ثانیہ مرزا اور پاوک ومبلڈن سیمی فائنل سے باہر

ثانیہ مرزا نے کہاکہ میں ومبلڈن کو یاد کروں گی لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ زندگی میں ایسی چیزیں ہیں جو ٹینس میچ کھیلنے سے زیادہ اہم ہیں اور میں اب زندگی کے اس مرحلے پر ہوں۔

لندن: ہندوستانی ٹینس لیجنڈ ثانیہ مرزا اور ان کے کروشین پارٹنر میٹ پاوک ومبلڈن کے مکسڈ ڈبلز سیمی فائنل میں برطانوی-امریکی جوڑی نیل اسکوپسکی اور ڈیزائر کراوجک سے ہارنے کے بعد دنیا کے سب سے قدیم گرینڈ سلیم سے باہر ہوگئے۔ سکوپسکی- کراوجک نے چہارشنبہ کو ثانیہ اور پاویک کو 6-4، 5-7، 4-6 سے شکست دی۔

ثانیہ پہلی بار ومبلڈن کے مکسڈ ڈبلز سیمی فائنل میں پہنچی ہیں۔ وہ تین بار (2011، 2013 اور 2015) کوارٹر فائنل میں باہر ہو چکی ہیں۔ چھ بار کی گرینڈ سلیم چیمپئن ثانیہ نے تین مکسڈ ڈبلز ٹائٹل جیتے ہیں جن میں 2009 آسٹریلین اوپن، 2012 کا فرنچ اوپن اور 2014 یو ایس اوپن شامل ہیں۔

17 سال کی عمر میں، انہوں نے روس کی الیسا کلیبانووا کے ساتھ ومبلڈن میں خواتین کا ڈبلز ٹائٹل جیتا تھا۔ وہ ایسا کرکے گرینڈ سلیم جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بنی تھیں۔ اولمپک ڈاٹ کام نے ثانیہ مرزا کے حوالے سے میچ کے بعد کہا، "یہ وہ جگہ ہے جہاں سے یہ سب 2003 میں میرے لیے شروع ہوا تھا۔ یہ میرے لیے بڑی چیزوں کا آغاز تھا۔ یہ ٹینس کا سب سے بڑا منچ ہے۔”

انہوں نے کہا، "میں ومبلڈن کو یاد کروں گی لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ زندگی میں ایسی چیزیں ہیں جو ٹینس میچ کھیلنے سے زیادہ اہم ہیں اور میں اب زندگی کے اس مرحلے پر ہوں۔” ثانیہ نے جنوری میں آسٹریلین اوپن کے ویمنز ڈبلز ایونٹ میں ابتدائی راؤنڈ میں شکست کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2022 کا سیزن ان کا آخری ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

تبصرہ کریں

Back to top button