جہانگیر پیراںؒ کاہے فیض عام

شجرئہ نسب: آپ کے والد گرامی حضرت سید ابو النصر وجیھ الدین یحییٰ قادری البغدادی رحمۃ اللہ علیہ حضور غوث الاعظم پیران پیر سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ کے آٹھویں پشت کے پوتے ہیں۔

ڈاکٹر سید شاہ مرتضیٰ علی صوفی حیدرؔپادشاہ قادری
معتمد سید الصوفیہ اکیڈمی ‘پرنسپل یس ‘ایم ‘وی کالج حیدرآباد

اشاعتِ اسلام کے لئے اپنا وطن اپنے آرام و آسائش کو ترک کرکے نکل پڑنا اور اپنی آخری سانس تک خدمتِ دین متین انجام دیتے رہنا بلکہ اس خدمت کی انجام دہی کرتے کرتے جان دے دیناسب کے بس کی بات نہیں۔ اولیاء اللہ کا یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی بدولت ہی اللہ کا دین اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا پیغام اقطاع عالم میں پوری آب و تاب کے ساتھ پھیلا خاص طور سے بر صغیر اور قدیم ہندوستان میں اشاعتِ اسلام کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو یہاں یکے بعد دیگرے ایسی ہی شخصیتوں کی آمد ہوتی رہی ہے۔

صاحب کشف المحجوب حضرت سیدنا علی ہجویری بن عثمان حسنی المعروف بہ داتا گنج بخشؒ‘ خواجہ خواجگان حضرت سیدنا خواجہ معین الدین حسن الحسینی الحسنی چشتی غریب نوازؒ‘ حضرت سیدنا خواجہ قطب الدین حسینی بختیار کاکیؒ کے علاوہ اولاد حضور غوث پاک ؓ کے کئی شاہزادوں نے بر صغیر کا رُخ کیا نتیجتاً یہاں کا چپہ چپہ اسلام کی دل آویز کرنوں سے جگمگانے لگا۔ گو کہ بادشاہوں کی آمد بھی ہوتی رہی جنھوں نے جہانبانی اور حکمرانی کو مقصد بنایا اور جس میں وہ اپنے دور کی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

چنانچہ صدیوں تک ارض ہند نے مختلف بادشاہوں کی بادشاہت کا مشاہدہ کیا تاہم اس دوران ہر بادشاہ اپنی حکومت و سلطنت کی بقاء ‘ تحفظ اور وسعت ہی کو مقصد حیات سمجھ کر سرگرم عمل رہا لیکن جب موت نے انھیں اپنی آغوش میں لے لیا تو اب اُن میں سے کسی کسی کا کہیں کہیں صرف نام رہ گیا۔ برخلاف اس کے اہل اللہ سے تعلق رکھنے والی وہ مبارک و عظیم شخصیات بھی ہیں جنھوں نے حکومت ‘ سلطنت کے بجائے اشاعتِ اسلام کو اپنا مقصد بنایا رضائے الٰہی کو اپنی منزل سمجھا‘ دین مصطفوی کے پھیلائو اور مخلوق کو خالقِ حقیقی سے جوڑنے کو اپنا مقصدِ حیات جانا‘ موت سے ہم آغوش تو وہ بھی ہوئے لیکن موت‘ مخلوق سے اُن اولیا ء اللہ کے تعلق کو توڑ نہ سکی۔ جس طرح دنیا کے بادشاہ موت سے دوچار ہوکر فراموش کردئے گئے‘ ان مبارک شخصیتوں کے ساتھ ایسانہ ہوا۔

اِن اللہ والوں کو ایسی حیات جاودانی دی گئی کہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی اُن کی مقبولیت میں ذرہ برابر کمی واقع نہ ہوسکی اور حقیقت تو یہ ہے کہ مخلوق میں ان کی مقبولیت دن بہ دن ترقی ہی کرتی جارہی ہے جب تک وہ باحیات تھے اشاعت اسلام اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائے ہوئے تھے اور اپنے مالک حقیقی سے جاملنے کے باوجود باذنِ الٰہی اپنے مزارات سے مخلوقِ خدا کو بلالحاظ مذہب و ملت فیض بخش رہے ہیں۔

ایسے ہی اہل اللہ میں ایک معروف اور زباں زد خاص و عام نام ’’حضر ت جہانگیر پیراںؒ‘‘ کا ہے جن کا آستانہ موجودہ شہر حیدرآباد سے تقریباً (۴۰) کلومیٹر کے فاصلہ پر شاد نگر کے راستہ پرواقع ہے جو پچھلی زائد از چھ صدیوں سے مرجعِ خلائق بنا ہوا ہے۔ درحقیقت اس مقام پر شہنشاہ بغداد حضور غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کی نویں پشت کے دوشہزادگان حضرت سید جہانگیر الدین قادری بغدادی ؒ اور حضرت سید برہان الدین قادری بغدادیؒ آرام فرما ہیں دونوں ہی بزرگانِ دین اشاعت اسلام کے سلسلہ میں کفر و ضلالت کے خلاف جدوجہد کے دوران قریب (۸۰۳ھ م ۱۴۰۱ء) میں شہید ہوئے۔

شجرئہ نسب: آپ کے والد گرامی حضرت سید ابو النصر وجیھ الدین یحییٰ قادری البغدادی رحمۃ اللہ علیہ حضور غوث الاعظم پیران پیر سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ کے آٹھویں پشت کے پوتے ہیں۔سلسلہ نسب یہ ہے۔

حضرت ابوالنصر سید وجیھ الدین یحییٰ قادری البغدادی ؒ بن حضرت ابوتراب سید امیر الدین حسین الصالح قادری البغدادی ؒ بن حضرت ابوالمحاسن سید بدر الدین ہاشم قادری البغدادی ؒ بن حضرت ابو محمد سید جمال الدین موسیٰ قادری البغدادی ؒبن حضرت ابو جعفر سید عبد القادر الکبیر قادری البغدادی ؒ بن حضرت ابوالنصر سید شمس الدین محمد قادری البغدادیؒ بن قاضی القضاۃ حضرت ابوصالح سید عماد الدین نصر احمد قادری البغدادی ؒ بن حضرت حافظ ابوبکر سید تاج الدین عبد الرزاق حنبلی قادری البغدادیؒ بن حضرت غوث اعظم میراں محی الدین سید شیخ عبد القادر حسنی حسینی جعفری جیلانی قدس سرہ۔

بغداد سے آمد : در حقیقت آپ کے والد ماجد حضرت سید ابوالنصر وجیھ الدین یحییٰ قادری البغدادی اپنے تین فرزندان حضرت سید شاہ جہانگیر الدین جہانگیر پیراں قادری بغدادی ‘حضرت سید شاہ عصام الدین اولیاء قادری بغدادی ؒ و حضرت سید شاہ برھان الدین اولیاء قادری بغدادی ؒ کے ہمراہ آٹھویں صدی ہجری یعنی چودھویں صدی عیسوی کے اواخر میں ملک ِ دکن کی طرف تشریف لائے آپ کے ساتھ آپ کے مذکورہ تینوں فرزندان کے علاوہ دو حقیقی برادران حضرت سید شاہ وجود صوفی قادری بغدادی وحضرت سید شاہ موجود صوفی قادری بغدادی ؒ (مزارات واقع نرکھوڑاقریب شمس آباد) دیگر اقارب ومریدین اور خادمین بھی ملک دکن وارد ہوئے جبکہ خواجہ دکن حضرت بندہ نواز گیسو درازؒ (المتوفی۸۲۵ھ م ۱۴۲۲ء) سرزمین گلبرگہ شریف سے ولایت کی کرنیں بکھیر رہے تھے جو بہمنی حکمرانوں کا دور کہلاتا ہے ۔

تاریخی پس منظر: درگاہ شریف حضرت جہانگیر پیراں ؒ جس مقام پر واقع ہے وہ ملک دکن کا اُس وقت ایسا علاقہ تھا جس پر ابھی اہل ایمان کے قدم مضبوطی کے ساتھ جمے نہیں تھے کیونکہ علاقہ تلنگانہ پر پہلے تو کاکتیہ خاندان کی حکومت تھی جس کے ایک راجہ پرتاب رودرانے ۱۳۰۹ء میں سلطان علاء الدین خلجی (المتوفی۱۳۱۶ء) کی اطاعت قبول کرلی تھی اس طرح اس علاقہ میں پہلی بار مسلمانوں کا عمل دخل ہوا بعد ازاں ۱۳۴۵ء میں بہمنی سلطنت کے قیام کے بعد اس علاقہ پر بھی اسکے اثرات مرتب ہونے لگے ۔اُن نازک حالات میں جبکہ اہل ایمان اس علاقہ میں نووارد کی حیثیت سے قدم جمارہے تھے بہت سارے سر بکف جواں مردوں اور شیدائیانِ شہادت نے جوشِ ایمانی سے سرشار ہو کر عَلمِ ایمان بلند کیا تو اہل کفر وضلالت برانگیختہ ہوگئے۔

جام شہادت: حضرت جہانگیر پیراں اور آپ کے خانوادے سے تعلق رکھنے والی ان نفوس قدسیہ نے اپنی جسمانی وروحانی توانا ئیوں کو اعلائے کلمۃ الحق واشاعتِ دین متین اور احقاق حق وابطال باطل کے لئے وقف کردیا اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حضرت جہانگیر پیراں ؒ ‘آپ کے والد ماجد ‘دونوں چچائوں اور برادران و متعلقین نے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا اورراہِ حق میں جام شہادت نوش کرلیا صرف حضرت جہانگیر پیراں ؒ کے برادر زادے حضرت سید ابوالحسن فخر الدین امیر علی زاہد قادریؒ ابن ابو المحمود سید عصام الدین اولیاء قادری بغدادیؒ بقید حیات رہے جن سے سلسلہ نسل جاری ہے ۔

مرکز فیضان درگاہ: شہادت کے بعد حضرت سید جہانگیر الدین قادری بغدادی ؒ عرف جہانگیر پیراں ؒ تو اپنے ایک برادر حضرت سید برہان الدین قادری بغدادی برہان الدین اولیائؒ کے ساتھ موضع یلمن نروہ شادنگر میں آرام فرماہیں جبکہ آپ کے دوسرے بھائی حضرت ابو المحمود سید عصام الدین زکی قادری بغدادی عصام الدین اولیاء ؒ ‘ آپ کے والد حضرت سید ابوالنصر وجیھ الدین یحییٰ قادری بغدادیؒ آپ کے دونوں چچا حضرت سید وجود قادری بغدادی ؒ‘حضرت سید موجود قادری بغدادی ؒ شہید ہونے کے بعد دیگر شہدائے کرام کے ساتھ پر گنہ نرکھوڑہ (قریب شمس آباد) میں لب سڑ ک واقع گنج شہیداں میں آرام فرما ہیں جن کے مزارات زیارت گاہ خاص و عام ہیں ۔

حضرت سید جہانگیر الدین قادری بغدادیؒ اور حضرت سید برہان الدین قادری بغدادیؒ کے مزارات مبارکہ جو موضع یلمن نروہ شاد نگر میں جہانگیر پیراںؒ کے نام سے مشہور ہیں پر بلالحاظ مذہب و ملت عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے سال کے بارہ مہینے درگاہ شریف پر زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے تاہم جمعرات‘ جمعہ اور اتوار کو زائرین کثیر تعداد میں حاضر ہوکر اپنے مقاصد دینی و دنیوی کے لئے ان اللہ والوں کے آستانہ پر بارگاہِ رب العزت میں دعائیں کرتے اور مقبولیت سے سرفراز و بامراد ہوتے ہیں و نیز نذر و نیاز کا سلسلہ ہروقت لگا رہتا ہے تاہم ماہ جنوری میں تلسنکرات کے قریب سالانہ عرس مبارک کے موقع پر دُور دراز سے زائرین و معتقدینِ اولیاء اللہ کا بلالحاظ مذہب و ملت‘ عقیدہ و فکر ایک ہجوم رہتا ہے۔زمانہ سابق میں عرس شریف تل سنکرات سے ایک ماہ پہلے شروع ہوتا اور ایک ماہ بعد تک جاری رہتا چونکہ اطراف واکناف میں غیر مسلم برادران وطن کی کثرت ہے اور وہی لوگ عقیدت مند ی کے ساتھ سال بھر آیا کرتے ہیں شاید اسی لئے عرس شریف کیلئے ایک معروف تاریخ رکھنے کے بجائے سب میں مشہور ایک تہوار کے قریب والے ایام کا عرس کیلئے تعین کیا گیا ہو ۔

آئے دن عوام الناس فیوض و برکات حاصل کرتے رہتے ہیں اور عجائب و کرامات کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں پچھلے تقریبا ساڑھے چھہ سو سال سے ہر مذہب و عقیدہ کے لوگوں کی عقیدت کے ساتھ حاضری نہ صرف اولیاء اللہ سے مخلوق خدا کی محبت کااظہار کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کاایک بے مثال نمونہ بھی پیش کرتی ہے ۔ سابق میں ۴۰- ۵۰ سال قبل تک احاطہ درگاہ شریف اور اطراف و اکناف میں شام کے وقت قیام ممنوع تھا اور عوام الناس میں یہ بات مشہور تھی مغرب کے بعد شیر و دیگر جنگلی جانور کی درگاہ شریف آمدہوتی ہے تاہم آبادی کے اضافہ نے اس قدیم روایت کو عملاً باقی نہ رکھا ۔ پچھلی صدی میں جب جد مکرم امام الصوفیہ سید السادات شیخ الشیوخ صوفی الاولیاء حضرت صوفی اعظم قطب دکنؒ (المتوفی ۱۳۴۹ھ م ۱۹۳۰ء) بارگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے سجادہ نشین تھے تو قریب ہی میں واقع موضع یلمن نروہ کے مقطعہ صوفی گوڑہ میں قیام پذیر ہوکر دن کے اوقات میں درگاہ شریف حاضر ہوتے اور مغرب سے قبل اپنے سارے متعلقین مریدین و معتقدین کو لے کر اپنی قیام گاہ واقع صوفی گوڑہ یلمن نروہ واپس ہوجاتے تاکہ احاطہ درگاہ شریف قدیم روایت کے مطابق قبل مغرب ہی زائرین سے خالی ہوجائے۔ اُس وقت کی تفصیلات و کیفیات جد مکرم امام الصوفیہ سید السادات شیخ الشیوخ صوفی الاولیاء حضرت صوفی اعظم قطب دکنؒ کے فرزندسوم حضرت حکیم سید شاہ قادر علی صوفی صفا ؔقادریؒ (المتوفی ۱۳۸۸ھ م ۱۹۶۸ء) اپنی زبانی خاندان والوں کے سامنے بڑی تفصیل سے سنایا کرتے چونکہ موصوف اُس وقت صغر سنی کے عالم میں تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت جہانگیر پیراںؒ اور آپ کے خاندان کے اکثر افراد کی شہادت ہوئی تو آپ کے برادرزادے حضرت ابو الحسن سید امیر صوفی قادری ؒ بن حضرت عصام الدین اولیاءؒ کی اولاد جاری رہی جب حالات کچھ سازگار ہوئے اور۱۵۱۸ء میں قطب شاہی دور کا آغاز ہوا تو آپ ہی کی اولاد میں بادشاہوں نے انعامات ‘نقدی معاش و جاگیرات وغیرہ پیش کیںجس کا سلسلہ قطب شاہی سلطنت کے خاتمہ تک جاری رہا اس کے بعد یہ علاقہ اورنگزیب عالمگیر ( المتوفی۱۱۱۸ھ م۱۷۰۷ء )کے زیر نگیں آنے پر بھی انعامات شاہی کا سلسلہ جاری رہا چنانچہ سلطنت قطب شاہیہ کے بعد سلطنت مغلیہ میں منتقلی کے وقت موجود ہ سجادہ نشین جد معظم قد وۃ الاولیاء ‘زبدۃ الاصفیاء حضرت سید شاہ رضا صوفی درویش قادری ؒ(المتوفی۱۱۵۲ھ)نبسئہ حضرت سید شاہ راجو قتال حسینی ؒ آستانہ عالیہ مصری گنج(المتوفی ۱۰۹۶ھ ) کے نام اورنگ زیب عالم گیر کے فرامین (متعلقہ اراضیات انعامی نرکھوڑہ‘ پیر لہ گوڑہ موضع ینمل نروا وغیرہ) آج بھی راقم الحروف کے خاندان میں محفوظ ہیں۔

چنانچہ تذکرہ صوفیہ میں درج ہے کہ صوفیہ و علماء کرام کا قدردان شہنشاہ عالمگیر جب حضرت جہانگیر پیراں ؒ کے برادر حضرت عصام الدین اولیاء ؒ کی ساتویں پشت کے پوتے اور اس وقت کے سجادہ نشین بارگاہ جہانگیر پیراں ؒ قد وۃ الاولیاء ‘زبدۃ الاصفیاء حضرت سید شاہ رضا صوفی درویش قادری قدس سرہ کی خدمت میں آپ کی ملاقات کیلئے آستانہ عالی پر آئے اور حضرت اقدس ؒ کے نا م مختلف مقامات کی اراضیات آپ کی خدمت میں پیش کی جس میں حضرت سید جہانگیر پیراں ؒ کی درگاہ شریف کے اطراف و اکناف کی زمین شامل تھی ۔سند عطیہ پادشاہ اورنگ زیب عالمگیر غازی متعلقہ اراضی پیرلہ گوڑہ موضع ینمل نروہ کے چند سطور ذیل میں درج ہیں۔

’’متصدیاں مہمات حال و استقبال پرگنہ نرکوڑہ سرکار محمد نگر مضاف بہ صوبہ حیدرآباد بدا نند کہ بموجب اسناد پیشیں موازی ہشتصد بیگہ زمین پیرلہ گوڑہ خار ججمع از موضع ینمل نروا پرگنہ مذکور بہ تصدق فرق مبارک بندگان حضرت قدرقدرت حسب ضمن دروجہ معاش صوفی سید رضا ولد سید منصور سجادہ روضہ حضرت سید جہانگیر و سید برہان قدس سرہما نسلاًبعد نسل مقرر گشتہ باید کہ اراضی مسطور پیمودہ چک بستہ مدام بہ قبض و تصرف او واگذارند کہ مزروع ساختہ حاصلات انر ا صرف معیشت نمودہ بدعا گوی دوام دولت ابدمدت مشغول باشد‘‘

ترجمہ: پرگنہ نرکھوڑہ سرکار محمد نگر متصل صوبہ حیدرآباد کے موجود ہ اور آئندہ متصدیوں کو معلوم ہوکہ پہلے کے اسناد اور پادشاہ وقت کی تصدیق کے بموجب آٹھ سو (۸۰۰) بیگہ زمین پیرلہ گوڑہ موضع ینمل نروا پرگنہ مذکور کو بطور معاش صوفی سید رضا ولد سید منصور سجادہ روضہ حضرت سید جہانگیر و سید برہان قدس سرہم نسل کے بعد نسل سے مقرر ہے ۔چاہئے کہ مذکورہ اراضی پیمائش کردہ موصوف کے قبضہ و تصرف میں دی جائے تا کہ اس میں ذراعت کردہ مفادات کو موصوف صرف اپنی گذر بسر پر صرف کریں اور ملک و پادشاہ کے بقا کیلئے ہمیشہ دعا گو رہیں۔

حضرت سید شاہ رضا صوفی درویش قادری ؒ(المتوفی ۱۱۵۲ھ ) کے بعد انہیں کی اولاد میں نسلاً بعد نسل حضرت صوفی اعظم قطب دکن ؒ (المتوفی ۱۳۴۹ھ) کے وصال تک منصب سجادگی حضرت منتقل ہوتا رہا چنانچہ حضرت سید شاہ رضا صوفی درویش قادری ؒ کے بعد ان کے فرزند ارجمند حضرت سید شاہ اکبر صوفی قادری ؒ (المتوفی۱۱۶۵ھ) پھر ان کے بعد ان کے فرزند حضرت سید حیدر شاہ علی صوفی قادری ؒ (المتوفی ۱۲۲۱ھ)پھر ان کے بعد حضرت سید شاہ سبحان علی صوفی قادریؒ (المتوفی ۱۲۸۳ھ)پھر ان کے بعد ان کے فرزند حضرت سید شاہ سجاد علی صوفی معزؔقادری ؒ(المتوفی ۱۳۰۷ھ) پھر ان کے بعد ان کے فرزند حضرت سیدشاہ اعظم علی صوفی اعظم قادری ؒالمعروف بہ صوفی اعظم قطب دکن ؒ (المتوفی ۱۳۴۹ھ) تک بلا وقفہ حضرت جہانگیر پیراں ؒ کی سجادگی منتقل ہوتی رہی تاہم آپ کے وصال کے بعد خادمین ومجاورین اور حضرت سجادہ صاحب قبلہ ؒ کی حین حیات متعین و مقرر کردہ منتظمین درگاہ شریف کی آپس میں ایک دوسرے کی برتری ثابت کرنے کی کوششوں میں تلخیاں اور غلط فہمیاں اس قدر بڑھ گئی کہ نوبت مقدمہ بازی تک پہنچ گئی اس دوران ریاست حیدرآباد دکن روبہ زوال ہونے لگی اور حضرت جہانگیر پیراں ؒ کے آخری سجادہ نشین حضرت صوفی اعظم قطب دکنؒ کے فرزند اکبر و جانشین حضرت سید الصوفیہ مفتی ابو الخیر سید شاہ احمد علی صوفی صفیؔقادری ؒنے ۱۳۶۸ھ م ۱۹۴۸ء میں وصال فرمایا ۔بالآخر سارے انتظامات حکومت کے تحت ہونے لگے چنانچہ پچھلے ۷۰سال سے یومیہ انتظامات و سالانہ عرس کے موقع پر خصوصی نظم ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے کیا جاتا ہے ۔

(مضمون کی تیا ری میں کتب ذیل سے استفادہ کیا گیا ‘ تاریخ شہر حیدرآباد‘فرخندہ بنیاد حیدرآباد ‘شجرہ غوثیہ ‘مقدس ٹیکمال ‘جمع السلاسل ‘ تذکرہ صوفیہ‘ طبقات الصوفیہ ‘تذکرہ اولیائے شمس آباد‘تاریخ صوفیہ کرام وسلاطین دکن ودیگر کتب تاریخ و سیر)

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button