بی جے پی اب اردو زبان کا استعمال کرے گی

بی جے پی نے2024میں مقرر آئندہ پارلیمانی الیکشن سے پہلے اردوکوبھی مواصلاتی زبان کے طورپر استعمال کرنے کافیصلہ کیاہے تاکہ مسلمانوں بالخصوص پسماندہ طبقات تک رسائی حاصل کی جاسکے۔

نئی دہلی: بی جے پی نے2024میں مقرر آئندہ پارلیمانی الیکشن سے پہلے اردوکوبھی مواصلاتی زبان کے طورپر استعمال کرنے کافیصلہ کیاہے تاکہ مسلمانوں بالخصوص پسماندہ طبقات تک رسائی حاصل کی جاسکے۔

اس ساری مشق کا مقصدمدرسہ میں تعلیم یافتہ مسلمانوں تک پیغام پہونچاناہے جو صرف اردو لکھناپڑھنا جانتے ہیں۔ ذرائع کاکہناہے کہ بی جے پی اقلیتی مورچہ نریندرمودی حکومت کے کام کومسلمانوں تک پہونچانے اب اردو زبان کابھی استعمال کرے گا اور اس ضمن میں ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

باورکیاجاتاہے کہ مودی حکومت کی فلاحی اورترقیاتی اسکیمات کے بارے میں شعور بیدارکرنے سوشل میڈیا، پارٹی کے لٹریچر اورمیڈیاکی مہم میں اردو کااستعمال کیاجائے گا۔ اس پہل کامقصد اترپردیش،بہار اوردیگر ریاستوں کی کثیرآبادی کوسمجھانا ہے جو صرف اردولکھتے اورپڑھتے ہیں۔

فی الحال بی جے پی عوام تک رسائی کیلئے ہندی، انگلش اورعلاقائی زبانوں کااستعمال کرتی ہے۔بی جے پی اقلیتی مورچہ کے قومی میڈیاانچارج سید یاسرجیلانی نے آئی اے این ایس کوبتایاکہ آئندہ سے ہم ہندی،علاقائی زبانوں اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کابھی مواصلاتی زبان کے طورپراستعمال کریں گے۔

کئی لوگ خصوصاً بزرگ مسلمان صرف اردولکھتے پڑھتے ہیں اورہم اس زبان کااستعمال کرتے ہوئے ان کی پسندیدہ زبان میں ان سے بات چیت کرسکیں گے۔ جیلانی نے وضاحت کی کہ تمام سرکاری فلاحی پالیسیوں سے استفادہ کرنے والے شہریوں میں مسلمان بھی شامل ہیں۔اس کے بارے میں آگاہی پیداکرنے اردو زبان کااستعمال کیاجائے گا۔

تبصرہ کریں

Back to top button