جہیز ایک ناسور … یا نوجوانوں کی ڈھال‎‎

یوں تو ریاست تلنگانہ میں ضلع نلگنڈ ہ شروع ہی سے اپنی الگ پہچان بنائے رکھا ہے کیونکہ یہ ہماری ریاست کے صدر مقام حیدر آباد سے قریباً 100 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کی وجہ سے حیدر آباد کی تہذیب یہاں پر زیاده نہ سہی کچھ تو دکھائی دیتی ہے، دونوں پہاڑوں لطيف اللہ شاہ قادریؒ اور امام ضامن کے بیچوں بیچ شہر کا زیادہ تر حصہ آباد ہے ،جغرافیائی اعتبار سے گرم علاقہ میں شمار کیا جاتا ہے .

فہمیدہ تبسم: ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ

یوں تو ریاست تلنگانہ میں ضلع نلگنڈ ہ شروع ہی سے اپنی الگ پہچان بنائے رکھا ہے کیونکہ یہ ہماری ریاست کے صدر مقام حیدر آباد سے قریباً 100 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کی وجہ سے حیدر آباد کی تہذیب یہاں پر زیاده نہ سہی کچھ تو دکھائی دیتی ہے، دونوں پہاڑوں لطيف اللہ شاہ قادریؒ اور امام ضامن کے بیچوں بیچ شہر کا زیادہ تر حصہ آباد ہے ،جغرافیائی اعتبار سے گرم علاقہ میں شمار کیا جاتا ہے .

ضلع نلگنڈہ میں ہر مذہب اور فرقہ کے لوگ آباد ہیں ، یہاں پر مساجد و منادر اور کلیسا کی بہتات ہے ، مذہبی تہوار بڑی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں …

مسلمانوں کی آبادی پرانے علاقوں میں زياده آباد ہے جن میں مانیم چلکہ ، جامع مسجد ، پنچ شاه ، اسلام پوره ، بی ۔ ٹی ایس رحمن باغ اور حیدرخان گوڑه شامل ہیں ، اس کے علاوہ نئے علاقوں میں بھی آبادی کا تناسب بہتر ہی مانا جاتا ہے …

ضلع کے مسلم خاندانوں کی بات اگر ہم کریں گے تو تناسب زیادہ تر متوسط سے غریب طبقہ کی طرف جائے گا یہاں بسنے والوں میں سرکاری ملازمین اور يو میہ اجرت پر کمانے والے ہیں جن میں میوه فروش ، ترکاری کا دھندا کرنے والے اور مزدورو دیگر شامل ہیں، جو تا حال یہاں مقیم ہیں جاگیردار خاندان یا تو شہروں کا رخ کئے ہوئے ہیں یا بیرون ممالک سدھار گئے ہیں …

شادی بیاه يا دیگر تقریبات کے لئے یہاں کے عوام کو شاپنگ حیدر آباد جاکر ہی کرنی پڑتی ہے کیونکہ ضلع میں کوئی خاص شاپنگ مالس موجود نہیں ہیں ، ہاں اطراف و اکناف کے علاقوں سے دیہی عوام یہاں پر آکر خریداری کرتے ہیں۔

خیال یہ کیا جارہا ہے کہ ذریعہ معاش کے فقدان کی وجہ سے نوجوان نسل میں بے روزگاری میں اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے جس کی وجہ سے جہیز جیسے ناسور میں ان کا رحجان بڑھنا اور اضافہ کا سبب بنتا جارہا ہے ، اب زیاده تر ہمارے مسلم معاشره میں جہیز کی مانگ بڑھنے لگی ہے، لڑکا چاہے برسر روزگار ہویانہ ہو ، تعلیم یافتہ رہے یا نہ رہے مجموعی طور پر لڑکے کی کوئی خاطر خواہ قابلیت کو ترجیح نہیں دی جاتی بلکہ صرف وہ لڑکا ہے بس رشتے کے لئے یہی فضیلت ہوتی ہے۔

اور ایک رواج آج کل عام ہوتا چلا آرہا ہے کہ لڑکی ایسی ہونی چاہیے کہ Back Supportہونا لازمی ہے یہ بیاک سپورٹ ہی دراصل جہیز اور دین لین کی دوسری شکل ہے ، اب ہر حال میں لڑکی کے والدین کواس فارمولہ پر لامحالہ عمل پیرا ہونا ضروری قرار دیا جانے لگاہے، اب بیاک سپورٹ میں آتا کیا ہے تو یہ بھی دیکھ لیں فلیٹ ، پلاٹ یا پھر پانچ تا سات لاکھ کا لڑکی کے نام پر فکس ڈپازٹ کرنا ، ساس نوجوان اور تندرست ہونی چاہیے تاکہ آئندہ نواسے ، نواسیوں کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے کر سکے ، اگر لڑکی کی ماں کوئی جاب ہولڈر ہو تو "سونے پہ سہاگہ ” ہو جائے گا کیونکہ پنشن کے بعد آنے والی رقم یا دیگر سرکاری بینیفٹس میں لڑکی حصہ دار جو ہو جائےگی یا پھر ایک عددکار یعنی کے شادی کے بعد شادی شده جوڑے کی ساری زندگی آرام سے گزر جائے یہ سب شامل ہیں ، ایک متوسط گھرانے کے ماں باپ اور ایک سرکاری ملازم پیشہ باپ یہ سب کیسے دے پائے گا؟ سوچنے والی بات ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے گھرانوں کی لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کو ترجیح دینے لگی ہیں اور ماں باپ کی اس بے ہودہ مانگ نے لڑکوں کو گناہ میں مبتلا ہونے پر مجبور کردیا ہے وہ بھی غیر مسلم لڑکیوں کو شریک حیات بنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کر رہے ہیں …

ایک وہ دور تھا جبکہ رشتے خاندان حسب و نسب کو دیکھ کر طے کئے جاتے تھے ، لڑکی خاندانی ہو اور اخلاق و کردار میں پوری طرح اترتی ہو، سب سے زیادہ ترجیح والی بات لڑکی کی ماں کا ماضی دیکھا جاتا تھا کیونکہ لڑکی زیادہ تر اپنی ماں پر جا تی ہے… اگر ماں سسرال والوں میں اپنا اچھا نام قائم رکھی ہوئی ہو اور اچھی طرح سے ہر رشتے کو نباه رہی ہو تو ایسی لڑکی رشتے کے لئے بنا کوئی عذر قابل قبول ہوتی تھی،اگرچہ وہ خوب صورت اور پڑھی لکھی نہ بھی ہو… سلیقہ شعار بہو اور بیوی کی مانگ زیادہ رہتی تھی رشتوں کو نبھانے والی ، جوائنٹ فیملی میں خود کو ایڈجسٹ کرنے والی اور بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کرنےوالی اور دینی معلومات و امور خانہ داری سے واقفیت ان تمام نکات پر رشتے طے کئے جاتے تھے۔

بدلتے حالات نے یہاں کے مسلم خاندانوں کے نظریات کو بدل کر رکھ دیا ، خاندانوں کے شجرۂ نسب کی جگہ جہیز اور خوب صورتی ، گھوڑا جوڑا اور واہیات رسم و رواج نے لے لی ہے اور اخلاق و اطوار کو نظر انداز کرکے فیشن پرستی کے نام نہادٹیرنڈس، بے کار اصولوں و بے باکی اور بے حیائی کو ترجیح دی جانے لگی ہے ، دین اور سنت رسول کو بالائے طاق رکھ کرشرک و بدعت اور بے جا رسوم و رواج اور عقائد کو استعمال میں لایا جا رہا ہے ۔

اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج بھی ہمارے ضلع میں چند گنتی کے ایسے خاندان رہ گئے ہیں جو اپنے پر کھوں کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور مسجد میں نکاح پڑھوا کر دلہن کو وداع کر لے جارہے ہیں اور بات چیت کی مجلس میں صرف اور صرف مہر کی ہی بات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ نکاح کو آسان بنایا جائے تاکہ معاشره و ملت میں مساوات قائم ہوسکے ، نہ امیر نہ غریب نہ مستحق نہ صاحب استطاعت سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں تاکہ لڑکیوں کے ذہنوں میں موازنہ کرنے کا خیال دور دور تک نہ داخل ہوسکے ، جس سے ہر گھر کی لڑکی اپنی شادی سے مطمئن ہوسکے اور ہر لڑکا جہیز جیسی لعنت کے بوجھ تلے نہ دب پائے ۔

جو اہل خیر حضرات ہیں ان سے گزارش یہ ہے کہ بے جا رسم و رواج کا خاتمہ کریں اور امیر یا جاگیردار افراد سے مودبانہ گزارش ہے کہ اسراف اور فضول خرچی میں نہ پڑیں بلکہ اس رقم کو مستحق اور غریب و نادر لڑکیوں کی تعلیم و نکاح پر خرچ کریں اور دیگر ڈھیر سارے مسائل موجود ہیں جیسے بے روزگاری ، سماجی برائیاں ،( جن کی اصلاح ہم سب کی ذمہ داری ہے) بیماروں کے علاج ، یتیم بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری ،راشن کی تقسیم ، ، برسات میں منہدم ہونے والے مکانات کی مرمت اور مفت کوچنگ سنٹرس( زیاده سے زیاده تعلیمی اداروں اور تعلیمی منصوبوں پر نظر رکھیں کیونکہ ہماری ترقی کا راز اسی میں مضمر ہے)اور ایک اہم گزارش یہ کہ حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے مراعات میں اپنی رقومات کو شامل کرکے کسی بھی کام کو مکمل و انجام تک پہنچائیں تاکہ کسی نہ کسی کا بھلا ہو سکے ان تمام کار خیر میں شراکت دار بن کر اپنی آخرت سنوار لیں اور اپنے علاقے اور ضلع کی ترقی کے ضامن ہو جائیں ۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button