جمہوریت کو فوجی طاقت کی نہیں، اخلاقی طاقت کی ضرورت: عمران خان

عمران خان نے مزید کہاکہ ، ’’ہمیں کمزور فوج نہیں چاہیے، اس لیے ہمیں اسے بچانا ہے، اس کی حفاظت کرنی ہے۔ اگر عوام اور فوج کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے جو ہو رہا ہے تو اس کا نقصان بالآخر پاکستان اور فوج کو ہی ہوگا۔‘‘

اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اسمبلی کی 20 سیٹوں کے لیے آج ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل ملک کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن کی مذمت کرتے ہوئے سابقہ ​​پی پی پی (پاکستان پیپلز پارٹی) اور مسلم لیگ (ن) (پاکستان مسلم لیگ نواز) کی حکومتوں پر کرپشن کے مقدمات میں اپنا دفاع کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ڈان اخبار نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔

قابل ذکر ہے کہ انہوں نے یہ بات پنجاب میں ضمنی انتخابات سے ایک روز قبل آزادی اظہار کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں کہی۔ عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف بھی اس انتخابی دوڑ میں شامل ہے۔

انہوں نے اپنی پارٹی کے خلاف کی گئی کارروائی کا حوالہ دیا، جس کی وجہ سے انہیں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’یہ عدم توازن ایسی صورتحال کا باعث بنا ہے جس کے نتائج سے فوج ابھی تک آگاہ نہیں ہے‘۔

وہ مزید کہتے ہیں، ’’ہمیں کمزور فوج نہیں چاہیے، اس لیے ہمیں اسے بچانا ہے، اس کی حفاظت کرنی ہے۔ اگر عوام اور فوج کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے جو ہو رہا ہے تو اس کا نقصان بالآخر پاکستان اور فوج کو ہی ہوگا۔‘‘

خان کے مطابق جمہوریت کا انحصار اخلاقی طاقت پر ہے نہ کہ جسمانی قوت پر اور پاکستان کی فوج اخلاقی طاقت رکھتی ہے۔ خان نے فوج پر بھی زور دیا کہ وہ موجودہ حکومت کی حمایت سے یو ٹرن لے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے اور یہ بہت ضروری ہے کہ آج درست فیصلے کیے جائیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button