حجاب اور نماز کی مخالفت مسلمانوں کے خلاف نئی محاذ آرائی

ہماری حکومتوں کی ساری توجہ آج کل اومیکرون اور ڈیلٹا جیسے کووڈ19- کے ویرینٹس نے اپنی طرف کھینچ رکھی ہے۔شاید اسی لئے وہ اس وائرس پر توجہ نہیں دے پا رہی ہیں جو کہ اس ملک کے اندر بھل منساہت، بھائی چارگی اور سماجی ہم آہنگی کو نہ صرف نقصان پہنچا رہا ہے ا

پروفیسر اخترالواسع

ہماری حکومتوں کی ساری توجہ آج کل اومیکرون اور ڈیلٹا جیسے کووڈ19- کے ویرینٹس نے اپنی طرف کھینچ رکھی ہے۔شاید اسی لئے وہ اس وائرس پر توجہ نہیں دے پا رہی ہیں جو کہ اس ملک کے اندر بھل منساہت، بھائی چارگی اور سماجی ہم آہنگی کو نہ صرف نقصان پہنچا رہا ہے اور دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے بلکہ ملک میں بے چینی اور دنیا میں ہندوستان کے لئے بدنامی کا سبب بن رہی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے کرناٹکا میں خاص طور پر جس طرح حجاب، نماز وغیرہ کو اپنی نفرت کی آڑ میں نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ بھی ہے اور شرمناک بھی۔ منگلور میں ایک تعلیمی ادارے میں مسلمان بچیوں کو حجاب پہن کر آنے پر ان کے کلاس میں حاضری پر روک لگا دی گئی اور اب بعض انتہا پسندوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ انہیں تعلیمی اداروں سے اس جرم میں نکال دیا جائے کہ وہ حجاب پر اصرار کیوں کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ لڑکیاں حجاب پہن کر تعلیم حاصل کرنے آتی ہیں اور اپنی کلاسوں میں وہ چہرہ کھول کر بیٹھتی ہیں تو اس میں کسی کو کیا پریشانی ہو سکتی ہے؟ ہندوستان میں ہم سب جانتے ہیں کہ سر کوڈھکنا اور گھونگھٹ لگانا بلا تفریق مذہب ہماری پرانی تہذیبی روایت کا حصہ ہے۔ پھر اگر یہ بچیاں اپنے اسکول اور کالجوں میں آتے وقت چہرے کو بھی ڈھکے رہتی ہیں تو لاج لجّا یعنی شرم و حیاء وہ سماجی اوصاف ہیں جن کی قدر کی جانی چاہیے نہ کہ اسے تضحیک اور نفرت کا نشانہ بنانا چاہیے۔ یہ کیسا طرفہ تماشہ ہے کہ ایک طرف تو مسلمانوں پر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو دنیوی تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور جب وہ انہیں تعلیم کے لئے گھر سے نکالتے ہیں تو ان پر بے حجابی کی شرط کو لازم و ملزوم قرار دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون کیا کھائے، کیا پئے، کیسے رہے، کیا پہنے اور کیا اوڑھے، اس کا فیصلہ صرف اور صرف ہر شخص کا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اپنا ہونا چاہیے۔ دوسرے اس کا فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ اس کا حق انہیں کس نے دیا ہے؟ یہ دستور کے ذریعے عطا کی گئی فرد کی آزادی کے خلاف ہے اور یہ مسلمان بچیاں تعلیم یافتہ ہوں، ان کے ذریعے ان کے سماج میں روشن خیالی، معاشی ثروت و تمول آئے، کو روکنے کا اسے ایک بہانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہمیں افسوس ہے کہ کرناٹکا کے وہ وزیر اعلیٰ جن کے والد خود سیکولر قدروں کے علمبردار رہے اور ریاست اور مرکز میں بااختیار عہدوں پر رہے، وہ بھی اس مسئلے پر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس لئے دم سادھ رکھا ہے کہ کہیں وزیراعلیٰ کی کرسی ان سے نہ چھین لی جائے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ لو جہاد ہو یا ٹیپو سلطان کی یاد میں منائی جانے والی تقریبات کی نفرت آمیز مخالفت، وہ صرف اور صرف کرناٹکا جیسی ریاست میں امن و امان، خیرسگالی اور فرقے وارانہ ہم آہنگی کو ختم کرنے کے لئے ہوتی رہی ہے اور ہماری مرکزی اور ریاستی سرکاروںسے اپیل ہے کہ وہ ایسا نہ ہونے دیں۔
یہ بھی کرناٹکا کی ہی خبر ہے کہ بنگلورو -چِتّورہائی وے پر واقع ایک اسکول کی نیک دل اور معصوم ہیڈ مسٹریس کو صرف اس لئے ملازمت سے معطل کر دیا گیا کہ اس نے اپنے اسکول کے بچوں کو لنچ کے وقفے میں اسکول کے احاطے میں دوپہر کی نماز پڑھنے کی اجازت دے دی تھی۔ جو کچھ فرقہ پرست انتہا پسندوں کو برا لگا، انہوں نے اس کی شکایت محکمہ تعلیم سے کی اور اس طرح اس بے چاری خاتون ہیڈ مسٹریس پر یہ مصیبت آن پڑی۔ اب آپ اندازہ لگائیے کسی کی کلاس میں رخنہ نہیں پڑ رہا تھا، اسکول کے نظام الاوقات میںکوئی خلل واقع نہیں ہو رہا تھا، صرف خالی وقت میں نماز پڑھنے کے لئے خالی جگہ کا استعمال کتنا بڑا جرم بنا دیا گیا۔ ابھی تک گروگرام (ہریانہ) سے ہی یہ خبریں ہر جمعے کو آتی تھیں کہ وہاں سرکار کی مختص کی ہوئی خالی جگہوں پر بھی نماز نہیں پڑھنے دی جا رہی ہے اور اس کے خلاف سابق ممبر پارلیمنٹ اور بزرگ مسلم رہنما جناب محمد ادیب سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں اور اب وہاں سے گروگرام میں نماز کہاں ہوگی، کہاں نہیں ہوگی، کا فیصلہ آنے کا انتظار ہے لیکن اب کرناٹکا میں بھی یہ کھیل شروع ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بنگلورو کے، کے ایس آر ریلوے اسٹیشن کے قلیوں کے آرام گھر کے ایک حصے میں نماز پڑھے جانے کو قومی سلامتی کا خطرہ بتاتے ہوئے باہر کے لوگوں نے نہ صرف مسلمان قلیوں کو نماز سے روک دیا بلکہ اس پر تالا بھی ڈال دیا۔ اس میں جو افسوس ہے وہ تو ہے ہی لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ غیرمسلم قلیوں نے اس مداخلت کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم نمبر آٹھ پر ایک مندر ہے جس کو ریلوے منہدم کرنا چاہتی تھی لیکن مسلمان قلیوں نے ریلوے کو ایسا نہیں کرنے دیا۔ ریلوے اسٹیشن سے متصل کالونی میں ایک چرچ بھی ہے۔ پھر ایسی عدم رواداری کسی ایک مخصوص مذہبی طبقے کے ساتھ کیسے کی جا سکتی ہے؟ مشہور شاعر اکبرؔ الہ آبادی نے آج سے ایک صدی پہلے جو کچھ اپنے اس درج ذیل شعر میںکہا تھا وہ ہمیں آج دیکھنے کو مل رہا ہے کہ:
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
ہماری سمجھ میں شرپسند، فتنہ پرداز، فرقہ پرست انتہا پسندوں کی سینہ زوری، ہرزہ سرائی اور دریدہ دہنی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن مرکزی وزارت داخلہ اور ریاستی حکومت کی خاموشی بالکل سمجھ میں نہیں آتی، اس لئے کہ وزیر ہوں یا نظم و نسق کی مشینری کے کل پرزے، وہ سب دستور کے پابند ہیں۔ امن و امان بنائے رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ ملک کے کسی حصے میں بھی رہنے والے کسی شخص کی انفرادی آزادی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اس کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے۔ پھر وہ کس طرح سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے لاچار بنے بیٹھے ہیں؟ ہم حکومت کرناٹکا سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حجاب کے خلاف اچانک یہ طوفانِ بدتمیزی کیسے برپا ہوگیا؟ ریاست کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش کا یہ کہنا کہ ’’جو طلبہ ڈریس کوڈ پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں وہ دیگر متبادل تلاش کرنے کے لئے آزاد ہیں۔۔۔ جس طرح فوج میں ضوابط کی پاسداری کی جاتی ہے اسی طرح یہاں (تعلیمی اداروںمیں) بھی ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا یہ بیان حجاب کی مخالفت کرنے والوں کی نہ صرف کھلی حمایت ہے بلکہ فوجی ضوابط کی بات کرکے وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے فوجی چھاونیاں ہیں، جب کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ دانشوروں کی بستی میں داروغاؤں کی ضرورت نہیں ہوتی۔وزیر محترم نے طلبہ سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کا آلۂ کار نہ بنیں۔ ہم ان کی اس بات کی تائید کرتے ہیں لیکن ان سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ بھگوا انتہا پسندوں کو یہ مشورہ کیوں نہیں دیتے اور ان کی انتہا پسندانہ روش پر سختی سے پابندی کیوں نہیں عائد کرتے؟ جیسا کہ ہم نے اوپر یہ سوال قائم کیا کہ یہ بچیاں، ان کی بڑی بہنیں اور مائیں کب سے حجاب میں اسکول اور کالجوں میں جاتی رہی ہیں، اگر اب تک ان کے حجاب سے کوئی عذاب برپا نہیںہوا تھا تو اب اچانک کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے؟ وزیر موصوف نے ایک ہی سانس میں یہ بھی کہا ہے کہ طالبات حجاب پہن کر اسکول آ سکتی ہیں لیکن اسے کیمپس کے اندر اپنے بیگ میں رکھناہوگا۔ ہم اس تجویز کی اس شرط پر تائید کرتے ہیں کہ اگر کالج میں مخلوط تعلیم نہیں ہو رہی ہے تو اس تجویز کو ماننے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر مخلوط تعلیم ہے تو پھر بچیوں کو اس کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ حجاب کا استعمال کر سکیں۔ جہاں تک کالج میں ڈریس کوڈ کا سوال ہے تو آپ بچیوں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسکول کے ڈریس کوڈ کے رنگ کے مطابق ہی اپنے حجاب کا استعمال کریں۔
اس سب کے علاوہ ایک کام جو بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں دوسری مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے ساتھ مل کر کرناٹکا میں جو ہندوؤں کے مختلف مذہبی فرقے اور ان کے سربراہ ہیں ان سے رابطہ قائم کرنا چاہیے۔ اگر کچھ غلط فہمیاں ہیں تو کچھ سمجھ کر اور کچھ سمجھا کر انہیں دور کرنا چاہیے۔ ہمیںیقین ہے کہ اگر نیک نیتی اور صدق دلی کے ساتھ یہ کوشش کی جائے تو انشاء اللہ فرقہ پرستوں کو لازمی طور پر منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس لئے کہ کوئی بھی انسانی گروہ امن و امان میںخلل، پرتشدد فضا اور بلا وجہ کے فتنہ و فساد کو پسند نہیں کرتا ہے۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں۔)
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button