کرناٹک ہائیکورٹ کے فیصلہ پر بہت مایوسی ہوئی: عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی

پی ڈی پی صدر اور سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس عدالتی فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کے فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی۔

سری نگر: سابق چیف منسٹرس عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے حجاب معاملے پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ بتادیں کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب معاملے پر منگل کے روز ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسکولوں اور کالجوں میں سرڈھانپنے پر عائد پابندی کو بر قرار رکھا۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی‘۔ ان کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا: ’اس بات سے قطع نظر کہ آپ کی حجاب کے بارے میں کیا سوچ ہے، یہ محض ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ یہ ایک عورت کے حق کی بات ہے کہ وہ کس قسم کا لباس پہننا پسند کرتی ہے‘۔ انہوں نے کہا: ’عدالت کا یہ حق بر قرار نہ رکھنا مایوس کن ہے‘۔

پی ڈی پی صدر اور سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس عدالتی فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کے فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی‘۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا: ’ایک طرف ہم خواتین کو با اختیار بنانے کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کو ایک سادہ انتخاب کے حق سے محروم رکھتے ہیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ محض مذہب کی بات نہیں ہے بلکہ آزادی انتخاب کی بات ہے’۔

قابل ذکر ہے کہ کرناٹک میں سال رواں کے ماہ جنوری میں حجاب تنازعے نے جنم لیا تھا جب اڈوپی کے ایک سرکاری کالج میں چھ طالبات حجاب پہن کر داخل ہوئی تھیں جس سے کالج انتظامیہ منع کیا تھا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button