حجاب کا استعمال شخصی پسند، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا: نکہت زرین

نکہت زرین نے کہاکہ میں اس بات کی پروا نہیں کرتی کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ لیکن اگر وہ حجاب کا استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مذہب پر چلنا چاہتے ہیں تو وہ ان کی شخصی پسند ہے، ان کے حجاب پہننے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

حیدرآباد: باکسنگ ورلڈ چمپئن نکہت زرین نے پیر کو یہ کہتے ہوئے کہ لباس بالکلیہ طور پر شخصی پسند کا معاملہ ہے، اسکولس اور کالجس میں مسلم لڑکیوں کے حجاب استعمال کرنے پر پیدا شدہ تنازعہ میں ایک متوازن مؤقف اختیار کیا اپنے آپ کو تنازعہ کا حصہ بننے سے بچالیا۔

 این ڈی ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے زرین نے کہا  ”یہ بالکلیہ طور پر ان کی اپنی پسند ہے۔ میں ان کی پسند پر تبصرہ نہیں کرسکتی۔ میں اپنی پسند رکھتی ہوں۔ میں ایسی پوشاکیں پہننا پسند کرتی ہوں۔ ایسے لباس پہننے پر مجھے کوئی تردد نہیں ہے۔ میری ایسی پوشاکیں پہننے پر میرے خاندان کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

 اس لئے میں اس بات کی پروا نہیں کرتی کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ لیکن اگر وہ حجاب کا استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مذہب پر چلنا چاہتے ہیں تو وہ ان کی شخصی پسند ہے، ان کے حجاب پہننے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، آخر کار یہ ان کی اپنی پسند ہے، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

“ یاد رہے کہ کرناٹک میں چند مسلم طالبات کی جانب سے تعلیمی اداروں میں سر کا حجاب استعمال کرنے پر اس وقت تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جب دائیں بازو کے گروپ نے کلاس رومس میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر اعتراض کیا تھا۔

کرناٹک ہائی کورٹ نے کرناٹک کے چند تعلیمی اداروں کی جانب سے کلاس رومس میں حجاب پر عائد کردہ امتناع کو جائز ٹھہرایا تھا۔ گزشتہ چند دنوں سے مختلف موضوعات کو چھیڑتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی کی جارہی ہے۔

حجاب کے علاوہ حلال گوشت کے استعمال اور ہندو منادر کی جاتراؤں میں مسلم تاجرین کی شرکت جیسے مسائل کو چھیڑتے ہوئے پڑوسی ریاست میں جہاں آئندہ برس انتخابات منعقد ہونے ہیں سیاسی فائدہ حاصل کرنے ایک مخصوص گروپ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف ماحول تیار کیا جارہا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button