تلنگانہ بی جے پی قائدین سے کے کویتا کے چبھتے ہوئے سوالات

کویتا نے بی جے پی قائدین سے جاننا چاہا کہ کیا تلنگانہ میں کوئی نئی صنعت قائم کی جارہی ہے؟۔ کیا دنیا کے سب سے بڑے لفٹ اریگیشن پراجکٹ کا لیشورم کیلئے مالی مدد دینے کا ارادہ ہے؟

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی جانب سے عادل آباد میں سی سی آئی کی مشنری فروخت کرنے کے فیصلہ پر ٹی آر ایس رکن کونسل کو یتا نے شدید تنقید کرتے ہوئے بی جے پی قائدین سے چند سوالات کئے اور چیالنج کیا کہ اگر بی جے پی قائدین میں دم خم ہے تو ان سوالات کا جواب دیں۔

 واضح رہے کہ مرکزی حکومت، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ (عادل آباد) میں سی سی آئی فیاکٹریز کو فروخت کرنے کیلئے ٹنڈرس طلب کئے ہیں۔ کویتا نے سوال کیا کہ سنگارینی کالریز اور سی سی آئی عادل آباد کے فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو کیا تلنگانہ کیلئے استعمال کیا جائے گا؟۔

کویتا نے بی جے پی قائدین سے سوال کیا کہ کیا ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ اپنی اعلیٰ قیادت سے یہ سوال کرسکیں؟۔ ٹی آر ایس قائد نے کہا کہ ملک بھر میں عوامی املاک کو فروخت کیا جارہا ہے۔ ان املاک کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کیا کرنے کا منصوبہ ہے؟۔ کیا بی جے پی قائدین میں اتنی سنجیدگی ہے کہ وہ اس سوال کا جواب دیں۔

کویتا نے بی جے پی قائدین سے جاننا چاہا کہ کیا تلنگانہ میں کوئی نئی صنعت قائم کی جارہی ہے؟۔ کیا دنیا کے سب سے بڑے لفٹ اریگیشن پراجکٹ کا لیشورم کیلئے مالی مدد دینے کا ارادہ ہے؟ کیا قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری قائم کی جائے گی؟ کویتا نے جاننا چاہا کہ تلنگانہ میں سنگارینی کالریز اور سی سی آئی عادل آباد کو فروخت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟

 مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور صدر بی جے پی تلنگانہ بنڈی سنجے سے ان سوالات کا جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی سی آئی عادل آباد کے احیاء کیلئے انہوں نے شخصی طور پر وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔ ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے بھی اس سلسلہ میں کئی بار مرکزی حکومت کے نام مکتوب تحریر کئے تھے۔

 ریاستی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا تیقن دیا گیا۔ اس کے باوجود مرکز، اپنے منصوبوں پر اٹل ہے بی جے پی کے اس فیصلہ سے سینکڑوں خاندان روڈ پر آجائیں گے۔ بی جے پی قیادت اس مسئلہ پر عوام کے آگے جوابدہ ہےا

تبصرہ کریں

Back to top button