تعزیت

عبدالمجیب سہالوی

ہمارا خیال ہے کہ مرنے سے زیادہ مرنے والے کی تعزیت مشکل ہے، کیوں کہ موت تو بن بلائے ہنستی ہوئی خود گھر پر آجاتی ہے اور تعزیت کے لیے منھ لٹکائے ہوئے دوسرے کے گھر جانا پڑتا ہے اور جانا ہی نہیں بلکہ مرحوم کی ”بے وقت موت“ کو (چاہے وہ نوے برس کی عمر ہی میں کیوں نہ ہوئی ہو) ایک ”ناقابل تلافی نقصان“ ثابت کرتے ہوئے ان کی فرضی خوبیوں کی فہرست اس تفصیل کے ساتھ گنانا ہوتی ہے کہ اگر مرحوم سن لیں تو خود انھیں ہنسی آجائے اور انھیں اپنی موت پر رشک آنے لگے، اس لیے کہ زندگی میں کسی کو کبھی ان کے حق میں ایک کلمہ خیر کہنے کی توفیق نہ ہوئی اور موت کی بدولت آج انھیں تعزیت کرنے والوں کے منھ سے ایسے مدحیہ قصیدے سننے کو مل رہے ہیں کہ کسی بادشاہ کو زندگی میں درباری شاعروں سے سننے کو ملے ہوں گے۔
تعزیت پر خلوص بھی ہوتی ہے اور رسمی بھی۔ مگر وہ چاہے رسمی ہو، چاہے مخلصانہ دونوں مشکل ہیں، کیوں کہ اگر مرنے والے سے آپ کو خلوص تھا تو آپ کی حالت خود تعزیت کے لائق ہوگی اور ایسی حالت میں آپ تعزیت کرنے جائیں گے تو آپ مرحوم کے پس ماندگان کو تسلّی دینے کے بجائے خود رونے لگیں گے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے،
تسلّی میں بھی تخم غم بو دیے
وہ سمجھاتے سمجھاتے خود رو دیے
اور اگر آپ رسمی طورپر اس خیال سے تعزیت کے لیے نکلے ہیں کہ؛
کیا خوب سودا نقد ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے
آج آپ جن کی تعزیت کے لیے جارہے ہیں کل ان کے لڑکے آپ کی تعزیت کے لیے آئیں گے یا یہ مرحوم آپ کے کسی بزرگ کی موت پر آپ کے گھر تعزیت کے لیے آئے تھے تو ایسی صورت میں تعزیت کا کام مشکل سے مشکل تر ہوجاتا ہے کیوںکہ آپ دراصل تعزیت کرنے نہیں بلکہ اس تعزیتی قرض کو ادا کرنے جاتے ہیں جو آپ پر واجب الادا تھا اور آپ جانتے ہیں کہ قرض کی ادائیگی کوئی آسان کام نہیں، خصوصیت کے ساتھ وہ قرض جو تر کے میں ملا ہو اور پھر اس قرض کا کیا کہنا جو روپیوں پیسوں کا نہیں، آنسوﺅں اور غموں کا ہو۔ پیسے کا قرض تو ایک اُدھار لے کر دوسرے کو ادا کیا جاسکتا ہے لیکن آنسو نہ اُدھار لیے جاسکتے ہیں نہ دیے جاسکتے ہیں ان کے لیے تو ایکٹروں یا گویوں کی طرح ریاض کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے تعزیت ایک فن ہوگیا ہے اور ظاہر ہے کہ کسی فن کے حصول میں کتنے پا پڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ خدا نظر بد سے بچائے، اگر آپ شاعر ہیں تو ایک اور مثال پیش کردوں۔ شاعر ہونے کی وجہ سے آپ جانتے ہی ہیں کہ سیروں خون تھوکنا پڑتا ہے تب جاکے شعر برآمد ہوتا ہے۔
بس یہی حال تعزیت کا ہے۔ گڑے مردے اکھاڑنے پڑتے ہیں، اپنے باپ دادا کی موت یا د کرکے آنسو اکٹھا کرنے پڑتے ہیں اور پھر جب یہ سارے درد وغم جمع ہوجاتے ہیں تب جاکے کہیں تعزیت کا قرض ادا ہو پاتا ہے۔
قرض کے ذکر پر یاد آگیا کہ تعزیت کرنے کی طرح قرض مانگنا بھی بڑے فنکار کا کام ہے۔ قرض اور تعزیت دونوں کے لیے منھ لٹکانا ضروری ہوتا ہے لیکن فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ قرض کے لیے گھر سے نکلتے وقت منھ خود بخود لٹکا ہوتا ہے اور تعزیت کے لیے مرنے والے کے گھر پہنچ کر منھ لٹکانا پڑتا ہے۔ منھ کے خود لٹکے ہونے اور ارادتاً لٹکانے میں جو نازک فرق ہے اسے صرف حالات سے مجبور ہوکر قرض مانگنے والے کا ہی دل محسوس کرسکتا ہے۔ رسمی تعزیت کرنے والے کبھی محسوس نہیں کرسکتے۔
جہاں تک ہماری ذات کا تعلق ہے قرض کی مصیبت بار بار برداشت کرنے کی وجہ سے ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ ہمارے لیے تعزیت کی مشکل اس حد تک ضرور آسان ہوگئی ہے کہ ہمیں مرنے والے کے گھر پہنچ کر زبردستی روہانسا منھ نہیں بنانا پڑتا بلکہ ہماری صورت ہی اب روہانسی ہوگئی ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ خلوص کی بنا پر زیادہ رقت طاری کرنے کی ضرورت ہوئی تو ہم تعزیت کے وقت قرض کی ادائیگی کا بھی تصور کرلیتے ہیں۔ اس طرح فاقہ مستی کا رنگ لانے کے خوف سے ہمارا چہرہ خاصا سوگوار ہو جاتا ہے اور مرنے والے کے پسماندگان کے دلوں پر ہمارے خلوص کا کافی اثر پڑتا ہے۔
…. حالاںکہ ہم جانتے ہیں کہ اس میں خلوص و ہمدردی سے زیادہ ہمارے حالات کو دخل ہے جنھوں نے ہمیں بغیر کسی خاص کوشش کے تعزیت جیسے مشکل فن میں اُن پیشہ ور تعزیت مندوں سے کہیں زیادہ کامیاب بنادیا ہے جو اس تاک میں ہی بیٹھے رہتے ہیں کہ کوئی اللہ کو پیارا ہو اور وہ اپنے فن کے مظاہرے کے لیے پہنچ جائیں۔
آپ کہیے گا کہ یہ پیشہ ور تعزیت مند کیسے ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں پیشہ ور تعزیت مند وہ ہیں جو ایک خاص بندھے ٹکے انداز میں تعزیتی تقریر کرتے ہیں اور اس تقریر کے دوران جگہ جگہ شعر بھی پڑھتے ہیں، مثلاً،
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھِلے مرجھا گئے
ایک پیشہ ور تعزیت مند، پُرسے میں پہنچتا ہے اور پہنچتے ہی زندگی کی بے ثباتی کا ذکر کرتا ہے کہ ”مشیّت ایزدی میں کیا چارہ ہے،
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے
”آدمی پانی کا بلبلہ ہے، ایک دم کا ٹھکانا نہیں۔“ پھر سرد آہ بھرتے ہوئے شعر پڑھتا ہے،
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
”بھیّا صبر کرو، جس کی امانت تھی اس نے لے لی۔ اپنا یہاں کیا ہے جس پر بھروسہ کیا جائے۔ سامان سو برس کے ہیں کل کی خبر نہیں، ہم کو بھی ایک دن اسی راہ پر جانا ہے۔ ہر ایک پر یہ دن آنے والا ہے،
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
صبر کرو صبر کے سوا چارہ کیا ہے۔
مجھے دیکھو۔ پانچ کو قبرستان پہنچا چکا ہوں لیکن مجھ کمبخت کو موت نہیں آئی۔ آہ! مگر موت مانگنے سے کب آتی ہے۔ اگر مانگے ملتی تو میں کب کا مرچکا ہوتا اور آج اپنے فضلو بھائی کے پُرسے کے لیے نہ آنا پڑتا۔ کیا کہوں مرحوم کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر رہی ہے۔ کیا ہنس مکھ آدمی تھے۔ بڑی سے بڑی مصیبت پڑے چہرے پرشکن نہ آتی تھی۔ پر دوسروں کی مصیبت نہ دیکھ سکتے تھے۔ حجن کی موت پر تعزیت کے لیے گئے مگر تسلی دینے کی بجائے خود پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ لوگ پکڑ نہ لیتے تو پچھاڑ کھاکرگرپڑتے، خدا مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے، آدمی کیا تھے فرشتہ تھے۔ کیا اخلاق تھا مرحوم کا۔ منھ سے پھول جھڑتے تھے۔ کبھی کسی کو کچّی بات نہ کہی۔ صوم وصلوة کے ایسے پابند کہ ایک وقت کی نماز قضا نہ ہوئی (حالاں کہ مرحوم کو عیدبقرعید کے علاوہ کسی نے مسجد کی طرف جاتے بھی نہیں دیکھا) چہرے پر نور برستا تھا۔ ہائے! آپ کو کیا صبر دلاﺅں خود اپنا کلیجہ پھٹا جاتا ہے دل کو یقین نہیں آتا کہ وہ ہم سے جدا ہوگئے۔ ایک وقت ملاقات نہ ہوتی تو چین نہ پڑتا۔ یہ مستقل جدائی کیوںکر برداشت ہوگی۔ مگر رونے سے کیا ہو، آنسوﺅں سے غم دُھلنے سے رہا، صبر کرنا ہی ہے۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اپنے کو سنبھالیے۔ روئیے نہیں، رونے سے مرحوم کی روح کو رنج ہوگا۔ صبر کیجئے۔ دونوں وقت ملتے ہیں مرنے والا تو مرگیا اب لوٹ کر آنے والا نہیں ہے۔“
مگر اب تعزیت زیادہ مشکل نہیں رہی، اس لیے کہ فن تعزیت کے فن کاروں نے جیسا کہ آپ نے ابھی دیکھا اچھا خاصا تعزیتی لٹریچر رسمی تعزیت کرنے والوں کی آسانی اور سوگواروں کی پریشانی کے لیے فراہم کردیا ہے جس میں مرحوم کی بے وقت موت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دینے سے لے کر مرحوم کے جوار رحمت میں جگہ پانے کی توقع تک تمام مراحل کے لیے ڈھلے ڈھلائے جملے موجود ہیں۔ بس اب تعزیت کرنے والے کا کام صرف منھ بناکر اور موقع بے موقع آہ سرد بھر کر انھیں جملوں کو بے دھڑک دُہرا دینا ہے۔
کلارکار نہیں تعزیت کار اپنے فن کی کامیابی اسی میں خیال کرتے ہیں کہ مرے پر سو درے کے بہ طور غم نصیب پسماندگان کے سامنے مرنے والے کی پیدائش سے لے کر آخری ہچکی تک تمام واقعات پوری تفصیلی کے ساتھ بار بار ایسے رقت آمیز لہجے میں دہرائیں کہ پسماندگان کے زخموں کو مندمل ہونے اور آنسوﺅں کو خشک ہونے کا بالکل موقع نہ ملے اور دنیا کی بے ثباتی کا وہ نقشہ کھینچیں کہ ان کے دل میں صبر کا حوصلہ پیدا ہونے کی بجائے خودکشی کا جذبہ پیدا ہوجائے یا کم سے کم وہ شدت غم سے بے قابو ہوکر سر پھوڑنے اور کوئیں میں پھاندنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ چنانچہ کبھی کبھی تو بوڑھی بیوہ عورتوں کو کسی نوجوان بیوہ کی تعزیت کرتے وقت اس قسم کی تلقین کرتے بھی سنا گیا ہے، ”رنڈاپے کی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔ کوئی میرے دل سے پوچھے کہ میں نے بیوگی کے یہ بیس سال کیسے کاٹے ہیں۔ میرا بس چلتا تو میں بھی کچھ کھا کر مرحوم کے ساتھ مٹی میں مل جاتی۔“
گویا ان بیوہ بڑی بی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نوجوان بیوہ کے لیے اب کوئی چارہ نہیں، سوائے اس کے کہ وہ زہر کی پڑیا منگا کر اپنی زندگی سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان بوڑھی بیواﺅں کا کام صرف نووارد بیواﺅں کو اپنی غلطی سے آگاہ کرکے انھیں خودکشی کے لیے آمادہ کرنا رہ گیا ہے۔
ایک مرتبہ میرے ایک قریبی دوست کے بچہ کا انتقال ہوگیا۔ پلوٹھی کا لڑکا تھا۔ ماں باپ دونوں کی آنکھ کا تارا۔ اس کے مرنے کا دونوں کو قدرتاً بڑا قلق ہوا۔ میں دورے پر گیا ہوا تھا۔ چار روز بعد جب واپس آیا تو بیگم سے اس سانحہ کی اطلاع ملی۔ سامان گھر پر ڈال، سیدھا دوست کے گھر روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ان کی روانگی کا انتظام ہے۔ کچھ سامان باہر رکھا ہے اور ایک تانگہ بھی کھڑا ہے۔ بہرحال میں نے آواز دی تو انھیں جھنجھلا کر زور سے یہ کہتے سنا کہ کہہ دو گھر پر نہیں ہیں۔ میں یہ بات سن رہا تھا۔ پہلے تو میں سوچنے لگا کہ اب کیاکروں مگر پھر زور سے پکارا کہ ”بھائی“ میں ہوں سعید! یہ سنتے ہی وہ ڈیوڑھی میں آگئے اور لپٹ کر رونے لگے۔ میرا بھی دل بھر آیا مگر زبان سے تسلّی اور تعزیت کے الفاظ نکلنے نہیں پائے تھے کہ دل نے بے ساختہ آواز دی،
جس سے بڑھے بے تابی دل کی ایسی تسلی رہنے دے۔
زبان نے دل کے مشورے کو فوراً مان لیا، کیوںکہ اسے بارہا تجربہ ہوچکا تھاکہ نازک جذبات کی ترجمانی اس نے ہمیشہ خاموش رہ کر زیادہ اچھے طریقہ پر کی ہے۔ ہم دونوں تھوڑی دیر تک خاموش رہے۔ اس کے بعد میں نے بچہ کی بیماری اور موت کے متعلق کچھ پوچھنے کی بجائے ان کی روانگی کا سبب دریافت کرنا زیادہ مناسب خیال کیا۔
انھوں نے کہا کہ بچہ کی جدائی سے ہم دونوں کے دلوں پر جو گزری ہے، اس کے متعلق کچھ کہنا ہی بے کار ہے، لیکن ماں کی بری حالت ہے۔ چار دن ہوگئے ہیں، طرح طرح سے بہلانے کی کوشش کررہا ہوں، لیکن تعزیت کرنے والوں نے میری اور خاص طورپر میری بیوی کی زندگی تلخ کردی ہے۔ میری ہزار کوششوں کے باوجود ان ظالموں نے ایک منٹ کے لیے غم بھلانے کی فرصت نہ دی اور جب میں نے محسوس کیا کہ تعزیت کرنے والی بیویاں رُلارُلا کر بچہ کے ساتھ میری بیوی کو بھی قبرستان پہنچائے بغیر دم نہیں لیں گی تو میں نے فیصلہ کرلیا کہ تھوڑے دنوں کے لیے یہاں سے ہٹ جاﺅں۔
چنانچہ ہم لوگ دو ہفتہ کے لیے پہاڑ پر جارہے ہیں تاکہ ہمارے دکھے دل نادان تعزیت کرنے والوں کی بیداد سے بچ سکیں اور زخموں کو مندمل ہونے کا موقع مل سکے، ابھی وہ یہ جملہ پورا بھی نہ کر پائے تھے کہ میں نے دیکھا کہ ایک رکشا سڑک سے ان کے گھر کی طرف مڑ رہا ہے اور اس پر ایک برقعہ پوش خاتون بیٹھی ہیں۔ مجھے فوراً موقع کی نزاکت کا احساس ہوا اور میں نے دوڑ کر رکشے والے سے پوچھا، ”کس کے یہاں جانا ہے؟“
اس کے جواب میں برقعہ پوش خاتون نے بھرائی ہوئی آواز میں میرے دوست کا نام لیا۔
میرا ماتھا ٹھنکا اور میں نے خیال کیا کہ اگر اس وقت یہ خاتون تعزیت کے لیے وہاں گئیں تو انہیں گھر واپس ہونے کے بجائے اسپتال نہ جانا پڑے۔ اس لیے میں نے منھ سکھا کر کہا کہ میں انہی کے گھر سے لوٹ رہا ہوں۔ ان کی بیوی کی حالت زیادہ خراب ہوگئی تھی اس لیے میرے دوست انھیں لے کر ان کے میکے چلے گئے ہیں اور غالباً ایک ماہ بعد واپس آئیں۔
اس پر انھوں نے ایک سرد آہ بھر کر کہا کہ ہاں بیٹا! مصیبت ایک طرف سے نہیں آتی۔ میں نے جلدی سے کہا، جی ہاں! دیکھیے نا چاروں طرف سے چلی آرہی ہے۔ اس کے بعد وہ دل میں تعزیت کی تمنا لیے اپنے گھر واپس گئیں۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button