تلنگانہ میں 18ریاستوں کے آئی اے ایس آفیسرس

حیدرآباد: صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اے ریونت ریڈی نے چند دنوں قبل چیف منسٹر کے سی آر پر بہاری آئی اے ایس آفیسرس کے ذریعہ تلنگانہ کو اپنے قبضہ میں رکھنے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔

انہوں نے بہاری عہدیداروں پر من مانی کرنے اور حکمراں جماعت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن جانے کی بات کی تھی۔ اس تناظر میں ایک انگریزی اخبار کی جانب سے تلنگانہ میں موجود آئی اے ایس آفیسرس کا تجزیہ کیا گیا۔

اس تجزیہ میں پایا گیا کہ تلنگانہ میں 18 ریاستوں سے تعلق رکھنے والے آئی اے ایس عہدیدار برسر خدمت ہیں جن میں سب سے زیادہ 15 کا تعلق آندھرا پردیش،13 کا تعلق اتر پردیش،11 کا تعلق بہار اور 49کا تعلق تلنگانہ سے ہے۔

تجزیہ کے مطابق تلنگانہ میں برسر خدمت 34فیصد آئی اے ایس عہدیداروں کا تعلق شمالی ہند سے بتایا گیا ہے۔ شمالی ہند کے عہدیدار تلنگانہ اور کرناٹک کو سب سے زیادہ ترجح دیتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بہار کے زیادہ تر آئی اے ایس عہدیدار جھارکھنڈ جموں وکشمیر، ناگالینڈ اور اترپردیش میں برسر خدمت ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں ایسی کوئی بھی ریاست نہیں ہے جہاں اتر پردیش اور بہار کے آئی اے ایس عہدیدار موجود نہ ہوں۔

ایسا اس لئے ہے کہ سب سے زیادہ آئی اے ایس عہدیداروں کا تعلق اتر پردیش، بہادر اور راجستھان سے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلنگانہ کے آئی اے ایس عہدیدار سوائے تلنگانہ کے کہیں اور جانا نہیں چاہتے۔ حالیہ عرصہ میں تلنگانہ کے پانچ عہدیدار ٹاملناڈو اور دونے آندھرا پردیش کا انتخاب کیا تھا۔

آندھرا پردیش میں زیادہ عہدیداروں کا تعلق ٹاملناڈو اور اترپردیش سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق تلنگانہ میں آندھرا پردیش کیڈر کے9عہدیدار کام کررہے ہیں جن میں سومیش کمار، وانی پرساد، کے ایس سرینواس راجو، وی کرونا، ڈی رونالڈ راس، ایم پرشانتی، شامل ہیں۔

سومیش کمار کا تعلق بہار سے ہے رونالڈراس ٹاملناڈؤ کے رہنے والے ہیں اور ماباقی کا تعلق آندھرا پردیش سے ہے۔ دوسری طرف ریاست میں برسر خدمت آئی اے ایس آفیسرس میں بہار سے تعلق رکھنے والے سینئر ہیں، اس لئے انہیں اہم وکلیدی محکموں کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

بہار سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں میں سومیش کمار، آدھار سنہا، ڈاکٹر رجت کمار، جیش رنجن، وکاس راج، بنہر مہیش یکا، سندیپ کمار جھا، راج شری شاہ، ابھیلا شا ابھینو اور کمار دیپک شامل ہیں۔

Back to top button