”ججوں کو نشانہ بنانے کی بھی حد ہوتی ہے“: سپریم کورٹ

جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ اور جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ ہمیں بریک دیں۔ گذشتہ مرتبہ اس معاملہ کی سماعت نہیں ہوسکی تھی کیونکہ میں کووڈ میں مبتلا تھا۔ آپ نے اخبارات میں یہ خبرشائع کروادی کہ سپریم کورٹ سماعت میں تاخیرکررہا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج ان خبروں پر ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہ وہ ملک بھر میں عیسائی اداروں اور پادریوں پر بڑھتے حملوں سے متعلق ایک درخواست کی سماعت میں تاخیرکررہاہے‘ کہا کہ ججوں کو نشانہ بنانے کی ایک حد ہوتی ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ اور جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ ہمیں بریک دیں۔

گذشتہ مرتبہ اس معاملہ کی سماعت نہیں ہوسکی تھی کیونکہ میں کووڈ میں مبتلا تھا۔ آپ نے اخبارات میں یہ خبرشائع کروادی کہ سپریم کورٹ سماعت میں تاخیرکررہا ہے۔ دیکھیں‘ ججوں کو نشانہ بنانے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ آخر ایسی خبریں کون فراہم کرتا ہے۔ بنچ نے زبانی کہا کہ میں نے آن لائن ایک خبردیکھی کہ ججس سماعت میں تاخیرکررہے ہیں۔ ہمیں بریک دیں۔

 ایک جج کووڈ میں مبتلاتھا اور یہی وجہ  ہے کہ ہم اس معاملہ کی پہلے سماعت نہیں کرسکے۔ بہرحال ہم اسے فہرست میں شامل کرلیتے ہیں ورنہ ایک اور خبربنادی جائے گی۔ درخواست گذار کے وکیل نے اس معاملہ کی سماعت کی گذارش کی تھی جس پر ججوں نے یہ تبصرہ کیا۔

سینئر ایڈوکیٹ کولن گونزالویس نے اس معاملہ کو جون میں ویکیشن بنچ سے رجوع کیاتھا اور کہا تھا کہ ملک میں ہرمہینے عیسائی اداروں اور پادریوں پر اوسطاً 45 تا50 پُرتشدد حملے ہوتے ہیں۔

پیٹر مچاڈو اور دیگر کی جانب سے داخل کی گئی درخواست میں گذارش کی گئی تھی کہ تحسین پوناوالا کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے رہنمایانہ خطوط  پرعمل آوری کو یقینی بنایاجائے جس کے تحت نفرت پر مبنی جرائم کا نوٹ لینے اور ایف آئی آردرج کرنے نوڈل آفیسرس کا تقرر کیاجانا ہے۔

 2018ء میں سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستوں کو کئی رہنمایانہ خطوط جاری کئے تھے۔ان میں فاسٹ ٹریک مقدمات‘ متاثرین کو معاوضہ‘ نفاذ قانون میں کوتاہی کرنے والے عہدیداروں کوسزا اور ان کے خلاف تادیبی کاروائی شامل تھی۔

تبصرہ کریں

Back to top button