حجاب پر عدالت کا فیصلہ ناقابل قبول، پردہ اسلام کا اہم جز: ابوعاصم اعظمی

ابوعاصم نے کہا کہ قانون و دستور میں تو ترمیم کی گنجائش ہے اور اکثر یہ بنتے بگڑتے رہتے ہیں لیکن مذہب میں تبدیلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس میں کسی بھی قسم کی تنسیخ نہیں کی جاسکتی۔

ممبئی: کرناٹک میں حجاب تنازع پر فیصلہ کو تسلیم کرنے سے مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے انکار کر کے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلہ کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا جائیگا جبکہ اسلام کا جز پردہ کو عدالت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن پردہ اسلام کا ایک اہم حصہ ہے جس سے قطع نظر نہیں کیا جاسکتا – لیکن عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے دستوری آزادی کیخلاف ہے۔

اسلام ہی نہیں بلکہ دستور نے بھی ہمیں اس کا حق عطا کیا ہے کہ ہر کوئی اپنے مذہب کی پیروی کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے سردار اور سکھ بھائی پگڑی سجاتے ہیں کیا اسکول میں ان کی پگڑی اتاری جاتی ہے کیا انہیں پگڑی نکالنے کو کہا جاتا ہے تو پھر مسلم باحجاب لڑکیوں کے ساتھ یہ نا انصافی کیوں- انہوں نے کہا کہ میں کرناٹک عدالت کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہوں کیونکہ اس فیصلہ میں مسلم لڑکیوں کو دستوری حق سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج مندر مسجد کے نام پر سیاست ہو رہی ہے کوئی بھی ترقی کی بات نہیں کرتا -ابوعاصم نے کہا کہ قانون و دستور میں تو ترمیم کی گنجائش ہے اور اکثر یہ بنتے بگڑتے رہتے ہیں لیکن مذہب میں تبدیلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس میں کسی بھی قسم کی تنسیخ نہیں کی جاسکتی سرکاری آتی ہیں اور جاتی ہیں لیکن مذہب اور اس کا قانون اپنی جگہ قائم رہتا ہے آج حالات اس قدر خراب ہیں کہ مسلمانوں کو نوکری نہیں مل رہی ہے اور داخلہ نہیں دئیے جارہے ہیں لیکن کوئی بھی ڈیولپمنٹ کی بات نہیں کرتا بلکہ صرف ذات پات اور نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button