حجاب تنازعہ اور ملی قیادت کا راہ فرار

جب کبھی منصب خلافت اور تخت بادشاہت پر صرف نسبی وارث ہونے کی اساس پر نااہل لوگ فائز ہوئے تب موقع پرست لوگ چاپلوسی کرتے ہوئے مملکت کے مختلف مناصب پر فائز ہوگئے ۔

اطہر معین

جب کبھی منصب خلافت اور تخت بادشاہت پر صرف نسبی وارث ہونے کی اساس پر نااہل لوگ فائز ہوئے تب موقع پرست لوگ چاپلوسی کرتے ہوئے مملکت کے مختلف مناصب پر فائز ہوگئے ۔ ایسے خلفاء اور بادشاہ احکام الٰہی پر عمل کرنے کی بجائے اپنے مشیروں کی آراء و مشوروں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عیش و عشرت میں ہی مگن رہے۔ نااہل لوگ ‘منصب کے تقاضوں کے مطابق اپنی مفوضہ ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے صرف اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے جتن کرتے گئے‘ نتیجہ میں یہ خلافتیں اور مملکتیں کمزور ہوتی گئیں اورآخرکار زوال سے دوچار ہوگئیں ۔ ہم نے دیکھا کہ یہ لوگ سرحدوں کو مضبوط کرنے کی بجائے اپنی رعایا پر ظلم کرتے رہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے احکام نافذ کرنے سے رو گردانی کرتے رہے۔ جب کبھی سرحدوں پر خطرات منڈلاتے رہے خلیفہ یا بادشاہ کے مشیروں نے بہادری اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کا سامنا کرنے اپنے آقا کی ہمت باندھنے کی بجائے دشمن سےمصالحت کرتے ہوئے خراج ادا کرنے پر آمادہ کرلیا‘ حالانکہ ان کی رعایا جو امن کے دنوں میں ہونے والے مظالم کو چپ چاپ سہتی رہی جب یہ دیکھا کہ دشمن فوج کی شکل میں ان پر افتاد آن پڑی ان کی حمیت جاگی اور وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں نچھاور کرنے کی پیش کش کرتی رہیں مگر حکمراں کے مشیر یہی سمجھتے رہے کہ دشمن کی غلامی اختیار کرلینے کے نتیجہ میں انہیں رعایا کو غلام بنائے رکھنے کی مزید مہلت مل جائے گی مگر جب کبھی اقدام سے گریز کیا گیا ان سے ان کا اقتدار چھین لیا گیا اور وہ خود غلام بنالئے گئے۔ وہ بھول گئے تھے کہ مصلحت کی نیام میں بہادری کو دبادینے سے شکست کو ٹالا نہیں جاسکتا۔اسلامی مملکتوں کے زوال کا اصل سبب یہ رہا کہ بندگان رب‘ بے باک حد سے گزرجانے والوںسے جو ملک میں فساد پھیلاتے رہے ان کی اطاعت سے باز نہیں آئے اور ان کی اصلاح نہیں کرتے رہے۔ ہند میں بھی اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو حکمرانی عطا کی تھی اور انہیں صدیوں تک موقع دیتا رہا کہ وہ سنبھل جائیں تو ہم قرآن مجید کی اس آیت کے مصداق بن گئے جس میں رب کائنات اپنی سنت بیان کرتا ہے ’’اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کرلیتے ہیں تو وہاں کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیںاور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر (عذاب کی ) بات ثابت ہوجاتی ہے پھر ہم اسے تباہ و برباد کردیتے ہیں۔‘‘ (سورہ بنی اسرائیل 16)
ہند میں مسلمانوں سے اقتدار چھین لئے جانے کے دیڑھ سو برس سے زائد کا عرصہ بیت گیا مگر ایسا لگتا ہے کہ ہم میںاب بھی بیداری نہیں آئی ہے اور آج بھی ہماری امارت کے لئے ایسے نقیب نہیں ملے جو پھر سے امت کو اس قابل بناسکے کہ وہ قوموں کی امامت کرسکے۔امت ہمیشہ سے ہی نازک حالات میں اپنے علماء پر انحصار کرتی رہی اور ان ہی کی رہنمائی اختیار کرتی رہی۔ فی زمانہ ملت اسلامیہ ہند کی بھی نظریں اپنے علماء پر ہی مرکوز رہی مگر افسوس کہ ابھی تک ایسی کوئی عبقری شخصیت نہیں ابھری جو ملت اسلامیہ ہند کی رہنمائی کرسکے اور انہیں زمین پر اپنے رب کا خلیفہ ہونے کا اہل بناسکے۔ یوں تو ہر شعبہ میں رہنمائی اور قیادت کے لئے ملک میں مسلمانوں کی بہت سی تنظیمیں اور ادارے ہیں ان میں سے کچھ سنجیدہ کوششیں بھی کررہی ہیں مگر ایک ایسی شخصیت کی کمی اب بھی محسوس کی جارہی ہے جس سے ہم ہر شعبہ میں ہمہ وقت رہنمائی حاصل کرسکیں۔ اگرچہ تحفظ شریعت و تحفظ شعائر اسلام اور اصلاح معاشرہ کے تین اہم مقاصد کی تکمیل کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی شکل میں ایک ادارہ موجود ہے اور جس پر اب بھی مسلمانان ہند کا اعتماد بحال ہے مگر وہ بھی ایسا لگتا ہے کہ مصلحتوں کا شکار ہوگیا ہے۔مجھے تکلفات کو برطرف رکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اب اقدام سے گریز کرنے لگا ہے‘شائد اس لئے کہ اقدام کے لئے بورڈ کے ارکان کو اپنے حجروں کو چھوڑنا پڑتا ہے اور بہت سے ارکان عمر کے آخری پڑاؤ میں اوران کے کان اب اس قابل نہیں رہے کہ ملک میں ہونے والے شور شرابہ کو سن سکیں ۔ایسے میں وہ میدان میں کیسے اتر سکتے ہیں۔
کرناٹک کے اڈوپی کے ایک کالج میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پر امتناع عائد کئے جانے کے بعد ملت کی یہ بیٹیاں تڑپ اٹھی تھیں کہ انہیں اب غیر محرموں کے سامنے اپنی سروں کو بے نقاب کرنا پڑے گا اور ان کی غیرت یہ گوارہ نہیں کررہی تھی جس کے لئے وہ سراپا احتجاج بن گئیں۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے کہ یہ بے بس بیٹیاں اپنے کمزور سے وجود کے ساتھ احتجاج کرتی رہیں ۔ بروقت مداخلت کرنے سے ہماری ملی قیادت گریز کرتے ہوئے مسئلہ کی مقامی طور پر یکسوئی کی راہیں تلاش کرنے کی بجائے یہ تاویل کرتے ہوئے کہ کالج تو صرف لڑکیوں کا ہے ‘ دو چار مرد اساتذہ کے سامنے بے حجاب ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے ‘ ان لڑکیو ںکو بے حجاب ہونا گوارہ کرلینے کی ترغیب دیتی رہی مگر ان غیرت مند لڑکیوں نے اپنی تعلیم تو تعلیم اب اپنی ملازمتوں کو بھی ٹھوکر ماردیا مگر اپنے رب کی حکم عدولی کرنا گوارہ نہیں کیا۔جب حالات بہت ہی بگڑ گئے اور معاملہ سڑکوں تک آگیا تو صحیح رہنمائی سے عاری ان بچیوں کے سرپرست معاملہ کو عدالت تک کھینچ لے گئے۔ یہ درست ہے کہ حجاب کے مسئلہ کو عدالت تک پہنچانے میں اس قدر عجلت نہیں کرنی چاہئے تھی بلکہ بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت وقت پر دباؤ بنائے رکھتے ہوئے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہئے تھا چونکہ ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر بی جے پی قیادت بھی ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوسکتی تھی۔ بی جے پی کی قومی قیادت اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ حجاب مسئلہ پر زیادتی سے بی جے پی کو انتخابات میں زیادہ فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔ مگر کون تھا جو آگے بڑھ کر دانش مندی کے ساتھ اس معاملہ کا حل تلاش کرتا اور ان بچیوں کی صحیح سمت میں رہنمائی کرتا؟ملت کی بیٹیوں کے سروں سے حجاب اتاردیئے جانے کے باوجود ملی قیادت کی غیرت نہیں جاگی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جو ملت اسلامیہ ہند کا نمائندہ ادارہ تصور کیا جاتا ہے اس کی قیادت مصلحت کی چادر تانے ہوئے ہے۔علماء کی جماعت‘ جمعیتہ علماء ہند بھی جس طرح یہاں پر سرگرم ہونا چاہئے تھی نہیں ہوئی‘ جماعت اسلامی ہند تو ایسا لگتا ہے کہ مالیاتی و تعلیمی اداروں کا نظم چلانے میں ہی مگن ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بورڈ نے پہل کرنے کی بجائے اپنی مفوضہ ذمہ داریوں سے برأت حاصل کرنے کی راہ نکال لی ہے اور ایسی تاویلیں پیش کیں جن پر حزن و ملال کرنے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ ملت اسلامیہ کو بھی شائد اس بات کا احساس نہیں رہا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اتنے نازک مسئلہ پر اب تک خاموش کیوں ہے؟ دو دن قبل بورڈ کے ارکان کے لئے ایک فرمان جاری ہوا جس کے ذریعہ بورڈ سے وابستہ ارکان یا ذمہ داران کو یہ تاکید کی گئی کہ وہ احتجاجی ریالیوں میں شریک نہ ہوں اور نہ ہی بورڈ کی اجازت کے بغیر میڈیا میں بیان جاری کرے یاکسی مباحثہ میں حصہ لیں‘ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیںاور دعا کا اہتمام کریں ورنہ اس سے فائدہ کی امید کم اور نقصان کا اندیشہ زیادہ ہےاور خطرہ ہے کہ گاؤں سے لے کر شہر تک تعلیمی اداروں میں ہندو مسلم طلبہ و طالبات میں اور ٹیچرس میں ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوجائے اور نوجوان نسل میں پوری قوت کے ساتھ نفرت کا زہر سرایت کرجائے۔ اس فرمان میں ارکان بورڈ کی تسکین کے لئے یہ باور کروایا گیا کہ بورڈ کی لیگل کمیٹی اور عاملہ کے چند ارکان کی خصوصی میٹنگ میں یہ طئے کیا گیا کہ مسئلہ کو سڑک پر لانے کی بجائے قانونی طریقۂ کار اور گفت و شنید کے ذریعہ حل کیا جائے ۔ اور یہ بھی طئے پایا کہ اول کرناٹک ہائی کورٹ میں قانونی لڑائی لڑی جائے یا تو پہلے سے جو لوگ فریق بن چکے ہیں ان کے ساتھ مل کر مقدمہ کی پیروی کی جائے یا اگر ضرورت محسوس ہو اور ممکن ہو تو بورڈ براہ راست فریق بنے۔ اس فرمان میں اس بات پر طمانیت کا اظہارکیا گیا کہ وکلاء بہتر طور پر مسلمانوں کے نقطۂ نظر کو پیش کررہے ہیں اور بورڈ مسلسل ان سے رابطہ میں ہے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ کہیں یہ مسئلہ بابری مسجد کی نوعیت اختیار نہ کرلے۔کوئی یہ نہیں جانتا کہ بورڈ کی عاملہ اور لیگل کمیٹی کا یہ اجلاس کہاں اور کب منعقد ہوا اور اس میں کون کون شریک ہوئے۔ بورڈ کے کون سے ذمہ دار‘ کرناٹک میں مسلم بچیوں کی وکالت کرنے والے وکلاء سے رابطہ میں ہیں؟ جس دن یہ فرمان جاری کیا گیا اسی دن بحث کرتے ہوئے مسلم بچیوں کے ایک وکیل نے عدالت سے یہ استدعا کی کہ مسلم بچیوں کو کم ازکم جمعہ اور ماہ رمضان میں حجاب کی اجازت دی جائے ۔ قانون اور عدالتوں کی کارروائیوں کا ادراک رکھنے والے اس نکتہ پر یہی کہیں گے کہ بس مسلم بچیاں اپنی قانونی جنگ یہیں ہار گئیں کیوں کہ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہمہ وقت حجاب اسلام میں فرض نہیں ہے بلکہ فرض کفایہ کی طرح ہے۔ اس کے باوجود جاری عدالتی کارروائی پر بورڈ کا اظہار طمانیت حیران کن ہے۔ شائد جس طرح بابری مسجد قضیہ میں وہ عدلیہ پر کامل اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سےگلوخلاصی حاصل کرلئے تھے اس مسئلہ میں بھی وہ عدلیہ پر تکیہ کرتے ہوئے اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں کہ کیا کریں عدلیہ نے دستور اور قانون کی روشنی میں حجاب کی اجازت نہیں دی ہے اس لئے ہماری بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے دینی فریضہ کو پو را کرنے اپنے سروں کو بے نقاب کردینا چاہئے ۔ اس طرح انہیں اپنے عیش کدوں سے نکلے بغیر ہی ملت اسلامیہ کی قیادت کرتے رہنے کا موقع جاری رہے گا۔ ملت کےایک طبقہ کا یہ احساس ہے کہ بی جے پی نے انتخابات کے پیش نظر حجاب کے مسئلہ کو ہوا دی اور ہماری بیٹیاں اس سیاسی چال کو بھانپے بغیر ہی حجاب کے اپنے حق کی لڑائی اپنے طور پر شروع کردی جس کے نتیجہ میں سارے ملک میں مسلمانوں کی پرامن زندگیوں میں خلل پیدا ہوگیا اور اب انہیں بھی اس کا خمیازہ بھگتناپڑے گا۔ ان بچیوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے جو نوجوان ان کا ساتھ دے رہے ہیں انہیں نشان ملامت بنایا جارہا ہے اورانہیں عقل و دانش سے عاری قرار دیا جارہا ہے۔ اس طبقہ کا یہ ماننا ہے کہ عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں نے حالات کو اپنے ناموافق کردیا ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم مصلحت سے کام لے لیتے ہیں تو حجاب کا مسئلہ چند اداروں تک ہی محدود ہوکر رہ جاتا ۔ہماری ملی قیادتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ملت اسلامیہ ہند کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑرہاہے وہ کسی سوچے سمجھے منصوبہ کا حصہ نہیں ہیں بلکہ ہندوتوا طاقتوں کو ایسے مواقع از خود حاصل ہورہے ہیںاور بسا اوقات تو ہم حود انہیں یہ موقع فراہم کررہے ہیں۔ انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہےکہ بلاد ہند میں مسلمانوں کو بے بس و لاچار کرنے کے لئے مسلم دشمن طاقتوںنے اسلامی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور ان کے زوال کے اسباب و محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور پھر سقوط غرناطہ کی روشنی میں ہند کے مسلمانوں کو زیر کرنے کے لئے منصوبے بنائے جارہے ہیں تاکہ غزوہ ہند کی نوبت ہی نہ آسکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ملک کے حالات کا ازسرنو جائزہ لیں اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرتے ہوئے ایک عملی میدان میں کود پڑیں اور حکمت سے کام لیتے ہوئے ایسا لائحہ عمل تیار کریں کہ مسلمانان ہند کو حجرت کرنے کی نوبت نہ آئے ورنہ اگر وقت یوں ہی بیت گیا توجس طرح اندلس کے مسلمانوں کو اندلس چھوڑنے کا بھی موقع نہیں ملے گا اسی طرح ہند کے مسلمانوں کا حشر ہوگا۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button