تعلیمی اداروں کے اطراف امتناعی احکام میں 8مارچ تک توسیع

ایسے میں مظاہرین سے امن عامہ درہم برہم ہونے کا خدشہ ہے اس لیے بنگلورو شہر میں امن و امان کی برقراری کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کرنا ضروری سمجھا گیا۔ احکام میں کہا گیا کہ چوں کہ یہ اب بھی ایک سلگتا موضوع ہے، ایسے میں اس کے حق اور مخالفت میں بنگلورو شہر میں مظاہروں کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

بنگلورو: حجاب پر جاری تنازعہ کے پس منظر میں بنگلورو میں تعلیمی اداروں کے اطراف لوگوں کے جمع ہونے یا مظاہرہ پر پابندی عائد کرنے کی خاطر امتناعی احکام میں 8مارچ تک توسیع کردی گئی ہے۔ ابتداء میں 9فروری کو امتناعی احکام نافذ کیے گئے تھے جن کا اطلاق22/ فروری کی صبح تک تھا۔

بنگلورو کے پولیس کمشنر کمل پنت نے نئے احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے کچھ حصوں میں اسکولوں /کالجوں میں یونیفارم کے قواعد کو سخی سے نافذ کرائے جانے کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

ایسے میں مظاہرین سے امن عامہ درہم برہم ہونے کا خدشہ ہے اس لیے بنگلورو شہر میں امن و امان کی برقراری کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کرنا ضروری سمجھا گیا۔ احکام میں کہا گیا کہ چوں کہ یہ اب بھی ایک سلگتا موضوع ہے، ایسے میں اس کے حق اور مخالفت میں بنگلورو شہر میں مظاہروں کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ایسے میں یہ مناسب سمجھا گیا کہ سی آر پی سی کی دفعہ144کے تحت نافذ امتناعی احکام میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کردی جائے تا کہ بنگلورو شہر میں واقع اسکولوں، پری یونیورسٹی کالجوں، ڈگری کالجوں اور ایسے دیگر تعلیمی اداروں کے اطراف کوئی اجتماع یا مظاہرہ نہ ہو۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button