حجاب تنازعہ‘ سپریم کورٹ میں مفادعامہ کی درخواست داخل

درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ دستور کی نگہباں اور بنیادی حقوق کی مخالف ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ لا کمیشن کو ایک رپورٹ تیار کرنے کو کہے جس میں سماجی مساوات اور بھائی چارہ یقینی بنانے کے اقدامات تجویز کئے جائیں۔

نئی دہلی: کرناٹک حجاب تنازعہ کے مدنظر سپریم کورٹ میں ہفتہ کے دن مفادِ عامہ کی ایک درخواست  (پی آئی ایل) داخل ہوئی جس میں عدالت سے گزارش کی گئی کہ وہ مرکز‘ ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کو ہدایت دے کہ وہ رجسٹرڈ تعلیمی اداروں میں عملہ اور طلبا کے لئے مشترکہ ڈریس کوڈ نافذ کریں تاکہ مساوات اور قومی یکجہتی کو بڑھاوا ملے۔ کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت 14  فروری سے بحال ہونے والی ہے۔

 سپریم کورٹ میں مفادِ عامہ کی درخواست نکھل اُپادھیائے نے وکلاء اشوینی اُپادھیائے اور اشونی دوبے کے ذریعہ داخل کی۔ درخواست میں مرکز کو یہ بھی ہدایت دینے کی گزارش کی گئی کہ وہ عدالتی کمیشن یا ماہرین کی کمیٹی قائم کرے جو سماجی و معاشی انصاف‘ سوشلزم‘ سیکولرازم اور جمہوری اقدار کے علاوہ طلبا میں بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کو بڑھاوا دینے کے اقدامات تجویز کرے۔

 درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ دستور کی نگہباں اور بنیادی حقوق کی مخالف ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ لا کمیشن کو ایک رپورٹ تیار کرنے کو کہے جس میں سماجی مساوات اور بھائی چارہ یقینی بنانے کے اقدامات تجویز کئے جائیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button