حجاب اور برقع افغانستان کی ثقافت کا حصہ:طالبان

افغانستان میں تحریک طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے زور دے کر کہا ہے کہ حجاب اور برقع ان کے ملک کی ثقافت کا حصہ ہیں۔

کابل: افغانستان میں تحریک طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے زور دے کر کہا ہے کہ حجاب اور برقع ان کے ملک کی ثقافت کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے براڈکاسٹروں پر برقع نافذ کیا لیکن ہم خواتین ٹی وی پیش کاروں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنا منہ اور ناک ڈھانپیں۔

اس کے لیے محض ماسک کافی ہے مگر پردہ اسلامی شریعت میں لازمی ہے۔معروف ترین افغان ٹی وی چینلز پر تمام خواتین اناؤنسر اتوار کے روز نقاب پہنے نمودار ہوئیں۔

اْنہوں نے صرف اپنی آنکھیں اور ماتھے کو ظاہر کیا۔ ان میں "طلوع نیوز”، "شمشاد ٹی وی”، "وان ٹی وی” اور "اریانا” چینل شامل ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے "العربیہ” چینل کو دیے ایک انٹرویو میں میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیاں ان کے لیے کھلی ہیں اور حکومت سیکیورٹی نافذ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ طالبات کو اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

تبصرہ کریں

Back to top button