تبلیغی جماعت کیس،ویزا درخواستوں پر بلیک لسٹنگ اثر انداز نہ ہو: سپریم کورٹ

جسٹس اے ایم کھنولکر کی زیرصدارت بنچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ بلیک لسٹ کئے گئے تبلیغی جماعت کے ارکان کی ویزا کیلئے مستقبل میں دی جانے والی درخواستوں پر قانون کے مطابق انفرادی طور پر غور کریں۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تبلیغی جماعت کے وہ ارکان جنہیں مارچ 2020 میں نظام الدین اجتماع میں حصہ لینے پر حکومت کی جانب سے بلیک لسٹ کیا گیا ہے، مستقبل میں ویزا کیلئے ان کی درخواستوں پر انفرادی طور پر غور کیا جائے۔

جسٹس اے ایم کھنولکر کی زیرصدارت بنچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ بلیک لسٹ کئے گئے تبلیغی جماعت کے ارکان کی ویزا کیلئے مستقبل میں دی جانے والی درخواستوں پر قانون کے مطابق انفرادی طور پر غور کریں۔

حکومت نے تجویز پیش کی تھی کہ تبلیغی جماعت کے ارکان میرٹ کی بنیاد پر انفرادی کیسس کیلئے نمائندگی کرسکتے ہیں جس پر عدالت نے یہ احکام جاری کئے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا مرکز کی جانب سے پیش ہوئے اور کہا کہ یہ لوگ بلیک لسٹنگ کی منسوخی کیلئے نمائندگی کرسکتے ہیں۔

کئی بیرونی شہریوں نے وزارت داخلہ کے احکام کو چالنج کرتے ہوئے عدالت میں درخواستیں داخل کی ہیں اور تبلیغی جماعت کے اجتماع میں حصہ لینے پر انہیں بلیک لسٹ کئے جانے کو چالنج کیا ہے۔ اسی مقدمہ کی سماعت کے دوران تشار مہتا نے عدالت میں یہ بیان دیا۔

یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے مارچ 2020 میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں جو نظام الدین مرکز میں منعقد ہوا تھا، حصہ لینے پر تقریبا 900 بیرونی شہریوں کو بلیک لسٹ کردیا تھا کیونکہ اجتماع کا یہ مقام ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مبینہ طور پر مبدا بن گیا تھا۔

درخواست گزاروں میں مولانا اعلیٰ حضرمی اور دیگر شامل ہیں۔ بنچ نے جس میں جسٹس ابھئے اوکا اور جسٹس جے بی پاردیوالا بھی شامل تھے‘ فریقین کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی سوالات پر غور کئے بغیر کہا کہ مرکز نے کسی بھی بیرونی درخواست گزار کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم جاری نہیں کیا ہے اور نہ عدالت میں ایسا کوئی ریکارڈ پیش کیا گیا۔

عدالت عظمیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ ویزا کی منظوری کیلئے مستقبل میں دی جانے والی درخواستوں پر انفرادی طور پر غور کریں۔ بنچ نے مزید کہا کہ مستقبل میں بیرونی شہریوں کی ویزا درخواستوں پر قانون کے مطابق غور کیا جانا چاہئے اور مرکز کے موقف کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہئے۔

درخواست گزاروں کی پیروی سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ نے کی اور ایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی نے یہ درخواستیں داخل کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلیک لسٹنگ کے احکام ان کے یا ان جیسے کسی شخص کے حوالے نہیں کئے گئے ہیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکز کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ بلیک لسٹنگ کو منسوخ کرانے کیلئے نمائندگی کی گنجائش ہے لیکن فیصلہ لئے جانے کے بعد وہ لوگ اسے چالنج نہیں کرسکتے۔

بنچ نے نشاندہی کی کہ مستقبل میں کسی شخص کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینا مرکز کا اختیار تمیزی ہے۔ اگر بلیک لسٹ کئے جانے کو درکنار بھی کردیا جائے، تب بھی کسی شخص کا داخلہ دفتری ریکارڈ پر رہتا ہے اور اگر کوئی نمائندگی کرتا ہے تو حکومت اس پر دوبارہ غور کرسکتی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button