بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے‘ پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو

مولانا محمد ممشادعلی صدیقی

اللہ رب العالمین نے دنیا کو بناکر اس میں انسان کو آباد کرتے ہوئے جینے کا طریقہ بتایا اور اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ کس طرح زندگی گزاریں گے تو دنیا ہی میں نہیں بلکہ آپ کیلئے جو اخروی زندگی رکھی گئی ہے اس میں اپنے مالک کا خوشنودی اور قربت حاصل ہوگی جس کے بعد آپ کامیاب وکامران زندگی خوش وخرم گزارسکیں گے اور آپ کو ابدالآباد مقام جنت عطا کیا جائے گا

 جہاں ہمہ اقسام کے انسان کیلئے من چاہی اشیاء رکھی گئی ہے جس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دنیاوی تمام کلفتوں اور مشقتوں کو یک لخت بھول جائیں گے اور یہ محسوس کریں گے ہم نے کوئی تکلیف‘ دشواریوں اور ہزیمت کا سامنا کیا ہی نہیں ہے۔ اس انسان کیلئے جس کو اشرف المخلوقات کے خطاب سے نوازا گیا ہے کی اصلاح اور رضائے الٰہی والے اعمال کو کس طرح اختیار کیا جائے اور اس کے طریقہ کار کیا ہوں گے سمجھانے کیلئے انبیاء کرام علیہم السلام کو ہر زمانہ میں مبعوث کرتے رہے۔

 تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے مالک حقیقی سے احکام پاتے ہوئے اپنے دور کے اولاد آدم کو بتاتے رہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے کیا چاہتے ہیں اور کس طرح زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جس نے مانا اس کے لئے مژدہ سنایا گیا کہ یہ کامیاب ہوا۔ انسان کو مشیت الٰہی پر چلنے کیلئے اور شیطانی نرغہ سے محفوظ رکھنے کیلئے ‘انسان کا ازلی دشمن شیطان ہے کیونکہ وہ اول دن سے ہی اپنی دشمنی نبھانے میںکوئی موقع جانے نہیں دیتا ہے۔

جب آپ تقویٰ والی زندگی گزارتے ہیں تو وہ اپنے چال میں ناکام ہوجاتاہے ۔تقویٰ کی راہ اختیار کرنے کا تقاضہ آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تک چلتے رہے اور وقوع قیامت تک یہ تقاضے کا سلسلہ جاری رہیں گے اور اللہ کے مخصوص بندے اس طرح اللہ کے احکام کی روشنی میں رہنمائی کرتے رہیں گے۔ قرآن وحدیث کی متعدد نصوص سے تقویٰ کی شان وعظمت اور قدرومنزل اجاگر ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا تمام انسایت کو حکم تقویٰ جس کی وضاحت قرآن وحدیث سے ہوتی ہے جس میں انبیاء علیہم السلام کو دعوت تقویٰ دینے کا حکم الٰہی، سابقہ انبیاء کا دعوت تقویٰ دینے کا اہتمام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوت تقویٰ کیلئے اہتمام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ سے تقویٰ کا سوال کرنا، قرآن کریم میں ایسی ایسی آیتیں جس کے تلاوت سے اور اس میں غور فکر کرنے سے انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور وہ تقویٰ والی راہ پر چل پڑتا ہے،

 کیونکہ بیان آیات کا مقصود لوگوں کو متقی بنانا، نیکی کا صرف متقیوں سے قبول کیا جانا، تقویٰ کا مقصود عبادت ہونا، ہدایت کا متقیوں کے ساتھ خاص ہونا، بہترین زادراہ تقویٰ، بہترین لباس تقویٰ، توانگری اور صحت کی خیر کا تقویٰ کے ساتھ مشروط ہونا، صرف متقیوں کو کھانا کھلانے کا حکم، تقویٰ کا عزیمت والے کاموں سے ہونا۔

اللہ تعالیٰ کا تمام انسانیت کو حکم تقویٰ۔ یہ سب باتیں انسانی عقلوں کو دائرہ اسلام میں لاتے ہوئے ان کی زندگی کو صحیح رخ دینا اور ان کی پیدائش کا مقصد کہ ہم نے انسانوں اور جنوں کو نہیں پیدا کیا مگر اپنی عبادت کیلئے، واضح کر رہاہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اسی حکموں پر عمل کیاجائے اور تقویٰ والی زندگی سے یہی چاہا جاتاہے کہ ایک انسان اپنی حقیقت کو سمجھ کر رب کے آگے سرنگوں ہوجائے اور پھر وہ معیار حاصل کرلے جس کا یہ مستحق ہے۔

 تقویٰ کی اہمیت پر دلالت کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے تمام انسانیت کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔جب آپ کلام الٰہی کو بغور پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ پہلے پچھلے لوگوں کو تقویٰ کا حکم کس طرح دیا گیا ہے کہ اللہ عز وجل نے ارشاد فرمایا:

 ولقد وصینا الذین اوتوا الکتٰب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ ’’

اور یقیناً ہم نے ان لوگوں کو جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں بھی وصیت کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ علامہ شوکانی اپنی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں کہ ہم نے ان پر جو کتاب نازل کی، اس میں انہیں حکم دیا اور الکتاب میں لام جنس کیلئے ہے۔

(ان اتقوا اللہ)

یعنی ہم نے انہیں اور تمہیں تقویٰ کا حکم دیا۔ من قبلکم یعنی ہم نے تمہیں اور انہیں سب کو تقویٰ کی وصیت کی ہے۔ مراد یہ ہے کہ تقویٰ کا حکم کوئی نئی بات نہیں ہے کہ صرف امت مسلمہ کو اس کا مکلف بنایا جارہا ہے بلکہ یہ سلسلہ تو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوںکو ہمیشہ سے اس بات کی وصیت کی ہے۔ مراد یہ ہے کہ تقویٰ کا حکم قدیم سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہمیشہ سے اسی بات کی وصیت فرماتے رہے ہیں۔

تقویٰ کا حکم صرف تمہارے لئے ہی نہیں بلکہ سب لوگوں کیلئے ہے کیونکہ وہ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے روبرو سرخرو ہوتے ہیں۔اس بات سے بخوبی محسوس کیا جاتاہے کہ اللہ کے برگزیدہ بندے پیغمبر علیہم السلام جن کی زندگی کی ابتداء ہی رب کی رضا والی حالت میں رہتی ہے کیونکہ اللہ جس کو اپنا بنانا چاہتے ہیں تو شروع دن سے ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

 یوسف علیہ السلام کو اپنا پیغمبر بنانا مقصود ہوا تو تمام بے حیائی کی آلائشوں کو محفوظ رکھتے ہیں جبکہ ان کے بہکانے اور پھسلانے کیلئے وقت کی ملکہ کوشش کرتی ہے مگر اللہ بے راہ روی کے تمام لذات مہیا ہونے کے باوجود حفاظت فرماتے ہیں اور وقت کا پیغمبر بناکر دنیا والوں کیلئے ایک مثال بنایا کہ خوف الٰہی جب کہیں پیدا ہوجاتا ہے تو کوئی طاقت ان کو رب کی بندگی سے نہیں روسکتی اور یہ تقویٰ والے اعمال سے انسان کو ملتا ہے۔

 اللہ مالک کل نے عام انسانوں کو کیا اپنے تمام پیغمبروں کو تقویٰ کرنے کا حکم دیا۔ اللہ کریم نے فرمایا:

یایھاالرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم، وان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاتقون۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام پیغمبروں کو تین باتوں کا حکم دیا: پاکیزہ چیزیں کھانے کا، نیک عمل کرنے کا، تقویٰ اختیار کرنے کا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسولوں کو دئیے گئے احکامات کی اہمیت وعظمت چنداں محتاج بیان نہیں۔ ہر رسول کو اس کے زمانے میں ندا دی گئی اور مخاطب کیا گیا کیونکہ وہ سب ایک زمانے میں یکجا موجود نہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم تقویٰ دیا گیا ہے۔

 تقویٰ ایک ایسا در نایاب ہے جس کو پانے کیلئے ہر شخص کو کوشش کرنا ہی پڑے گا۔ تقویٰ کی اہمیت وعظمت کو اجاگر کرنے کیلئے صرف یہی ایک بات بہت کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ: ’’اے نبیؐ آپ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیجئے اور کافروں اور منافقوں کی پیروی نہ کیجئے۔

 بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے بڑی حکمت والے ہیں‘‘۔ اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرکے ادنیٰ امت کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول کو اس بات کا حکم دے رہے ہیں تو ان سے کم درجہ والوں تو اس حکم کی تعمیل بطریق اولیٰ ہوگی۔امہات المؤمنینؓ جو پاکیزگی اعلیٰ مقام پر فائز ہیں اور اس کے مقام کو دنیا کی کوئی دیگر خواتین نہیں پہنچ سکتیں۔

 ان کو بھی تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین وتعلیم دی گئی ہے۔ رب کائنات نے تقویٰ کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیویوں کو بھی دیا۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو ،بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں۔ اہل ایمان جو اللہ کے یہاں خیر امت کا مقام رکھتے ہیں ان کو بھی حکم دیتے ہیں کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مرتبہ ایمان والوں کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ’’اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اس کا تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے۔ اور تمہاری موت آئے تو اسلام پر‘اسی طرح اس آیت مبارکہ میں تقویٰ اختیار کرنے کیلئے کہا گیا:

’’اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل یعنی روز قیامت کیلئے کیا تیاری کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ جو تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے خوب باخبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی ایک مقام پر لوگوں کو تقویٰ والی عمل اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ’’

اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور ان لوگوںکو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم متقی بن جائو‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا اور ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلادیا اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قطع رحمی سے بچو۔

 بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے پچھلے لوگوں، رسولوں، خاتم الرسل ﷺ ، آپ کی ازواج مطہرات ،اہل ایمان اور تمام انسانوں کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بات بلاشبہ تقویٰ کی شان وعزت اور اہمیت کو خوب نمایاں کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی شان بڑی نرالی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہمیشہ صحیح اور منشاء الٰہی والے اعمال کا خوگر دیکھنا چاہتے ہیں جس کیلئے اپنے مقرب بندوں کو استعمال کرتے رہے ہیں ۔

انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی دعوت تقویٰ دینے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ نرالی شان ان کی زندگی میں داخل ہوتے ہوئے یہ اس بات کو خوگر ہوجائے کہ اللہ ایک ہے ان کی شان نرالی ہے اور دلوں میں خوف خدا جاری وساری رہے کیونکہ تقویٰ کی شان ہی بڑی باعظمت ہے۔

 تقویٰ کی شان عظمت کو نمایاں کرنے والی باتوں میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام اور خاتم النبیینؐ کو اپنی اپنی امتوں کو تقویٰ کی دعوت دینے کا حکم دیا ہے۔ اس بارے میں کلام الٰہی ہمیں پکار پکار کا مژدہ سناتا ہے کہ

ینزل الملٰئکہ بالروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ ان انذروا انہ لا الٰہ الا انا فاتقون ۔

جس کا ترجمہ ہے کہ ’’وہ اپنے فیصلہ کے مطابق فرشتوں کو وحی دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتے ہیں نازل فرماتے ہیں اور انہیں حکم دیتے ہیں کہ (لوگوں کو اس بات سے) آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، پس تم میرا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ کے حکم کو پاکر انبیاء کرام علیہم السلام نے تقویٰ کی دعوت دینے کے اہتمام کو جاری وساری رکھا تاکہ منشائے الٰہی پورا ہوسکے اور مخلوق خدا اپنے رب کی خوشنودی کو پانے والا بن جائے اور یہ فانی دنیا میں رہتے ہوئے وہی راہ اختیار کرنے والا بنارہے۔

اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا اس کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی اپنی قوموں کو تقویٰ کی دعوت دی۔ توفیق الٰہی کے بغیر تو کچھ ہوتا نہیں۔ مشہور ومعروف نبی حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اپنے مالک حقیقی کے طرف راغب کیا جس پر ان کی قوم نے ان کو جھٹلایا حتی کہ ان کی بیوی، بیٹا نے بھی جھٹلایا مگر نوح علیہ السلام نے پھر بھی ان کو تقویٰ اختیار کرنے کی تعلیم دی۔

جیسا اللہ تعالیٰ ان کے تعلق سے ارشاد فرماتے ہیں کہ نوح علیہ السلام کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا، جب کہ ان کے بھائی نوح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے؟بلاشبہ میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں۔سوتم تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور میری اطاعت کرو،میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا۔ میرا اجر صرف رب العالمین کے ذمہ ہے۔ پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔اسی طرح ہود علیہ السلام نے بھی قوم عاد کو راہ راست پر لانے کی حتی القدور کوشش کی اور تقویٰ کی تعلیم دی،حضرت صالحٓ نے اپنی سے فرمایا ’’کیا تم متقی نہیں بنتے؟

 بلاشبہ میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں۔ سو تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رب کریم کا حکم پاکر اپنی قوم کو معبودان باطل سے تعلقات قطع کرتے ہوئے رب حقیقی کی فرمانبرداری اور تقویٰ کی روش اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم کو پیغمبر بناکر بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا ’’تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ان کا تقویٰ اختیار کرویہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو۔ اس طرح دیگر تمام انبیاء نے بھی قوم کو تقویٰ کی زندگی گزارنے کیلئے تیار کرنے کی ہمیشہ فکر مند رہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوت تقویٰ نمایاں ہے کہ آپ رب رئوف ورحیم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کثرت سے تقویٰ کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ ایک موقع پر تقویٰ کے تعلق سے شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ’’ حقیقی زاد راہ جس کا نفع اپنے مالک کیلئے دنیا وآخرت میں جاری رہتا ہے وہ تقویٰ ہے۔

وہ ہی ہمیشہ ٹھہرنے والی جگہ کا زاد ہے اور وہ ہی کامل ترین لذت اور جلیل القدر دائمی نعمتوں تک پہنچانے والا ہے۔ جس شخص نے اس زاد کو چھوڑا، وہی سفر خرچ سے محروم، ہرشرکا نشانہ اور دار المتقین (جنت) میں جانے سے روکا گیا ہے اور یہ بات تقویٰ کی اہمیت اجاگر کرتی ہے‘‘۔حضرت عرباضؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں انتہائی موثر وعظ فرمایا کہ اس کی بنا پر آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور دل ڈرگئے۔

ایک شخص نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ الوداع کرنے والے کی نصیحت ہے۔ آپ ہمیں کس بات کی ذمہ داری سونپتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں تمہیں تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتاہوں اور سمع وطاعت کی اگرچہ امیر حبشی غلام ہو۔ تقویٰ کے تعلق سے حضرت ابوامامہؓ  سے ایک حدیث منقول ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا: تم اپنے رب تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔

اس طرح مذہب اسلام ہم کو تقویٰ کی تعلیم کے ذریعہ مقصود الٰہی حاصل کرنے کیلئے تیار کرکے جنت کا حقدار بننے کا مستحق بناتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف متقی لوگوں ہی کی نیکی قبول فرماتے ہیں۔ ہمارے لئے مثال ہے کہ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل اور قابیل نے اللہ کے نذرقربانی پیش کیا تو تقویٰ کی بنیاد پر پیش کیا گیا تھا اس کو قبول کئے۔

انما یتقبل اللہ من المتقین

(اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتے ہیں)۔ تقویٰ کو اللہ تعالیٰ نے بہترین زاد راہ قرار دیا ہے۔

وتزودوا فان خیر الزاد التقویٰ،واتقون یا اولی الاباب

(اور زاد راہ لو، بلاشبہ زاد راہ تقویٰ ہے اور اسے عقل مند میرا تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ کواللہ تعالیٰ نے بہترین لباس قراردیا ہے،بندے کیلئے توانگری اور صحت صرف اسی حالات میں بھلائی اور خیر ہے جب کہ وہ دولت تقویٰ سے بہروہ ور ہو۔تقویٰ کے اہمیت وقدر کا اس بات سے بھی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس بات کی تاکید فرمائی کہ وہ اپنا کھانا صرف متقی کو کھلائیں۔

آپؐ نے فرمایا جس کے راوی حضرت ابو سعیدؓ ہیں کہ لاتصاحب الا مومنا،ولایاکل طعامک الا تقی’’تم صحبت اختیار نہ کرو مگر مومن کی اور تمہارا کھانا نہ کھائے مگر متقی‘‘۔ علامہ خطابیؒ نے ایسے مواقع کی مناسبت سے ارشاد فرمایا کہ غیر متقی لوگوں کو بطور دعوت کھلانے سے منع کیا گیا ہے۔ انہیں ضرورت وحاجت کی بناپر کھلانے سے منع کرنا مقصود نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ’’اور وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں مسکین،یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔

تقویٰ والی زندگی ہم کو کس طرح حاصل ہوگی، جن کے فوائد بے شمار ہیں، اس کیلئے ہم کو چاہئے کہ ہم قرآن وحدیث کی روشنی میں شب وروز بتائیں۔ جیسا کہ اللہ کے کلام متلوا قرآن مجید اور وحی غیر متلوا احادیث مبارکہ اور صحابہ کرامؓ کے اقوال وآداب بجالانا ،فرضیت تقویٰ کو پیش نظر رکھنا، برکات تقویٰ اور تقدیر پر ایمان لانا،راہ ہدایت پر آنا، سبیل اللہ کی اتباع اور دیگر راہوں کو ترک کردینا،عبادت کرنا، روزے رکھنا، ہر معاملہ میں عدل کو ملحوظ رکھنا،لوگوں کے ساتھ عفوودرگذر کا معاملہ رکھنا، مشکوک چیز سے پرہیز کرنا بلکہ مشتبہ چیزوں کے قریب بھی جانے سے گریز کرنا، ترک کرنا۔

اللہ کے محبوب بندوں جیسے انبیاء، اولیاء، اتقیاء اور دیگر متقی حضرات کی سیرتوں کو پڑھتے ہوئے ان کو پیش نظر رکھنا، اللہ کے نیک بندوں کی صحبت اختیارکرنے کی فکر کرنا کہ صحبت صالح ترا صالح کند،دعائوں کی مجلسوں میں شرکت کرنا اور خود دعائوں کا کثرت سے اہتمام کرنا،ہمیشہ اس بات کی کوشش دامن گیر کرلینا کہ زبان سے کچھ نہ کچھ خیر والی الفاظ ادا کرتے رہنا اوردوسروں کو تلقین کرتے رہنا اور مختلف راہیں ہیں جس کو وقت کے متقیوں سے سیکھنے کی فکر دامن گیر رکھیں۔

 یہ سارے طریقہ آپ کو تقویٰ والی راہوں پر قائم ودائم رکھے گا اوراللہ تعالیٰ کی محبت آپ کے ساتھ شامل حال رہیں گے۔ تقویٰ والی راہوں کے رہ گزر کیلئے رب کائنات کے پاس بے شمارثمرات اور خیروبرکات، انعامات واکرامات ہیں جن کا احاطہ کون کرسکتا ہے۔ کتاب وسنت سے چند فوائد ماخوذ ہیں جن کا یہاں تذکرہ بیجا نہ ہوگاکہ متقی کو اللہ تعالیٰ عزت وتکریم سے نوازتے ہیں جن کے اثرات دنیا میں بھی مرتب ہوتے رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کو اپنا محبوب رکھتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے شخصوں سے محبت کرتے ہیں، محبوب الٰہی ان کو حاصل رہتا ہے، اللہ کی معیت حاصل رہتی ہے، رحمت خاصہ پانے والوں کے صف میں شمولیت رہتی ہے، گناہوں کے دلدل سے محفوظ ومامون رہتا ہے۔

 اللہ اجر عظیم عطا فرماتے ہیں، فرقان ونور حاصل رہتی ہے، حاسدین کے حسد اور دشمنوں کے مکر سے بچا رہتا ہے، غم وہموم سے نجات ملتی ہے، غیبی طورپر اللہ رزق کا انتظامات فرماتے ہیں، زندگی میں ہونے والے کاموں کو بہتر طریقہ سے پائے تکمیل کو پہنچتی ہے۔ ہر جائز معاملہ میں آسانی پیدا ہوتی ہے، جہنم سے نجات ملے گی اور جنت میں مقام ملے گا بلکہ جنت کا وارث ہوگا، حصول فلاح اور اولاد کی حفاظت میسر ہوگی۔ مزید ثمرات وبرکات کا خزینہ حاصل رہیں گے۔ اللہ خیر کا معاملہ کرے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button