تبلیغی جماعت کے بیرونی ارکان کو بلیک لسٹ کرنے کے خلاف درخواست

تبلیغی جماعت کے اجتماع کے سلسلے میں تقریباً3500 افراد کو بلیک لسٹ کرنے کے معاملے میں اے ایس جی کے ایم نٹراج نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ متعلقہ اتھارٹی اب بھی اس تجویز پر کام کررہی ہے جس کے لیے مزید ایک ہفتہ کا وقت درکار ہے۔

نئی دہلی: تبلیغی جماعت کے اجتماع کے سلسلے میں تقریباً3500 افراد کو بلیک لسٹ کرنے کے معاملے میں اے ایس جی کے ایم نٹراج نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ متعلقہ اتھارٹی اب بھی اس تجویز پر کام کررہی ہے جس کے لیے مزید ایک ہفتہ کا وقت درکار ہے۔

21/ اپریل کو عدالت نے زبانی طور پر مشورہ دیا تھا کہ چوں کہ یونین آف انڈیا کے حلف نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ اخراج کے متعلقہ پورٹ پر بلیک لسٹنگ کے احکام روانہ کریں گے لیکن درخواست گزاروں کا اصرار تھا کہ ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے، عدالت یہ ریکارڈ کرسکتی ہے کہ اس کی تعمیل نہیں کی گئی ہے، حکومت نے اس ریمارک کو نافذ نہیں کیا ہے۔

”ہم کہیں گے کہ مستقبل میں اگر وہ بلیک لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ لیتے ہیں تو انہیں آپ کو نوٹس دینا ہوگا ار آپ کو پیشگی موقع دینا ہوگا پھر آپ کے پاس ایک وجہ ہے۔ اگر آپ کو کوئی بلیک لسٹ میں ڈالنے کا حکم نہیں دیا گیا تو کوئی بلیک لسٹ میں ڈالنے کا حکم نہیں ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے اس لیے کوئی حکم نہیں ہے۔“

اس پر ایس جی تشار مہتا نے درخواست کی تھی کہ بنچ ابھی کوئی ریمارک نہ کرے کیو ں کہ عدالت سے جو کچھ بھی آئے گا، اس کے وسیع تر اثرات ہوں گے۔ یہ کہتے ہوئے کہ وہ عدالت کی تجاویز کا فوری جواب نہیں دے سکتے، ایس جی نے وقت مانگاتھا۔ انہوں نے درخواست کی کہ جب بھی کوئی بیرونی شہری آتا ہے تو یہ سوال کہ ویزا دیا گیا ہے، نہیں دیا گیا ہے، کٹوتی کی گئی ہے، عاملہ کا ایک فیصلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ایس جی نے زور دے کر کہا تھا کہ یہ کچھ افراد کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہوگا جو ان سبھی غیرقانونی بیرونی شہریوں کو کنٹرول کرے گا۔ جن کاویزا کسی عاملہ کے احکام سے متاثر ہوتا ہے۔ آپ کا ایک لفظ اگر لارڈ شپ کہتے ہیں، اس کی سرویس کریں (بلیک لسٹ میں ڈالنے کا حکم) اور اس کے بعد وہ چیلنج کر سکتے ہیں، کے بھی نتائج ہوں گے۔

مجھے ایک حل تلاش کرنے دیں تا کہ آپ کو قانونی مسائل میں جانے کی ضرورت نہ ہو اور مسئلہ بھی حل ہوجائے اور ایک ملک کے طور پر ہمارے ملک کو کوئی اثر نہ پڑے جس کا ارادہ نہیں ہے۔“ بنچ نے معاملے کی سماعت26/ اپریل تک ملتوی کردی۔

تبصرہ کریں

Back to top button