بی جے پی‘ نسل کشی کیلئے مسلمانوں کو بھڑکانے کی کوشش میں: محبوبہ مفتی

ایک پروگرام کے حاشیہ پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) صدر دفتر سری نگر میں میڈیا سے بات چیت میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ نیا نہیں ہے۔ ان لوگوں کی شاکھائیں چل رہی ہیں جہاں تلوار اور تیرچلانے کی تربیت دی جارہی ہے۔

سری نگر: پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے پیر کے دن الزام عائد کیا کہ ملک کی بنیادیں ہلائی جارہی ہیں اور بی جے پی وزرا مسلمانوں کو ہراساں کرنے میں ایک دوسرے پر بازی لے جارہے ہیں۔ سابق چیف منسٹر جموں وکشمیر نے بی جے پی پر یہ بھی الزام عائد کیاکہ مسلمانوں کو اشتعال دلانے‘ بھڑکانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ مسلمانوں کی ”نسل کشی“ کا موقع مل جائے۔ محبوبہ مفتی نے چیف منسٹر آسام کے بیان کے بارے میں پوچھنے پر یہ ریمارکس کئے جنہوں نے کہا تھا کہ دینی مدارس کا وجود ختم ہوجانا چاہئے۔

 ایک پروگرام کے حاشیہ پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) صدر دفتر سری نگر میں میڈیا سے بات چیت میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ نیا نہیں ہے۔ ان لوگوں کی شاکھائیں چل رہی ہیں جہاں تلوار اور تیرچلانے کی تربیت دی جارہی ہے۔ ہندوستان کو گجرات ماڈل یا یوپی ماڈل میں بدلنے کی دوڑ لگی ہے۔ چیف منسٹر آسام‘ دیگر قائدین سے چند قدم آگے رہنا چاہتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے عوام سے کہا کہ وہ یاد کریں کہ ماضی ئ قریب میں بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں مسلمانوں سے کیسا سلوک ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مدھیہ پردیش میں مسلمان ہونے کے شبہ میں ایک ہندو کو مارڈالا گیا۔ یہ لوگ ملک کی بنیادیں ہلادینے کی باتیں کررہے ہیں۔

سیکولرازم کی بنیاد پر یہ ملک بنا تھا اور دستور کے تحت یہ ملک چلتا ہے‘ ان دونوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ پورے ملک کو گجرات ماڈل‘ یوپی ماڈل‘ آسام‘ ایم پی ماڈل میں بدلنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ان ریاستوں کے چیف منسٹرس میں دوڑ لگی ہے کہ کون مسلمانوں کو کتنا زیادہ ستاتا ہے۔ کون (خدا نہ کرے) مسلمانوں کو مٹادینے کی شروعات کرتا ہے۔

پی ڈی پی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی قائدین اور پارٹی ارکان مندر۔ مسجد جیسے حساس مسئلے اٹھارہے ہیں تاکہ مسلمان بھڑک جائیں۔ یہ اس لئے کیا جارہا ہے کہ مسلمان ردعمل ظاہر کریں اور بی جے پی کو ایک اورگجرات قتل عام یا یوپی میں جو ہوا اس کا یا مسلمانوں کی نسل کشی کا موقع مل جائے۔

 ملک کی مو جودہ صورتِ حال کا 1947 سے تقابل کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ آج بی جے پی والے‘ان کے چیف منسٹرس‘ ان کے وزرا‘ انگریزوں کا کام کررہے ہیں۔ انگریزوں نے 1947میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑایا تھا۔ بدبختی کی بات ہے کہ ہمارا وزیراعظم جو سارے ملک کا‘ ہندوؤں‘ مسلمانوں‘ سکھوں کا وزیراعظم ہے‘ خاموش تماشہ دیکھ رہا ہے۔

اس کی خاموشی کو اس کی پارٹی نے اپنی کرتوتوں کے لئے اس کی رضامندی سمجھ لیا ہے۔ رہبرِ جنگلات‘ رہبر کھیل اور رہبر زراعت3 اسکیموں کے تحت جائیدادوں کا دوبارہ اشتہار جاری کرنے کے حکومت جموں وکشمیر کے فیصلہ پر سابق چیف منسٹر نے کہا کہ یہ مرکزی زیرانتظام علاقہ میں غیرمقامی لوگوں کو بھرتی کرنے کا بی جے پی کا ناپاک منصوبہ ہے۔ جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو معاشی لحاظ سے بے اختیار کیا جارہا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button