تلنگانہ میں متبادل فصلوں کی کاشت میں دگنا اضافہ

بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں مکئی، جوار، دالوں اور اجناس کی کاشت کے رقبہ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

حیدرآباد: حکومتوں کی جانب سے دھان کی فصل خریدنے سے گریز، کسانوں کی خودکشی واقعات اور دیگر امور کو مدنظر رکھتے ہوئے تلنگانہ کے کسانوں نے ریاست میں جاری ربیع (یاسنگی) سیزن میں متبادل فصلوں کی کاشت کو دگنا کردیا ہے۔

محکمہ زراعت کی تازہ ترین(8 دسمبر تک) رپورٹ کے مطابق ریاست میں 8دسمبرتک کسانوں نے صرف 7,120 ایکڑ اراضی پر دھان کی کاشت شروع کی ہے جبکہ اس تاریخ تک معمول کے مطابق 28,729 ایکڑ اراضی پر دھان کی کاشت کی جاتی تھی۔

دھان کی کاشت کے رقبہ میں ایک چوتھائی کمی آئی ہے۔ ریاست میں ربیع سیزن کی فصل بوائی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں مکئی، جوار، دالوں اور اجناس کی کاشت کے رقبہ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان اجناس کی گذشتہ سال38,280 ایکڑاراضی پر کاشت کی گئی تھی جبکہ رواں سال مکئی اور دیگر فصلوں کی 94,080 ایکڑ اراضی پر کاشت کی جارہی ہے جوار کی کاشت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ سال18,205 ایکڑ کے منجملہ اس سال25,479 ایکڑ اراضی پر جوار کی کاشت شروع کی جارہی ہے۔ سوئٹ کارن اور راگی کی بالترتیب469 اور 477 ایکڑ اراضی پر کاشت کی جارہی ہے جبکہ گذشتہ سال ان دونوں فصلوں کی کاشت کو نظر انداز کردیا گیاتھا۔ اس سال تیل کے تخم کی کاشت کے رقبہ میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ سال8 دسمبر تک1.5 لاکھ ایکڑ پر تیل کے بیجوں کی کاشت کی گئی تھی جبکہ امسال ان تیل کے بیجوں کی کاشت3.11 لاکھ ایکڑ اراضی پر کی جارہی ہے صرف مونگ پھلی کی کاشت 2.87لاکھ ایکڑ اراضی پر کی جائے گی۔ ریاست میں مختلف دالوں کی کاشت کے رقبہ میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ا

مسال دالوں کی کاشت 3.42لاکھ ایکڑ اراضی پر کی جائے گی۔ گذشتہ سیزن میں ریاست میں دھان کی ریکارڈ پیدا وار ہوئی ہے۔ منفعت بخش اور متبادل فصلوں کی کاشت کا رجحان خوش آئند قرار دیا جارہا ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button