بی جے پی کو شکست دینا ہر اپوزیشن پارٹی کی ذمہ داری : کے ٹی آر

کے تارک راماراؤ نے کہاکہ انہیں یقین ہے کہ صدارتی الیکشن میں اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا بی جے پی جو آئین کا مذاق اڑاتی ہے‘کے رویہ کے خلاف کامیابی حاصل کریں گے۔

حیدرآباد: حکمراں جماعت ٹی آرایس کے کارگزار صدر وریاستی وزیر بلدی نظم نسق وشہری ترقیات کے تارک راماراؤ نے کہاکہ انہیں یقین ہے کہ صدارتی الیکشن میں اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا بی جے پی جو آئین کا مذاق اڑاتی ہے‘کے رویہ کے خلاف کامیابی حاصل کریں گے۔

دہلی میں یشونت سنہاکے پرچہ نامزدگی کے ادخال کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے وزیر اعظم نریندر مودی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائدکیا کہ مودی حکومت‘سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے آئینی اداروں کا بیجا استعمال کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جمہوریت پر یقین رکھنی والی تمام اپوزیشن جماعتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ صدارتی الیکشن میں بی جے پی اوراس کے امیدوارکومسترد کردیں۔کے ٹی آر نے واضح کردیا کہ ان کی پارٹی ٹی آرایس‘ملک کے جلیل القدر صدرجمہوریہ کے عہدہ کیلئے بطور امیدواریشونت سنہا کی مکمل تائید وحمایت کررہی ہے۔

انہوں نے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں پرزوردیا ہے کہ وہ یشونت سنہا کی حمایت وتائیدکریں۔تلنگانہ کے وزیرنے کہا کہ ہم وزیراعظم مودی کی پالیسیوں کیخلاف ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ دن ضرور آئیں گے جب ملک کے عوام‘بی جے پی کومرکز سے بیدخل کردیں گے۔

کے ٹی آر نے کہاکہ ملک میں ڈاکٹربی آر امبیڈکرکا تیار کردہ دستور کو نافذ نہیں کیاجارہا ہے بلکہ اس کی جگہ مودی کا آئین نافذ کیاجارہا ہے۔ یشونت سنہاکی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہیں قوی امیدہے کہ منتخب ہونے پر سنہا‘ دستورکے تحفظ اورآئین کے جذبہ کے تحت کام کریں گے۔

مرکز پر آمرانہ طرز اختیار کرنے کاالزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مودی کی حکومت گزشتہ 8 برسوں سے اپوزیشن کی زیر اقتدار ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔ ان ریاستوں کے ساتھ حاکمانہ غیر جمہوری رویہ اختیار کیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی 8ریاستوں میں اکثریت سے محروم رہنے کے باوجود بی جے پی نے وہاں کی حکومتوں کوزوال سے دوچار کردیا۔

یہ عمل جمہوریت کامذاق اڑانے کے برابر ہے۔ این ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو سے کے ٹی آرنے سوال کیا کہ وہ 2 جنوری 2006 میں اڈیشہ کے کالنگانگر کے اسٹیل پلانٹ میں 13 قبائلیوں کو گولی مارکر ہلاک کرنے کے واقعہ پر کیوں لب کشائی نہیں کرپائیں جبکہ بی جے پی‘وہاں کی حکومت میں شراکت دارتھی اور دروپدی مرمو‘ اس وقت حکومت میں وزیر تھیں۔انہوں نے بہیمانہ قتل پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

مرمو نے قبائلیوں کے ساتھ جاری ناانصافیوں کیخلاف خاموش رہی ہیں۔کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت‘قبائلیوں کے تحفظات میں اضافہ کرناچاہتی ہے اس سلسلہ میں تلنگانہ اسمبلی میں قرار داد منظور کرتے ہوئے مرکزکوروانہ کیا گیاہے مگر مرکزی حکومت نے تاحال اس کی منظوری نہیں دی ہے۔

اگر مرکز کی بی جے پی حکومت کوواقعی قبائلیوں سے محبت ہے تو اسے اس سمت مثبت کام کرناچاہئے۔انہوں نے کہا کہ اے پی تقسیم جدید ایکٹ میں تلنگانہ میں قبائلی یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ کیا گیا مگر مرکز کی بی جے پی حکومت نے آج تک اس وعدہ کو پورانہیں کیا۔انہوں نے بی جے پی سے مطالبہ کیا کہ وہ قبائلی یونیورسٹی کے قیام اور ایس ٹیز کے ریزرویشن میں اضافہ اور اے پی میں ضم سات زونس کوتلنگانہ کو دوبارہ واپس کرنے کے اقدامات کرے۔

قبل ازیں کے ٹی آرنے کہا کہ ان کی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی‘ صدارتی امیدوار یشونت سنہا کی تائید کریں گے۔کے ٹی آر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آرایس سربراہ کے سی آر نے صدارتی الیکشن میں اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہاکی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔

اس لئے وہ (کے ٹی آر) پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ یشونت سنہا کیساتھ ریٹرننگ آفیسر کے چیمبر تک جارہے ہیں۔پی ٹی آئی کے مطابق سابق میں ٹی آرایس نے صدر اورنائب صدر جمہوریہ کے انتخابات میں این ڈی اے امیدواروں کی تائید کی تھی۔تاہم حالیہ چند مہینوں کے دوران ٹی آرایس نے مرکز کی مودی حکومت پر ناقص پالیسیوں اور خراب حکمرانی کاالزام عائد کرتے ہوئے تنقیدیں شروع کی ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button