بی جے پی قائدین‘ ملک کو ہر روز بانٹ رہے ہیں:سنجے راوت

شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے کہاکہ محمد علی جناح نے پاکستان بنانے کے لئے ملک کا صرف ایک بار بٹوارہ کیا تھا لیکن بی جے پی قائدین اپنی بیان بازی کے ذریعہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں دراڑ ڈالتے ہوئے ملک کو روزانہ بانٹ رہے ہیں۔

ناگپور: شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے منگل کے دن الزام عائد کیا کہ محمد علی جناح نے پاکستان بنانے کے لئے ہندوستان کو صرف ایک بار بانٹا تھا لیکن بی جے پی قائدین اپنے بیانات کے ذریعہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالتے ہوئے ملک کو روزانہ بانٹ رہے ہیں۔ ناگپور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے اُدھو ٹھاکرے کی پارٹی کو بی جے پی کی طرف سے ”جناب سینا“ قراردینے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں 22 کروڑ سے زائد مسلمان رہتے ہیں اور ان میں کئی نے بی جے پی اور شیوسینا کو ووٹ دیا۔

محمد علی جناح نے پاکستان بنانے کے لئے ملک کا صرف ایک بار بٹوارہ کیا تھا لیکن بی جے پی قائدین اپنی بیان بازی کے ذریعہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں دراڑ ڈالتے ہوئے ملک کو روزانہ بانٹ رہے ہیں۔ جناب سینا کے ریمارک پر بی جے پی پر پلٹ وار کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) نے راشٹریہ مسلم منچ جیسی کئی تنظیمیں مسلمانوں کے لئے قائم کی ہیں۔

 انہوں نے سوال کیا کہ آیا بی جے پی قائدین‘ آر ایس ایس کا نام بدل کر راشٹریہ مسلم سنگھ اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو جناب بھاگوت کہیں گے؟۔ ایک سوال کے جواب میں شیوسینا رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اُس وقت کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ سے استعفیٰ لینا مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی غلطی تھی جو نواب ملک کے معاملہ میں نہیں دُہرائی جائے گی۔

 انہوں نے کہا کہ نواب ملک سے ریاستی کابینہ سے مستعفی ہونے کے لئے کبھی بھی نہیں کہا جائے گا۔ انیل دیشمکھ اور نواب ملک کا تعلق نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) سے ہے جو مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں شامل ہے۔ حکومت میں شامل دیگر 2 جماعتیں شیوسینا اور کانگریس ہیں۔ سنجے راوت نے بی جے پی پر پھر الزام عائد کیا کہ وہ شیوسینا زیرقیادت حکومت کی امیج خراب کرنے مرکزی ایجنسیوں کو استعمال کررہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کانگریس / یو پی اے دور حکومت میں ای ڈی نے 23 دھاوے کئے تھے جبکہ مودی حکومت کے 7 سالہ دورِ اقتدار میں 23 ہزار دھاوے ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی ایجنسیوں کے زیادہ تر دھاوے مہاراشٹرا اور مغربی بنگال میں ہوئے۔

 انہو ں نے سوال کیا کہ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں پر ان ایجنسیوں کی نظر کیوں نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا پولیس‘ مرکزی ایجنسیوں کے خلاف تحقیقات کی اہل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیویندر پھڈنویس حکومت میں جو اسکام ہوئے ان کے کئی کاغذات مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے پاس ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button