تلنگانہ میں ٹی آر ایس اور بی جے پی میں سیاسی جنگ متوقع

مختلف ٹی آرایس قائدین کے اثاثہ جات اور حکومت کی کارکردگی کے متعلق ہزاروں درخواستیں قانون حق معلومات کے تحت داخل کی گئی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان سیاسی جنگ کا میدان بننے جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات کے بعد بی جے پی تلنگانہ میں ٹی آ رایس کے خلاف زبردست محاظ کھولنے جارہا ہے۔

بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان حقیقی سیاسی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔ بی جے پی قیادت اور این ڈی اے کی مرکزی حکومت ٹی آرایس حکومت کے خلاف دائرہ تنگ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

2دن قبل صدر بی جے پی تلنگانہ بنڈی سنجے کمار نے کہا تھا کہ کے چندر شیکھر راؤ کو انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

دوسری طرف بی جے پی تلنگانہ کے سی آر حکومت کو ہراساں کرنے کیلئے قانون حق معلومات کا موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ مختلف ٹی آرایس قائدین کے اثاثہ جات اور حکومت کی کارکردگی کے متعلق ہزاروں درخواستیں قانون حق معلومات کے تحت داخل کی گئی ہے۔

ان جوابات کے لحاظ سے مرکزی حکومت ٹی آر ایس حکومت اور قائدین کے خلاف لائحہ عمل تیار کرے گی۔ یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہے کہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف مرکزی ایجنسیز کا استعمال کرتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کاروائی کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ ٹی آر ایس سربراہ کے سی آر کے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ بی جے پی کی ہٹ لسٹ میں ہے 16/ اگست کو نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات کے بعد مودی اور شاہ کا تلنگانہ کے متعلق اہم فیصلہ لینے کا امکان ہے۔

اس میں کے سی آر کے قریبی رفقاء اور افراد خاندان کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ کے دعویٰ بھی شامل ہے۔ اس کا اصل مقصد کے سی آر کو تلنگانہ تک محدود رکھنا ہے۔ کے سی آر قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

بی جے پی قیادت کے سی آر کو تلنگانہ میں ہی مصروف کرتے ہوئے ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنا چاہتی ہے۔ ای ڈی اس کے لئے بی جے پی کے لئے موثر ہتھیار ہے۔ دوسری طرف کے سی آر نے بار بار کہا ہے کہ وہ ہر قسم کی تحقیقات کا سامنا کرنے تیار ہے۔

چونکہ انہوں نے کوئی غلطی یا غلط کام نہیں کیا۔ انہیں ای ڈی سے ڈر نے کی ضرورت نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بی جے پی کا ٹی آر ایس کے خلاف ای ڈی کا استعمال ٹی آر ایس کے لئے ہی فائدہ مند ہوگا کے سی آر بی جے پی کے خلاف ریاست بھر میں اور دہلی میں احتجاج منظم کرتے ہوئے عوام کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button