپنی سطح پر بھی لڑی جاسکتی ہے۔ گزشتہ سات برسوں میں ہم نے دیکھا موب لنچنگ کے نام پر مسلم نوجونوں اور بزرگوں پر جو حملے ہورہے تھے ، لوگوں میں اس قدر خوف پیدا ہوگیا تھا کہ اپنا بچاﺅ کرنا اور مزاحمت کرنا تو دور کی بات لوگ حملہ آوروں کی منت سماجت کرتے ہوئے اور ہاتھ جوڑتے ہوئے نظر آرہے تھے ۔مسکان نے یہ ثابت کردیا کہ اگر جذبہ ایمانی ہے تو ایک لڑکی بھی پچاسیوں لڑکوں پر بھاری ہوسکتی ہے۔ مسکان کے واقعہ کے بعد اب فرقہ پرست جنونیوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر صنف نازک کی طرف سے بھی جواب آسکتا ہے ۔ مسکان کے واقعہ میں یہ پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ اب اقلیتی طبقہ مظلوم اور تماشائی بنا نہیں رہے گا۔ مسکان پر حملہ کے ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اکثریتی طبقہ کے سنجیدہ اور سیکولر مزاج لوگوں کو بھی اس بات کا شدت سے احساس ہونے لگا کہ ایک اکیلی لڑکی پر فرقہ پرست جنونیوں کا حملہ کس طرح کی شرم ناک حرکت ہے۔ اس واقعہ سے اکثریتی فرقہ کے باشعور لوگوں کا سر شرم سے جھک گیا یہی وجہ ہے کہ سوشیل میڈیا پر بیشتر ہندوﺅں نے ایک اکیلی لڑکی پر فرقہ پرست جنونی حملہ آوروں کی مردانگی پر سوال اٹھایا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بیشتر ہندوﺅں کو سوشیل میڈیا پر ایسے پوسٹ بھیجتے دیکھا گیا جس میں سوال کیا گیا ہے کہ خواتین کے ساتھ بد تمیزی کرنا کہاں کا ہندوتوا ہے۔ خواتین کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنے ہندو مذہبی تعلیمات کا حوالہ دینے والے پوسٹ بھی سوشیل میڈیا پر نظر آئے ۔ اس واقعہ کے بعد یہ بحث بھی چل پڑی ہے کہ جئے شری رام کا نعرہ لگانا اگر جائز ہوتو پھر اللہ اکبر کے نعرہ کا بھی جواز بنتا ہے ۔ بہرحال مسکان کے ردعمل کے نتیجہ میں جو بحث چل پڑی ہے، اس میں زیادہ ترحجاب کی حمایت میں بیان بازی نظر آتی ہے جو ایک مثبت پہلو ہے۔
یہ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن ایک حقیقت جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہ یہ ہے کہ اگر حجاب کو عام کریں گے تب ہی حجاب کا تحفظ کیا جاسکے گا ۔ اگر مسلم لڑکیاں ہی حجاب کو چھوڑنے لگیں تو یہ جواز رکھا جاتا رہے گا کہ چونکہ ساری مسلم لڑکیاں حجاب نہیں پہنتی اس لیے شائد یہ حجاب ضروری نہیں بلکہ اختیاری ہوگا ۔ شائد اسی بنا پر بعض غیر مسلم لوگ حجاب کی مخالفت کی تائید کرتے نظر آتے ہیں ۔وہ ایسی مثالیں دیتے ہیں کہ فلاںاسلامی ملک کی خواتین حجاب کی پابندی نہیں کرتیں یا فلاں علاقے میں مسلمان خواتین بغیر حجاب گھومتی ہیں ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرہ میں حجاب کو فروغ دینے کی مہم چلائی جائے ۔صرف حجاب کی حمایت کافی نہیں ہے بلکہ اس کو اپنایا جائے ۔اگر اسی فیصد مسلم لڑکیاں حجاب کو اپنائیں تو پھر یہ مسلم معاشرہ کا اہم جزو نظر آنے لگے گا۔ بعض لوگ اس موقع پر یہ تجاویز پیش کرتے نظر آرہے ہیں کہ مسلم اداروں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنا چاہیے تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ہزاروں مسلم تنظیمیںاپنے تعلیمی ادارے چلاتی ہیں جہاں مسلم ہی نہیں بلکہ کئی غیر مسلم طالبات بھی سب کے ساتھ حجاب پہنتی ہیں۔ ہمیں حجاب صرف مسلم تعلیمی اداروں تک محدود رکھنا نہیں ہے بلکہ ان تمام تعلیمی اداروں میں حجاب کو فروغ دیناہے جہاں مسلم طالبات کی خاصی تعداد پڑھتی ہے۔
ایک اور بات جو موجودہ حالات میںضروری ہے، وہ یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں مسلم طلباءاور طالبات غیر مسلم طلباءو طالبات کے ساتھ شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے نہ صرف دوستانہ تعلقات قائم کریں بلکہ ان کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرتے ہوئے یہ تاثر قائم کریں کہ مسلم طلباء غیر مسلم طلباء کے دشمن نہیں ہیں۔مسلم طلباءاور طالبات ہندوﺅں کی روایات کا احترام کرتے ہیں ۔ ایک اچھا مسلم طالب علم ہمیشہ انسانیت کا نمونہ ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ سے دوسروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔مسلم طلباءتعلیمی اداروں میں کبھی بھی دوسرے مذاہب کے عقائد پر سر عام تنقید کرنے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھنے جیسے اقدامات سے خود کو بچائیں۔ خود ہم بھی تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ لوگ ہمارے عقائد کی قدر کریں۔ یہاں میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ آپ خود کے عقائد کو دوسروں کے عقائد کے ساتھ خلط ملط کردیں یا آزاد خیالی اور روشن خیالی کے نام پر خود اپنے عقائد سے دور ہوجائیں ۔
مسکان کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے فوری بعد ہندوستان اور بیرون ملک کے سیکڑوں چیانلس نے مسکان سے انٹرویو کے دوران انتہائی چالاکی سے یہ دریافت کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے غیر مسلم ساتھی طالبات اور ٹیچرس کے بارے میں اپنے کیا خیالات رکھتی ہیں۔ مسکان نے ان سوالات کے جواب میں کہا کہ وہ تمام اس کی رہنمائی اور مدد کررہے تھے اور یہ کہ وہ احتجاج کرنے والے طلباءکے خلاف کوئی کارروائی نہیں چاہتی، وہ تو بس اپنے حجاب کا حق چاہتی ہیں ‘اس قسم کے جوابات نے اکثریتی طبقہ کے غیر جانبدار طبقہ کو یقینا متاثر کیا ہوگا۔ یہاں تک کہ بعض چیانلس نے پڑوسی ملک کے اس پورے معاملہ میں مداخلت کا جو سوال کیا، اس پر بھی مسکان کا جواب شاندار رہا جس کے بہت دور رس نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ بہرحال حقوق کی لڑائی ہمت اور حوصلہ کے ساتھ لڑنی ہے، لیکن اعتدال اور ہوش مندی کے ساتھ ۔

تبصرہ کریں

Back to top button