ترقی یافتہ ممالک میں خواتین ججز کی بڑھتی تعداد

جسٹس فاطمہ بی بی ہندوستانی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کے علاوہ ملک کی کسی بھی اعلیٰ عدلیہ میں تعینات ہونے والی پہلی مسلم خاتون بن گئیں،جن کا تقرر 1989 میں کیا گیا تھا، اس کے ٹھیک آٹھ سال بعد سینڈرا ڈے او کونر امریکی سپریم کورٹ میں خدمات انجام دینے والی پہلی خاتون بن گئیں۔1981 میں، او کونرکو صدر رونالڈ ریگن نے اعلیٰ ترین عدالت کا ایسوسی ایٹ جسٹس مقرر کیا تھا۔

حالیہ عشروں میں دنیا بھر کے ترقی یافتہ ملکوں کے عدالتی نظام میںخواتین ججوں کی شمولیت کے رجحان میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ کئی ملکوں میںقانون کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی نصف سے بھی زیادہ تعداد طالبات پر مشتمل ہے۔آرگنائزیشن آف اکنامک کو آپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) کے ممبر ملکوں میںخواتین ججوں کی تعداد پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

امریکہ برطانیہ، یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ملکوں میں خواتین ججز نظام عدل میںاہم کردار ادا کررہی ہیں لیکن اس کے باوجود ابھی تک خواتین کو اپنی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے عدلیہ میں پوری نمائندگی میسر نہیں ہے۔ اسلامی ملکوں سمیت بہت سے ملکوں میں چھوٹی عدالتوں میںخواتین کو بطور جج تعینات تو کیاجارہا ہے لیکن بڑی عدالتوں میں خواتین کو جج لگانا یا عدلیہ کے امور سے متعلقہ پالیسی ساز اداروں میںخواتین کو نمائندگی دینے کے حوالے سے صورتحال بہتر نہیں ہے۔

خواتین کی مخصوص پیشوں تک محدود رکھنے کا رویہ صرف مخصوص خطوں اور علاقوں تک محدود نہیں، لیکن دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب مغربی معاشروں نے اس امتیازی رویے کے نقصانات کا ادراک کرلیا تو پھر انہوں نے بہت تیزی کے ساتھ خواتین کو نظام عدل میں یکساں مواقع فراہم کرنے کے اقدامات بھی کئے۔ اس وقت امریکہ میں چونتیس فیصد اسٹیٹس ججز خواتین ہیں جبکہ برطانیہ میں بتیس فیصد ججز خواتین پر مشتمل ہیں۔ عالمی عدالت انصاف میں بھی تین خواتین ججوں کے طور پر کام کررہی ہیں۔

دنیا کے سو ملکوں سے تعلق رکھنے والی چھ ہزار پانچ سو خواتین ججوں کی بین الاقومی تنظیم انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ویمن ججز کا خیال ہے کہ جو خواتین ججز اس وقت مختلف ملکوں میں کام کررہی ہیں انہیں بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اس تنظیم کے خیال میں اس وقت افغانستان کے نظام عدل سے وابستہ یا وہاں کی چھوٹی عدالتوں میں بطور جج کام کرنے والی خواتین کو کئی مسائل کا سامنا ہے اورافغانستان کی تازہ صورتحال نے انہیں ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔

ہندوستان میں سپریم کورٹ کی تین خاتون ججوں نے حلف اٹھایا ہے۔ اس حوالے سے ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان میںسے ایک جج بی وی ناگارتھنا اپنی سینیارٹی کے لحاظ سے ایسی پوزیشن میں ہیں کہ وہ 2027ء میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہندوستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر متمکن ہوسکتی ہیں لیکن اگر ایسا ہو بھی گیا تو اس وقت ان کی ملازمت کے خاتمے میں صرف ایک مہینہ باقی ہوگا۔

اس طرح ہندوستان کی سپریم کورٹ کی سب سے پہلی خاتون چیف جسٹس ا س ادارے کی بہتری کیلئے اس قلیل مدت میں کیاکرسکے گی؟ یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔ اس لئے ہندوستان کے اسٹاف امیج کیلئے اس کا م کی تشہیر تو بہت ہوگی لیکن عملاً عدالتی نظام کی بہتری کیلئے خاتون چیف جسٹس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہوگا۔

اسی طرح ہندوستانی وکلاء کی بڑی تعداد خواتین کو مردوں کے برابر مواقع دینے کے حوالے سے اب بھی مطمئن نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ1958ء سے ’’ جب ہندوستانی سپریم کورٹ کا قیام عمل میں آیا‘‘ سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج فاطمہ بی بی کے تقرر کو39برس کاطویل عرصہ لگا۔ مذکورہ جج کو1989ء میں سپریم کورٹ میںتعینات کیاگیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ تب سے آج دن تک کے71سالہ عرصہ میں کل256 ججوں کی تقرری عمل میںآئی جن میں سے محض11 خواتین تھیں اس وقت ہندوستان کی چونتیس ججز پر مشتمل سپریم کورٹ میںصرف چار خواتین ججز ہیں۔ اسی طرح پچیس ریاستی ہائی کورٹس کے677 ججوں میں81 خواتین ججز کام کررہی ہیں۔

پاکستان کی کل آبادی میںخواتین کا تناسب تقریباً پچاس فیصد ہے لیکن ملک کے نظام عدل میں ان کی نمائندگی اس تناسب سے بہت کم ہے۔ ملک کی تمام چھوٹی بڑی عدالتوں میں ججوں کی کل تعداد3005ہے جس میںخواتین ججز محض519 ہیں۔ ملک کی ہائی کورٹس میں تعینات 114 ججوں میں سے خواتین کی تعداد صرف 5 ہے اور یہ تناسب 5 فیصد سے بھی کم بنتا ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے قیام کو65برس ہونے کو ہیں لیکن آج تک ایک بھی خاتون جج یہاں تک نہیں پہنچ پائی۔

پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس کی سپریم کورٹ میں کوئی خاتون جج نہیں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ملک میں حالیہ برسوں میں ججوں کی تعیناتیوں کے طریقہ کار اور عدالتی نظام میں اصلاحات لانے کے حوالے سے تو بہت بحث مباحثہ ہوتا چلا آرہا ہے لیکن آج تک اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر زیر بحث نہیںلایا گیا کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ میںخواتین ججوں کی تعداد کو بڑھانے کیلئے کیا اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ کہا یہ جاتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی میںہائی کورٹ میں ان کی سینیارٹی کا بڑاعمل دخل ہوتاہے اور ہائی کورٹوں کے ججوں اور بار میںوکلاء میں خواتین کا تناسب کم ہے اس لئے سینیارٹی کے مطلوبہ معیار پر بہت کم خواتین پہنچ پاتی ہیں۔

چند ہفتے پہلے پاکستان کی عدالت عالیہ میںپہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کی تقرری کا معاملہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں آنے والے ووٹوں کی تعداد یکساں تھی۔ اگر چہ پاکستان کے آئین کے مطابق پانچ سال ہائی کورٹ کے جج اور پندرہ سال ہائی کورٹ کی وکالت کا تجربہ رکھنے والا فرد سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہوتا ہے لیکن دوسری طرف بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیارٹی کی روایت کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے اور یہ ایک آئینی تقاضہ ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کے تقرر کے لیے کمیشن کے اکثریتی ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔

ووٹنگ میں کمیشن کے ارکان کی تعداد کے برابر ہوجانے کے باعث پاکستان کی سپریم کوٹ اپنی پہلی خاتون جج سے محروم رہی۔ مردوں کی برتری کے معاشرے میں خواتین کیلئے اپنی جگہ بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ابھی بھی پاکستانی خواتین کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے نظام عدل میں اپنی جگہ بنانے کیلئے کئی برسوں سے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ہمیشہ اصول اور قانون کے مالا جپنے والوں نے کبھی خواتین کی ، نظام عدل میں مناسب نمائندگی کی ضرورت کے معاملے کو پوری طاقت سے کیوں نہیںاٹھایا۔

سی ای اوی ورلڈ میگزین نے حال ہی میں خواتین کے حوالے سے ایک فہرست جاری کی ہے جس میں ہالینڈ پہلے نمبر پر ہے۔ اس حوالے سے میگزین کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر امریندر ابھوشن دھیراج کا کہنا ہے کہ دنیا مین کوئی بھی ایسی ریاست موجود نہیں جہاں خواتین ہر طرح کے امتیازسے سوفیصد محفوظ ہوں، بہرحال یہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ ملک دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر ہیں۔ میگزین کی جاری کردہ فہرست کے پہلے دس ممالک میںآٹھ کا تعلق یورپ سے ہے، غیر یورپی ملکوں میں کینیڈا چھٹے اور نیوزی لینڈ آٹھویں نمبر پر ہے جبکہ ناروے دوسرے، سویڈن تیسرے،ڈنمارک چوتھے، فن لینڈ پانچویں ،سوئٹزرلینڈ ساتویں، فرانس نویں اور جرمنی دسویں نمبر پر ہے۔

میگزین کے مطابق ایک سروے میں خواتین سے کچھ سوالات پوچھے گئے کہ آیا وہ اکیلے گھومنے پھرنے میںخود کو محفوظ تصور کرتی ہیں؟ کیا انہیں پیسہ کمانے کی آزادی حاصل ہے؟ بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں؟ سماجی سطح پر برابری حاصل ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے مساوی مواقع حاصل ہیں؟25برس کی عمر تک پہنچنے پر ملازمت کے مساوی مواقع حاصل ہیں اور یہ کہ انہیں ہر شعبہ زندگی میں بلا امتیاز نمائندگی حاصل ہے؟ ان کے جوابات اور دیگر معتبر اعداد وشمار کو فہرست مرتب کرنے میں پیش نظر رکھا گیا۔

اس فہرست میں پاکستان کا نمبر143 واں اورافغانستان 149 ویں نمبر پر ہے۔ اس فہرست کو مرتب کرنے کیلئے ماہرین نے مزید جن نکات کو مدنظر رکھاان میں قانون ساز اسمبلیوں میںخواتین کی تعداد اور دیگر ریاستی اداروں کے فیصلہ ساز عہدوں پر خواتین کی نمائندگی شامل ہے۔ اس فہرست میں برطانیہ 17 ویں اور امریکہ20ویں نمبر پر ہیں۔

روس کو35 واں درجہ ملا ہے اور چین 95 ویں نمبر پر ہے۔ ان سروے رپورٹس کی سچائی اورساکھ کے ساتھ اگر کوئی شخص اتفاق نہ بھی کرے تو پھر بھی اس بات میںشک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ خواتین کیلئے حقیقی برابری کا ماحول پیدا کرنے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button