جنوبی ریاست میں ہائی اسکولس کی کشادگی‘ پولیس تعینات

کرناٹک میں ہائی اسکولوں کی آج سے کشادگی عمل میں آئی۔ ریاست کے کچھ حصوں میں حجاب تنازعہ کے سلسلے میں کچھ ناخوشگوار واقعات کے مدنظر ہائی اسکولوں کو بند کردیا گیا تھا۔

بنگلورو: کرناٹک میں ہائی اسکولوں کی آج سے کشادگی عمل میں آئی۔ ریاست کے کچھ حصوں میں حجاب تنازعہ کے سلسلے میں کچھ ناخوشگوار واقعات کے مدنظر ہائی اسکولوں کو بند کردیا گیا تھا۔

اڈپی اور دکشن کنڑ و بنگلورو کے حساس علاقوں میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکام نافذ ہیں۔

چیف منسٹر بسواراج بومئی نے اتوار کو اعتماد ظاہر کیا تھا کہ ریاست میں امن اور معمول کی صورت حال برقرار رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پری یونیورسٹی اور ڈگری کالجوں کو پھر سے کھولنے کے سلسلے میں فیصلہ صورت حال کے جائزہ کے بعد کیا جائے گا۔

حکومت نے جمعہ کو کہا کہ حجاب تنازعہ کے مدنظر محکمہ اعلیٰ تعلیم اور کالیجٹ و تکنیکی تعلیم (ڈی سی ٹی ای) کے تحت آنے والے کالجوں کے لیے معلنہ تعطیلات میں 16/ فروری تک توسیع کردی گئی ہے۔

کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں حجاب سے متعلق سبھی درخواستوں کے زیرالتواء رہنے کے دوران ریاستی حکومت کے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کی درخواست کی تھی اور سبھی طلباء کو بھگوا شال، اسکارف، حجاب اور کسی بھی مذہبی علامت کو جماعت کے اندر پہننے پر روک لگا دی تھی۔

تمام اسکولوں کے قریب پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا اور حکام نے حساس مقامات پر واقع اسکولوں کے قریب سیکورٹی کا مناسب انتظام کیا ہے۔

وزیر داخلہ اراگا گیانیندر نے کہا کہ سرپرستوں کو اپنے بچوں کے تعلق سے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ محکمہ تعلیم و داخلہ نے نظم و ضبط کی برقراری کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ بغیر کسی الجھن کے جماعتوں کے پُرامن انعقاد کے لیے اسکول حکام، محکمہ تعلیم کے عہدیداروں، ضلع حکام اور سرپرستوں کے ساتھ امن اجلاس منعقد کیے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اسکولوں میں تمام مقامات پر امن اجلاس منعقد کرنا ہوگا۔ دریں اثناء بنگلورو اربن ڈسٹرکٹ کے کمشنر جے منجوناتھ نے حکام کو اسکولوں کے اندر اور اطراف و اکناف نظم و ضبط کی برقراری کے اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

اسسٹنٹ کمشنر شیونا نے کہا کہ وہ ڈی سی کی ہدایت پر اسکولوں کا دورہ کررہے ہیں۔ تاحال صورت حال پُرامن ہے اور پورے شہر میں جماعتیں معمول کے مطابق ہورہی ہیں۔

میسور کے نظامیہ اسکول میں اسکول انتظامیہ نے طالبات کو برقعہ اور حجاب نکال کر جماعتوں میں داخل ہونے کو کہا اور طالبات‘ بھی اپنا برقعہ اور حجاب نکال کر یونیفارم میں جماعت میں داخل ہوئیں۔

تاہم کلبرگی ضلع کے جیورگی میں گورنمنٹ اردو اسکول کی طالبات حجاب پہن کر جماعتوں میں داخل ہوئیں۔ ٹیچرس نے انہیں عدالتی احکام سے واقف کرواکر حجاب نکالنے کو کہا۔

تبصرہ کریں

Back to top button