تلنگانہ سے ناانصافی، کویتا کے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سے کئی سوالات

کویتا نے امیت شاہ سے کہا کہ وہ تلنگانہ کے عوام کو یہ بتائیں کہ مرکزی حکومت ریاستی حکومت کو واجب الادا فینانس کمیشن کے تقریبا 3000کروڑروپئے،پسماندہ طبقات کی گرانٹ 1350کروڑروپئے اور جی ایس ٹی معاوضہ 2247کروڑروپئے کی رقم کب اداکرے گی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آرایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا نے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کے دورہ حیدرآبادکے موقع پر ان سے کئے سوالات کئے۔تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھرراو کی دختر و سوشیل میڈیا کے اہم پلیٹ فارم ٹوئیٹر پر سرگرم کویتا نے اس خصوص میں سلسلہ وار ٹوئیٹس کئے۔

اُنہوں نے امیت شاہ سے کہا کہ وہ تلنگانہ کے عوام کو یہ بتائیں کہ مرکزی حکومت ریاستی حکومت کو واجب الادا فینانس کمیشن کے تقریبا 3000کروڑروپئے،پسماندہ طبقات کی گرانٹ 1350کروڑروپئے اور جی ایس ٹی معاوضہ 2247کروڑروپئے کی رقم کب اداکرے گی۔

انہوں نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ امیت شاہ آسمان چھوتی افراط زر،ملک میں ریکارڈ بے روزگاری، بی جے پی کے خود کے ڈاٹا کے مطابق بی جے پی کے دورمیں زیادہ فرقہ وارانہ فسادات اور ہندوستان کو سب سے مہنگا ایندھن اور ایل پی جی فروخت کرنے والا ملک بنانے پر ان کا کیاجواب ہے۔

انہوں نے ایک اور ٹوئیٹ میں مرکزی وزیرداخلہ سے کہاکہ جب وہ تلنگانہ کے شاندار عوام سے ملاقات کریں گے تو انہیں یہ بتائیں کہ مرکزی حکومت تلنگانہ کو گذشتہ 8برس کے دوران ایک بھی آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، آئی آئی ایس ای آر،آئی آئی آئی ٹی، این آئی ڈی، میڈیکل کالج یا نوودیااسکولس دینے میں کیوں ناکام رہی؟۔

انہوں نے پوچھا کہ مرکزی حکومت نے مشن بھاگیرتا اور مشن کاکتیہ کے لئے 24000کروڑروپئے کے فنڈس اداکرنے کی نیتی آیوگ کی سفارش کو کیوں نظرانداز کیا ہے؟اس اسکیم کے ذریعہ جذبہ حاصل کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے باوقار ہر گھر جل اسکیم کی شروعات کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ مرکزی حکومت کی منافقت نہیں تواور کیا ہے جس نے پڑوسی ریاست کرناٹک کے اپربھدراپروجیکٹ،کین ریورلنکنگ پروجیکٹ کے لئے قومی پروجیکٹ کا درجہ دیا اور تلنگانہ کے پالموررنگاریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم اورکالیشورم پروجیکٹ کو قومی درجہ دینے سے انکار کردیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button