جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح

اسلام امن ،سلامتی، یکجہتی ، مودت ومحبت کا نام ہے۔ وہ دہشت گردی، نفرت، ظلم وزیادتی، لوٹ مار سے پاک ہے، تعلیماتِ اسلامی میں نہ زور زبردستی ہے، اورنہ ہی یہ طاقت، ہتھیار، تلوار کے ذریعہ پروان چڑھا بلکہ حسنِ معاشرت، قرآنی قانون اسوہ رسول امن وشانتی کے باعث سارے عالم میں پھیلتا گیا اور آج بھی لاکھوں غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوتے جارہے ہیں۔اس پاکیزہ دین کی بنیاد ایمان پر ہے۔

مولانا حافظ و قاری سید صغیر احمد نقشبندی
شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ

اسلام امن ،سلامتی، یکجہتی ، مودت ومحبت کا نام ہے۔ وہ دہشت گردی، نفرت، ظلم وزیادتی، لوٹ مار سے پاک ہے، تعلیماتِ اسلامی میں نہ زور زبردستی ہے، اورنہ ہی یہ طاقت، ہتھیار، تلوار کے ذریعہ پروان چڑھا بلکہ حسنِ معاشرت، قرآنی قانون اسوہ رسول امن وشانتی کے باعث سارے عالم میں پھیلتا گیا اور آج بھی لاکھوں غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوتے جارہے ہیں۔اس پاکیزہ دین کی بنیاد ایمان پر ہے۔

ایمان کا تعلق دل سے ہے خدا کی وحدانیت رسول کی رسالت کو دل سے تسلیم کرنا ضروری ہے اوردل زبردستی جبر واکراہ سے مائل نہیںہوتا بلکہ قلب کو مائل کرنے والی چیز موثر ہوتو وہ مانتا بھی ہے اور تسلیم کرتا بھی ہے اسی لئے قرآنِ کریم نے صاف لفظوں میں اعلان کردیا: لااکراہ في الدین (البقرۃ: ۲۵۶)دین میں زبر دستی نہیں ہے۔دشمنانِ اسلام نے بے بنیاد الزام لگایا کہ دین اسلام تلوار اور طاقت کے زور سے پھیلا یہ بات حقیقت سے بعید ہے۔

تاریخ شاہدہے کہ مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے انکاسماجی بائیکاٹ کیا، انہیںخرید وفروخت سے روکا گیا گھروں سے نکالاگیا ، مسلمان غلاموں کو سرراہ سخت اذیت پہنچائی گئی۔انہیں رسیوں سے باندھ کر تپتی ہوئی دھوپ میں سینے پر پتھر رکھ کر گھسیٹاگیا، جاتا ہجرت سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوشہید کرنے کی سازش کی گئی، صحابہ کرام کو اپنا مال گھربار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑا جب صحابہ نے رب کریم کے حکم سے ہجرت کرتے ہوئے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں بھیکفار مکہ نے ظلم کا ارادہ کرتے ہوئے یثرب کے سردار عبد اللہ بن سلول کو خط لکھا کہ مسلمانوںکاسماجی بائیکاٹ کیا جائے ان کو مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے اہل اسلام کو ہر طرح کی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی کفار مکہ نے تجارت کے نفع میں سے مخصوص حصہ لازمی طورپر جنگی تیاریوں کے لئے مختص کرنا شروع کردیا۔

مشرکین مکہ کی جنگی تیاریوں کے پیش نظر صحابہ کرام بھی چوکنارہنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دماغی حکمتِ عملی کا ایک جائزہ لیا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے داخلی استحکام کے پیش نظر مسلمانوں عیسائیوں یہودیوں کے درمیان ایک معاہدہ کیا کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے جسے (میثاق مدینہ ) کہتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہکفارِ مکہ کی معیشت کا زیادہ تردارومدار ملک شام کے ساتھ تجارت پر تھا اسی لئے مکہ مکرمہ ایک تجارتی مرکز کے طورپر مشہور تھا۔ اگر مشرکین مکہ کا تجارتی قافلہ مکہ کے جنوب میں (یمن ) وغیرہ کی طرف جائے تو مسلمانوں سے انہیں نقصان پہنچنے کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن جب اس کاروان تجارت کوشمال عراق، شام یا مصر کی طرف جانا ہوتا تو مدینہ شریف سے گذرنا پڑتا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کوپہلے اطلاع دی تھی کہ ان کا قافلہ مدینہ کے قرب وجوار سے ہر گز نہ گزرے تو انہوں نے انکار کردیا بلکہ اڑے رہے کہ ہم ضرور گزریں گے، چنانچہ جنگ بدر سے پہلے ابو سفیان بن حرب کی قیادت میں ایک تجارتی قافلہ ملک شام کی طرف گیا جس کی اطلاع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، چنانچہ آقا ئے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ۳۱۳صحابہ کے ہمراہ ۱۲رمضان المبارک ۲ھ دشمن کو روکنے کی خاطر روانہ ہوئے ۔ لیکن دشمن کا تجارتی قافلہ سمندری راستہ کے ذریعہ بچ نکلااور اسلامی لشکر (وادی ذفران) میں پہنچا تو ابوسفیان کے ہمراہ تجارتی فاقلہ کے مکہ مکرمہ کی طرف جانے اور ابوجہل کی قیادت میں ایک ہزار پر مشتمل لشکر جرار، اسلحہ سواریوں کے ساتھ مسلمانوں کو ختم کرنے کی غرض سے مکہ مکرمہ سے نکلنے کی اطلاع موصول ہوئی تو آقاکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ تجارتی قافلہ کا پیچھا کیاجائے یا بدر کی طرف آنے والے مشرکین مکہ کا مقابلہ کیا جائے۔

ابتداء ً صحابہ کرام کی رائے بٹ گئی، بعض نے کہا تجارتی قافلے کا تعاقب کیاجائے اور بعض نے کہاکہ مشرکین کے ناپاک ارادہ کا ڈٹ کر جواب دیا جائے ،رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی چاہتے تھے کہ ان کی سرکوبی کی جائے تاکہ آئندہ انہیں اسی طرح کی جرء ت نہ ہو اہل اسلام کے بے سروسامانی کے باوجود حوصلے بلند تھے ہر کوئی جامِ شہادت نوش کرنے کا مشتاق تھا۔ان کا شوق شہادت ان کی آنکھوں اور زبان سے عیاں تھا وہ مادّی وسائل پر نہیں قوتِ ایمانی پر یقین رکھتے تھے وہ دشمن کی ظاہری طاقت سے خائف نہیں تھے انہیں اللہ کی مدد ورحمت پر کامل بھروسہ تھا، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی نقل وحرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

دشمن کے دو آدمیوں کو کنویں سے پانی لیتے ہوئے دیکھا گیاتو انہیں گرفتار کرکے حضور کی بارگاہ میں پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نوجوانوں سے مشرکین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی غرض سے کئی سوالات کئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ مکی فوج کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا اس ٹیلے کے پیچھے ہے جو دور کنارے پر نظر آرہا ہے آپ نے سوال کیا کہ ان کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں کہا ہمیں نہیں معلوم، پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ روزانہ کھانے کے لئے کتنے اُونٹ ذبح کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کسی دن نو کسی دن دس کٹتے ہیں یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن کی تعداد لگ بھک نوسو سے ایک ہزار تک ہے۔

آپ نے مزید سوال کیا کہ فوج میں کون کون بڑے لوگ موجو د ہیں نوجوان نے جواب دیا عتبہ بن ربیعہ، شیبہ، ابوجہل، امیہ بن خلف، عباس بن عبدالمطلب وغیرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی فوج کی تعداد اوران کی قوت کا صحیح طورپر اندازہ لگالیا پھر آپ اسلامی لشکر کے ساتھ بدر کی طرف آگے بڑھے یہ رمضان المبارک کی ۱۶تاریخ تھی آپ مشرکین مکہ سے پہلے پانی کے چشموں تک پہنچنا چاہتے تھے بدر پہنچ کر آپ پانی کے کنویں کے پاس اُترے تو ایک صحابی حضرت حباب بن منذر انصار ی ؓ نے عرض کی یارسول اللہ ہمیں آگے چل کر دشمن کے قریب ترین پانی پر قیام کرنا چاہئے پچھلے کنویں میں مزید پانی بھر دیا جائے تاکہ دشمن کی پانی تک رسائی نہ ہوسکے اس طرح اسلامی لشکر نے آگے بڑھ کر دشمن کے قریب ترین پانی پر پڑائوڈالا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک خیمہ نصب کیاگیاابو جہل نے امن کی ہر پیشکش ٹھکرادی۔

فریقین آمنے سامنے صف آراء تھے ایک طرف باطل کا لشکر تھا دوسری طرف اہل حق کا لشکر، رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ خدا وندی میں سجدہ ریز ہیں چشمانِ مبارک سے آنسوں بہہ رہے ہیں دعا کے لئے رب العالمین کی بارگاہ میں ہاتھ اُٹھے ہوئے ہیں اورعرض کررہے ہیں: اللھم أنجزلي ماوعدتنی، اللھم ان تھلک ھذہ العصابۃ من اہل اسلام لا تعبد في الارض۔ اے اللہ! تو اپنا وعدہ (نصرت) پورا فرما اے اللہ ! اگراہل سلام کی جماعت ہلاک ہوجائے تو قیامت تک زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر ؓ دعا کایہ منظر دیکھ کر عرض گذار ہوئے یارسول اللہ! بس کیجئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرلی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کو فتح ونصرت اور فرشتوں کے ذریعہ مدد کی خوشخبری سنائی ۔

اللہ کی مدد کا آغاز ہوا جنگ کی رات خوب بارش ہوئی ریتلی زمین میں سختی آگئی، اور مسلمانوں کو زمین پر پائوں جمانے میں آسانی محسوس ہونے لگی۔ یہی بارش کفار ومشرکین کے لئے زحمت بن گئی ان کا علاقہ دلدل میں تبدیل ہوگیا۔ معرکہ بدر واقعہ ہونے سے پہلے آقانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ میدان جنگ کا جائزہ لیا اور کفار کی قتل گاہوں کی نشاندہی کی قریش کے ایک ایک سردار کا نام لے کر بتایا کہ فلاں کی لاش یہاں گرے گی فلاں کی لاش وہاں ہوگی حضرت عمرؓ فرماتے ہیں حضور کے فرمانے کے مطابق لاشیں وہیں پڑی ملیں چانچہ مسلم شریف میں ہے: فما ماط احدھم عن موضع یدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کے رکھنے کی جگہ سے کوئی ایک (کافر کی بھی لاش بتائی ہوئی جگہ سے) متجاوز نہیں ہوئی ۔

سب سے پہلے میدان جنگ میں رسول انور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے حضرت علی ، حضرت حمزہ، حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم کو شیبہ عتبہ بن ربیعہ ولید کے مقابل میں اتارا، تینوں نے بڑی جرأتمندی کے ساتھ تھوڑی دیر میں تینوں مشرکوں کو واصل جہنم کردیا دوران جنگ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے عبد الرحمن کو للکارا جو جنگ میں مشرکین کے ساتھ تھے اورحضرت عمر ؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کردیا حضرت ابو حذیفہ ؓ نے اپنے باپ عتبہ کو مقابلہ کے لئے دعوت دی یہ صحابہ کرام کا عشق خدا ورسول تھا۔

ابتداء میں مسلمان دفاعی جنگ لڑتے رہے دشمن جوش کے ساتھ حملہ کرتے رہے ان حملوں میں ان کی بہت سی عسکری قوت ضائع ہوتی رہی ، مسلمانوں کا نقصان بہت کم ہوا، کفار کے حملے کمزور پڑگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دشمن پر جوابی حملے کا حکم دیا۔ ادھر رب کریم نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی مددکے لئے آسمانوں سے فرشتوں کو بدر کے میدان میں اُتارا، ارشاد باری ہے: اِذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم اني ممدکم بألف من الملائکۃ مردفین (الانفال :۹)اس وقت کویادکرو جب تم فرمایاد کررہے تھے۔

اپنے رب سے تو سن لی اس نے تمہاری فریاد (اور فرمایا) یقینا میں مدد کرنے والاہوں تمہاری ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ جو پے درپے آنے والے ہیں پہلے ایک ہزار پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار ملائکہ اہل اسلام کی مدد کے لئے میدان بدر میں اتر آئے اورکفار کی گردنیں مارنے لگے حضرت جبرئیل امین حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ مٹھی بھر کنکریاں کفار کی طرف پھینکئے چنانچہ آپ نے کنکریاں پھینکیں توان کنکریوں نے جنگ کا نقشہ ہی بدل ڈالا کفار کے کئی سردار مارے گئے دشمنان اسلام کے سردار ابوجہل کو معاذؓ اور معوذؓ نے مار کر ڈھیر کردیا۔حق وباطل کے اس معرکہ میں اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت سے اہل اسلام کی عظیم فتح ہوئی اور مشرکین کا غرورو تکبر خاک میں مل گیا اس معرکہ میں دشمن کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمی گرفتار ہوئے بدر کے میدان میں جب مال غنیمت اکٹھاکیا گیا اور قیدیوں کو زنجیروں میں جکڑدیا گیا تو رسول انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارکے مقتولین کی لاشیں اٹھا کر کنویں میں ڈالنے کا حکم دیا اس عظیم فتح کے ساتھ اسلامی لشکر میدان بدر سے تین دن بعد مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا۔

۲۲/رمضان المبارک چہارشنبہ کے روز مدینہ شریف میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی قیدیوں کے قیام وطعام کا انتظام فرمایا دو دو ،چار چار قیدی حسب استطاعت صحابہ کرام ؓ میں تقسیم کردیئے اور فرمایا ان کے آرام وآسائش کا پوراپورا خیال رکھا جائے صحابہ نے ان کا دل وجان سے خیال رکھاخود بھوکے پیاسے رہے لیکن ان قیدیوں کو کھلایا پلایا۔ ان قیدیوں میں ابو عزیز جو حضرت مصعب بن عمیرؓ کے بھائی تھے وہ کہتے ہیں کہ مجھے جن انصار یوں نے اپنے گھر میں قید رکھا تھا ۔

جب صبح وشام کا کھانا لاتے تو روٹی میرے سامنے رکھ دیتے اور خود کھجور کھالیتے مجھے شرم آتی اور روٹی میں ان کے ہاتھ میں دے دیتا لیکن وہ اسے ہاتھ بھی نہ لگاتے میری طرف واپس کردیتے، حسن سلوک کی ایسی مثال کسی مذہب میں نہیں ملتی آپ نے بعض صحابہ سے مشورہ کیا کہ دشمن سے حاصل کئے ہوئے مال غنیمت اور قیدیوں کے بارے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے تو حضرت عمر ؓ نے کہاکہ ان لوگوں سے ایمان کی توقع نہیںلہذا ان سب کو قتل کردینا چاہیے حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی یارسول اللہ ان کو قتل کرنے کے بجائے فدیہ لے کر رہا کردیا جائے ممکن ہے کہ ان کی آئندہ نسلیں ایمان لے آئیں حضور نے حضرت ابوبکر ؓ کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے فرمایاجو فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔

ان سے فدیہ لیا جائے اور جن کے پاس مال نہیں ہے اورو ہ لکھنا پڑھنا جانتے ہیںان سے فرمایا کے ایک ایک سو اونٹ دینے کے بجائے تم دس دس مسلمان بچوںکو لکھنا پڑھنا سکھائو یہی تمہارے لئے فدیہ ہوگا اور جن کے پاس ہتھیار تھا ان سے ہتھیارلے لیا گیا اور جن کے پاس نہ دولت تھی نہ ہتھیار تھا نہ علم تھا تو ان سے وعدہ لیا کے وہ مسلمانوں سے جنگ نہیں کریں گے۔ اس جنگ کے بعد مسلمانوں میں بڑی ہمت پیدا ہوئی اور اسلام کو غلبہ حاصل ہوا اس جنگ میں ۱۲/یا ۱۴صحابہ کرام شہید ہوئے اہل اسلام کو چاہیے کہ رمضان المبارک میں شہدائے بدر کے لئے ایصال ثواب کا ہتمام کریں ۔ رب العالمین ان کے صدقہ میں ہمیں اجر جمیل عطا فرمائے گا اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اسلام کو غلبہ عطافرمائے اورمسلمانوں کوسرخروکرے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔

٭ ٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button