جموں وکشمیر پر چینی وزیر خارجہ کا تبصرہ غیر ضروری:ایس جئے شنکر

ہندوستان نے گذشتہ ماہ چین۔پاکستان کے مشترکہ بیان میں جموں وکشمیر سے متعلق حوالوں کو مسترد کردیا تھا اور زور دے کر کہا تھا کہ یہ خطہ اور لداخ کا مرکزی زیر انتظام علاقہ ہمیشہ سے ہندوستان کے اٹوٹ حصے رہے ہیں اور رہیں گے۔

نئی دہلی: ہندوستان نے اسلام آباد میں تنظیم اسلامی تعاون (اوآئی سی) کانفرنس میں جموں وکشمیر سے متعلق چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے تبصرہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ واضح رہے کہ چینی وزیر خارجہ جاریہ ہفتہ ہندوستان کا دورہ کرنے والے تھے جو اب غیر یقینی ہوگیا ہے۔

 وزارت خارجہ نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اور بیجنگ کو پیام دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر پر چین اور دیگر ممالک کا کوئی قانونی موقف نہیں ہے اور انہیں یہ بات نوٹ کرنا چاہئے کہ ہندوستان اپنے داخلی معاملات میں ان کے برسرعام فیصلہ (رائے) کو مسترد کرتا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے او آئی سی کی میٹنگ میں وانگ کی تقریر میں جموں وکشمیر کا حوالہ دیے جانے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم افتتاحی تقریب میں چینی وزیر خارجہ کی تقریر میں ہندوستان کے غیر ضروری حوالہ کو مسترد کرتے ہیں۔ باگچی نے کہا کہ جموں وکشمیر ایک مرکزی زیر انتظام علاقہ ہے اور اس سے متعلق امور ہندوستان کا داخلی معاملہ ہیں۔

 وانگ نے پاکستان میں تنظیم اسلامی تعاون (اوآئی سی) کانفرنس سے اپنے افتتاحی خطاب میں کشمیر کا حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ”کشمیر کے بارے میں آج ہم نے ایک بار پھر اپنے کئی اسلامی دوستوں کی اپیل سنی ہے اور چین بھی یہی امید کرتا ہے“۔ ہندوستان نے ایک ایسے وقت وانگ ای کے تبصرہ کو مسترد کیا ہے جب دونوں ملک ان کے آئندہ دو دن میں دورہ ہند کے سلسلہ میں مشاورتوں میں مصروف ہیں۔ چین نے جموں وکشمیر کے معاملہ میں کئی مرتبہ اپنے اسٹراٹیجک حلیف ملک پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔

 ہندوستان نے گذشتہ ماہ چین۔پاکستان کے مشترکہ بیان میں جموں وکشمیر سے متعلق حوالوں کو مسترد کردیا تھا اور زور دے کر کہا تھا کہ یہ خطہ اور لداخ کا مرکزی زیر انتظام علاقہ ہمیشہ سے ہندوستان کے اٹوٹ حصے رہے ہیں اور رہیں گے۔

 یہ مشترکہ بیان بیجنگ میں چینی صدر شی جنپنگ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی بات چیت کے بعد 6 فروری کو جاری کیا گیا تھا۔ باگچی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں ہمیشہ ایسے حوالوں کو مسترد کیا ہے اور چین و پاکستان ہمارے موقف سے اچھی طرح واقف ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button