حج و عمرہ کے اعمال و آداب

حج اسلام کا جامع اور کثیر المقاصد رکن ہے‘ جو زندگی میں ایک مرتبہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو حرم کعبہ بہ امن و عافیت پہنچ کر مناسک حج ادا کرنے کی طاقت و استطاعت رکھتا ہو اور واپسی تک اہل و عیال کی کفالت بھی کرسکتا ہو۔

مرتب: پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر، مانو، حیدرآباد

اصلاح: مفتی پروفیسر فہیم اختر ندوی، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مانو، حیدرآباد

حج اسلام کا جامع اور کثیر المقاصد رکن ہے‘ جو زندگی میں ایک مرتبہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو حرم کعبہ بہ امن و عافیت پہنچ کر مناسک حج ادا کرنے کی طاقت و استطاعت رکھتا ہو اور واپسی تک اہل و عیال کی کفالت بھی کرسکتا ہو۔

قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی خوشنودی کے لیے حج و عمرہ کو ادا کریں۔ لہٰذا اسی مقصد کے ساتھ حج و عمرہ کرنا چاہئے۔

حج کی اقسام:

حج کی تین قسمیں ہیں

1۔ حج افراد

2۔ حج قران

3۔ حج تمتع

عموماً ہندوستانی حج تمتع کرتے ہیں۔ لہٰذا اس کے ادا کرنے کے طریقے کو حسب ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔

حج تمتع ادا کرنے کا طریقہ:

حج ادا کرنے کی یہ آسان قسم ہے۔ تمتع کے معنی فائدہ اٹھانے کے ہیں۔

حج تمتع اس طریقہ حج کو کہتے ہیں جس میں حج کے مہینے میں مقام میقات یا میقات سے پہلے احرام باندھ کر عمرہ کی نیت کی جاتی ہے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد بال کٹواکر احرام کھول دیا جاتا ہے۔ پھر بتاریخ 7 یا 8 ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ میں احرام باندھ کر حج کی نیت کی جاتی ہے اور مناسک حج کی تکمیل پر احرام اتار دیا جاتا ہے۔

حج تمتع کی تفصیل یعنی عمرہ و حج ادا کرنے کے طریقہ کار حسب ذیل ہیں:

عمرہ ادا کرنے کا طریقہ:

حج تمتع کے عازمین حج کو مکہ مکرمہ پہنچ کر سب سے پہلے عمرہ ادا کرنا ہوگا۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے:

احرام باندھنے سے قبل غیر ضروری بال اور ناخن کاٹ لیں، غسل کریں، احرام باندھ کر وضو کریں، سر ڈھانک کر دو رکعت نماز نفل احرام ادا کریں۔

مرد حضرات کے لیے احرام سے مراد دو بن سلی ہوئی چادریں ہیں۔ ان میں ایک چادر کو لنگی کی طرح باندھ لیں اور اس پر بیلٹ لگالیں اور دوسری چادر کو جسم کے اوپری حصہ پر اوڑھ لیں اور سر کھلا رکھیں۔ خواتین روز مرہ کا لباس پہنیں‘ سر پر ایسا اسکارف پہنیں کہ جس سے بال ڈھکے ہوئے رہیں اور اسکارف چہرے سے مس نہ کرے۔ مزید یہ کہ روز مرہ کے لباس پر برقعہ پہنیں۔ مرد و خواتین حضرات پاﺅں میں ہوائی چپل پہنیں۔

احرام باندھنے کے وقت عمرہ کی نیت نہ کریں بلکہ مقام میقات یا اس سے پہلے کریں۔ میقات سے مراد وہ مقامات ہیں جہاں پہنچ کر احرام کی حالت میں عمرہ کی نیت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مقامات میقات پانچ ہیں۔ ہندوستانیوں کے لیے مقام ’یلم لم‘ مقامِ میقات ہے۔ اس مقام کی آمد کا اعلان دوران سفر ہوائی جہاز میں کیا جاتا ہے تاکہ عازمین حج، عمرہ کی نیت کریں۔

واضح رہے کہ اگر مقامِ میقات سے احرام باندھے بغیر گزر جائیں تو واپس مقامِ میقات پہنچ کر احرام باندھنا ہوگا اور عمرہ کی نیت کرنی ہوگی۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں دم واجب ہوگا جس کے لیے حدودِ حرم میں بکرا یا دنبہ ذبح کر کے فقرا میں تقسیم کرنا ہوگا۔

احرام کی حالت میں عمرہ کی نیت کرتے وقت مرد حضرات کا سر کھلا رہے اور خواتین کا سر ڈھکا ہوا رہے۔

عمرہ کی نیت:

”اے اللہ میں عمرہ کا ارادہ کرتا ہوں۔ اس کو میرے لیے آسان فرما اور قبول فرما۔“

عمرہ کی نیت کے بعد مرد حضرات لبیک تین مرتبہ بلند آواز سے اور خواتین آہستہ سے پڑھیں۔ احرام کی حالت میں عمرہ کی نیت کرنے کے ساتھ ہی عازمین حج پر احرام کی پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔

احرام کی حالت میں حرام اعمال:

احرام کی حالت میں حرام اعمال یہ ہیں۔

1۔ خوشبو لگانا۔

2۔ مرد حضرات کا سلے ہوئے کپڑے پہننا۔

3۔ ناخن اور بال کاٹنا، حجامت کروانا، البتہ جو ناخن اور بال خود سے گر جائیں اس پر کوئی دم یا فدیہ نہیں ہوتا۔

4۔ لڑائی جھگڑا کرنا اور فحش گفتگو کرنا۔

5۔ درخت یا گھاس کا کاٹنا۔

6۔ جانور کو ایذا پہنچانا اور شکار کرنا۔

7۔ مرد حضرات کا سر اور چہرا ڈھانکنا اور ٹوپی پہننا۔

8۔ عورت کا چہرا اس طرح ڈھانکنا کہ نقاب یا چادر چہرے کو مس کرے۔

9۔ عورت کا ہاتھوں میں دستانے پہننا۔

10۔ مرد کا پاﺅں میں ایسا جوتا پہننا جس سے پاﺅں کی ابھری ہوئی ہڈی چھپ جائے۔

احرام کی حالت میں جائز اعمال:

احرام کی حالت میں حسب ذیل اعمال جائز ہیں:

1۔ چشمہ لگانا۔

2۔ انگوٹھی اور گھڑی پہننا۔

3۔ بیلٹ باندھنا۔

4۔ بیاگ لٹکانا۔

5۔ چھتری اوڑھنا۔

6۔ احرام گندہ ہونے کی صورت میں اسے دھونا یا بدلنا۔

عمرہ ادا کرنے کا طریقہ:

مکہ مکرمہ پہنچ کر مسجد حرام میں داخل ہوتے ہوئے اپنا دایاں پاﺅں اندر رکھیں اور یہ دعا کریں:

”اﷲ کے نام کے ساتھ اور درود و سلام ہو رسول اﷲ ﷺ پر۔ اے اﷲ ہمارے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“

خانہ کعبہ پر پہلی نظر کے وقت جو دعا مانگی جاتی ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ پہلی نظر کا وقت پلک جھپکنے تک کا ہوتا ہے۔ اس لیے پہلی نظر میں مختصر اور جامع دعا مانگیں۔ امامِ اعظم ابو حنیفہؒ نے اس موقع پر جو مختصر اور جامع دعا مانگی تھی وہ دعا مانگی جاسکتی ہے اور اس دعا کا خلاصہ یہ ہے۔

”اے اﷲ میں جب بھی جو دعا مانگوں اسے قبول فرما۔“

اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے جو بھی دعائیں کرنی ہوں کرلیں اور طواف کعبہ کے لیے رجوع ہوجائیں۔

طواف کعبہ:

طوافِ کعبہ سے مراد وضو کے ساتھ طواف کی نیت کر کے کعبہ کے اطراف سات چکر لگانا ہے۔ طواف کے لیے نیت کرنا ضروری ہے۔ دل سے نیت کرنا فرض ہے۔ تاہم زبان سے بھی نیت کی جاسکتی ہے۔

طواف کو حجر اسود سے شروع کرنا چاہئے۔ حجر اسود کی سیدھ میں مطاف کی سیڑھیوںکے عین اوپر دیوار پر ایک سبز لائٹ لگی ہوئی ہے جو کہ دور سے بھی نظر آتی ہے۔ ایسی ہی لائٹیں پہلی منزل پر اور چھت پر بھی حجر اسود کی سیدھ میں لگی ہوئی ہیں۔

طواف کی نیت حجر اسود کے پاس یا اس کی سیدھ میںٹھہر کر یا پھر مذکورہ سبز لائٹ کے نیچے ٹھہر کر کرنی چاہئے۔ اگر طواف کے درمیان وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضو کرنا لازمی ہے۔ مرد حضرات کو چاہئے کہ طواف کی نیت سے پہلے ’اضطباع‘، کریں یعنی احرام کی چادر کو سیدھی بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیں اور سر نہ ڈھانکیں۔ ایسی حالت میں بیت اللہ کی طرف منہ کر کے طواف کی نیت کریں۔ طواف کی نیت یہ ہے:

”اے اﷲ میں تیرے لیے تیرے مقدس گھر کے طواف کی نیت کرتا ہوں۔ اس لیے تو اسے میرے لیے آسان فرمادے اور طواف کے میرے ان سات چکروں کو قبول فرما لے۔“

طواف کی نیت کرنے کے بعد حجر اسود کو بوسہ دینا سنت ہے۔ بوسہ دینا چونکہ کافی مشکل ہوتا ہے اس لیے ”استلام“ کریں۔ استلام سے مراد دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو حجر اسود کی طرف اٹھاکر چومنا ہے۔ اس کے بعد طواف کے لیے دائیں طرف مڑیں اور دونوں ہاتھ اٹھاکر ”بسم اللہِ اللہ اکبر وللہ الحمد“ کہتے ہوئے طواف شروع کریں۔ مرد حضرات کو چاہئے کہ طواف کے ابتدائی تین چکروں میں ’رمل‘ کریں یعنی اکڑ اکڑ کر شانے ہلاتے ہوئے پنجوں کے بل پر تھوڑا تیزچلیں۔ نیز مابقی چار چکروں میں معمول کے مطابق چلیں۔ خواتین رمل نہ کریں۔ طواف کی ہر چکر کے دوران دعا یا تیسرے کلمے کا ورد’ رکن یمانی‘ تک کرتے رہیں۔ کعبہ کے چوتھے کونے کا نام رکن یمانی ہے۔ طواف کی ہر چکر کے دوران رکن یمانی پر پہنچنے پر ممکن ہو تو اسے صرف دائیں ہاتھ سے چھوئیں۔ بوسہ نہ دیں۔ مسئلہ کے اعتبار سے حجر اسود اور ملتزم کے علاوہ بیت اللہ کے کسی اور گوشہ یا دیوار کو بوسہ دینا منع ہے۔ رکن یمانی کو ہاتھ لگانا مشکل ہو تو اس کی طرف بغیر اشارہ کیے گزر جائیں اور طواف کو جاری رکھیں۔ رکن یمانی سے حجر اسود تک حسب ذیل دعا کا ورد کرتے ہوئے طواف کریں۔

”ربنا آتنا فی الدنیا حسنة وفی الآخرة حسنة وقنا عذاب النار “

اس طرح حجر اسود تک پہنچنے سے طواف کا ایک چکر مکمل ہوتا ہے۔ طواف کے دیگر چکر بھی حجر اسود کے استلام سے شروع کریں اور حجر اسود پر ختم کریں۔

ساتویں چکر کے اختتام پر بھی حجر اسود کا استلام کریں۔ اس طرح سے سات چکر اور آٹھ استلام کے ساتھ طواف کعبہ مکمل ہوتا ہے۔

نمازِ واجب الطواف:

طواف کی تکمیل پر اضطباع کی حالت کو ختم کرتے ہوئے احرام کی اوپر کی چادر کو سیدھی بغل سے نکال کر دونوں کندھوں پر ڈال لیں اور سر ڈھانکے بغیر مقام ابراہیم کے پیچھے یا مطاف میں یا پھر مسجد حرم میں جہاں بھی جگہ ملے دو رکعت نماز واجب الطواف ادا کریں۔ طواف کی یہ نماز طواف کے فوراً بعد پڑھنا مسنون ہے اور تاخیر کرنا مکروہ ہے۔ اس لیے طواف کے فوراً بعد نماز واجب الطواف ادا کریں۔ اس کے بعد ’ملتزم‘ پر دعا کریں۔

ملتزم پر دعا:

بیت اللہ کے دروازے اور حجر اسود کے درمیانی جگہ کو ’ملتزم‘ کہتے ہیں۔ یہ قبولیت دعا کامقام ہے۔ ملتزم کے معنی لیٹنے یا چمٹنے کے ہیں۔ لہٰذا ممکن ہو تو ملتزم کو چمٹ کر اور اگر ممکن نہ ہو تو اس کے رخ پر دور کھڑے ہوکر خوب دعا مانگیں۔ اس کے بعد آب زم زم پئیں۔

آب زم زم:

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ روئے زمین کے ہر پانی سے افضل زمزم ہے اور اس کو جس مقصد کے لیے پیا جاتا ہے وہ پورا ہوتا ہے۔ لہٰذا ملتزم پر دعا سے فارغ ہوکر زمزم کے پاس جائیں اور قبلہ رخ کھڑے ہوکر بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر تین سانس میں خوب سیر ہوکر آب زمزم پئیں اور دعا مانگیں۔

صفا و مروہ کے درمیان سعی:

سعی کے بغیر حج و عمرہ نامکمل ہوتا ہے۔ اس لیے سعی کرنا ضروری ہے۔ سعی کے لفظی معنی دوڑنے کے ہیں۔ احکام حج میں سعی سے مراد صفا و مروہ کے درمیان مخصوص طریقہ سے سات چکر لگانا ہے۔ سعی کرنے کے لیے صفا پر جہاں تھوڑا سا پہاڑی حصہ اب بھی باقی ہے اور جس کے اطراف گرل لگادی گئی ہے، اُس مقام پر پہنچیں۔ سعی سے قبل حجر اسود کا استلام کرنا مسنون ہے۔ اس لیے حجر اسود کے سیدھ میں کھڑے ہوکر اس کا استلام کریں۔ اس کے بعد سعی کی نیت کریں۔ سعی کی نیت اِس طرح ہے۔

”اے اﷲ میں تیرے لیے صفا او ر مروہ کے درمیان سات چکروں سے سعی کا ارادہ کرتا ہوں۔ میرے لیے اسے آسان کردے اور میری طرف سے اسے قبول فرمالے۔

یہ نیت دل میں کرنا کافی ہے۔ مگر زبان سے کہنا افضل ہے۔ پھر دونوں ہاتھ اس طرح اٹھائیں جیسے دعا کے لیے اٹھائے جاتے ہیں اور مرد حضرات تین مرتبہ’اللہ اکبر‘ با آواز بلند اور خواتین آہستہ سے پڑھیں اور دعائیں کرتے ہوئے صفا سے مروہ کی طرف چلنا شروع کردیں۔ سعی کے راستے میں دو ستونوں کے درمیان سبز رنگ کے لائٹیں لگی ہوئی ہیں جن کے درمیان مرد حضرات دوڑیں گے یا تیز چلیں گے مگر خواتین اپنی معمولی رفتار سے چلیں گی۔ مروہ پر پہنچ کر اسی طرح کلمات تکبیر پڑھیں اور دعا کریں جس طرح صفا پر کیا تھا۔ صفا سے مروہ پہنچنے پر سعی کا ایک چکر مکمل ہوتا ہے اور مروہ سے صفا پہنچنے پر دوسرا چکر پورا ہوتا ہے۔ اس طرح سے ساتواں چکر مروہ پر ختم ہوتا ہے۔

سعی میں باوضو ہونا اور کپڑوں کا پاک ہونا مستحب ہے۔ لیکن اس کے بغیر بھی سعی ہوجاتی ہے۔

سعی کے درمیان نماز کھڑی ہوجائے یا نماز جنازہ ہونے لگے، تو سعی روک کر نماز میں شریک ہوجائیں۔ نماز سے فارغ ہوکر سعی کی باقی چکر وہیں سے شروع کریں جہاں پر سعی کی چکر کو نماز کے لیے ختم کیا تھا۔

سعی کی تکمیل پر ’حلق‘ یا ’قصر‘ کریں۔

حلق یا قصر:

سعی کے بعد حج و عمرہ کا آخری واجب عمل ’حلق یا قصر‘ ہے۔ سر کے پورے بال منڈوانے کو ’حلق‘ اور کتروانے کو ’قصر‘ کہتے ہیں۔ مرد حضرات حلق یا قصر کرواسکتے ہیں۔ البتہ خواتین کے لیے سر کے بالوں کے نچلے حصہ سے ایک انگل کے مساوی بالوں کو خود کترلینا یا اپنے محرم سے کٹوانا کافی ہے۔ ایک محرم دوسرے محرم کا یا خود اپنا حلق یا قصر کرسکتا ہے۔ نیز پہلے اپنے حلق یا قصر سے فار غ ہونے کے بعد دوسرے محرم کا حلق یا قصر کریں۔ حلق یا قصر کی تکمیل کے ساتھ ہی عازمین حج سے احرام کی پابندیاں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ الحمد للہ عمرہ کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں۔

نماز نفل برائے شکرانہ:

بفضل تعالیٰ عمرہ کی تکمیل پر دو رکعت نماز نفل برائے شکرانہ حرم شریف کے کسی بھی حصہ میں ادا کریں۔

نفل طواف:

عمرہ کی تکمیل سے لے کر حج کے آغاز تک نفل طواف حسب طاقت کرسکتے ہیں۔ نفل طواف عام لباس میں رمل کے بغیر حسب صراحت بالا کرنا چاہئے۔

نفل عمرہ:

قیام مکہ مکرمہ کے دوران سوائے ایام تشریق کے نفل عمرہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے مسجد تنعیم یا مسجد جعرانہ کو مقام میقات قرار دیا گیا ہے۔ یہاں جاکر احرام باندھ لیں اور حرم شریف آکر حسب صراحت بالا عمرہ ادا کریں۔ عمرہ کسی کے نام سے بھی ادا کیا جاسکتا ہے خواہ وہ زندہ ہوں یا پھر مرحوم۔

حج ادا کرنے کا طریقہ:

بتواریخ 8 ذی الحجہ تا 12 ذی الحجہ کے پانچ دن ایام حج کہلاتے ہیں۔ ان پانچ دنوں میں عازمین حج کو منیٰ‘ عرفات‘ مزدلفہ اور دوبارہ منیٰ میں گزارنا اور مکہ مکرمہ میں طواف زیارت وسعی کرنا ہوتا ہے۔ مذکورہ مقامات کی آمد و رفت کے دوران جتنی عجلت اور پھرتی کے ساتھ معلم کی بسوں میں سوار ہوا جائے گا‘ اتنی ہی تکالیف سے محفوظ رہا جائے گا۔ مذکورہ آمد و رفت کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لیے بسوں ہی میں ذکر و اذکار کرتے ہوئے وقت گزاریں۔

منٰی کے لیے روانگی:

بتاریخ 7 ذی الحجہ بعد نماز مغرب ذی الحجہ کی 8 تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔ بتاریخ 7 ذی الحجہ بعد نماز مغرب یا عشا یعنی 8 ذی الحجہ کی ابتدائی اوقات میں عموماً منیٰ کے لیے روانگی عمل میں آتی ہے۔ روانگی سے قبل صرف دو جوڑ استعمال کے عام کپڑے، احرام کا ایک سٹ، دو عدد چادر، ایک عدد حصیر، ایک عدد جائے نماز، قرآن شریف، پنچ سورہ، پانی کا باٹل، چھتری، کنکریوں کے لیے چھوٹی تھیلی اور روز مرہ استعمال میں آنے والی اشیاءکو چھوٹی بیاگ میں ساتھ رکھ لیں اور مابقی اپنا تمام سامان مکہ مکرمہ میں ہی اپنے کمرہ میں مقفل رکھ دیں۔

مکہ مکرمہ سے منیٰ کے لیے روانگی سے قبل اپنی قیام گاہ پر غسل و وضو کریں۔ احرام باندھیں اور سرڈھک کر دو رکعت نماز نفل ادا کریں۔ اس کے بعد سر سے کپڑا ہٹاکر حج کی نیت کریں۔ حج کی نیت یہ ہے:

”اے اﷲ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، اس کو میرے لیے آسان فرما اور قبول فرما۔“

اس کے بعد مرد حضرات بلند آواز سے اور خواتین آہستہ سے تین مرتبہ تلبیہ پڑھیں اور معلم کی سواریوں کے ذریعہ منیٰ کے لیے روانہ ہوجائیں۔ مکہ مکرمہ سے منیٰ تک کا فاصلہ 5 کلو میٹر ہے۔ عازمین حج اگر چاہیں تو منیٰ کو پیدل بھی جاسکتے ہیں۔ منیٰ میں قیام کے لیے خیموں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ خیمہ کے پتہ کے کارڈ منیٰ کے لیے روانگی سے قبل مکہ مکرمہ میں ہی عازمین حج کو معلم سے مل جائے گا۔ اس کارڈ کو ہمیشہ اپنے پاس حفاظت سے رکھیں۔

بتاریخ 8 ذی الحجہ کی تمام نمازیں اور 9 ذی الحجہ کی نماز فجر منیٰ ہی میں خیموں میں ادا ہوں گی۔ نمازوں کو ان کے اوقات پر باجماعت ادا کریں اور دعاﺅں میں اپنا وقت گزاریں۔ عازمین حج اگر مقیم نہ ہوتے ہوئے مسافر ہوں تو فقہ حنفی کے مطابق چار رکعت والی نمازوں کو صرف دو رکعت میں ادا کریں۔ جس کو ’قصر‘ کہتے ہیں۔ نمازوں کی تنہا ادائیگی کی صورت میں ہی قصر کریں البتہ نمازوں کی باجماعت ادائیگی کی صورت میں قصر نہ کریں۔

واضح رہے کہ ایسے عازمین حج مسافر شمار ہوںگے جن کے مکہ مکرمہ میں قیام کے 7 ذی الحجہ کی تاریخ کو 15 دن مکمل نہ ہوئے ہوں۔

عرفات کے لیے روانگی:

بتاریخ 9 ذی الحجہ یعنی یوم عرفہ کے دن نماز فجر منیٰ میں ادا کرنے کے بعد معلم کی سواریوں کے ذریعہ عرفات کے لیے روانہ ہوجائیں۔ منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ، تکبیر، درود شریف اور دعائیں پڑہتے رہےں۔

واضح رہے کہ ’وقوفِ عرفات‘ حج کی ادائیگی کا لازمی رکن ہے۔ وقوفِ عرفات کا وقت بتاریخ 9 ذی الحجہ زوال آفتاب سے شروع ہوکر 10 ذی الحجہ کی فجر تک ہوتا ہے۔ بتاریخ 9 ذی الحجہ زوال آفتاب کے بعد عرفات کے میدان میں کچھ دیر ٹھہرنے سے وقوفِ عرفات کا حج سے متعلقہ رکن اعظم ادا ہوجاتا ہے۔

یاد رہے کہ وقوفِ عرفات نہ کرنے کی صورت میں حج ادا نہیں ہوگا۔ اس کا ازالہ فدیہ یا دم دے کر بھی نہیں کیا جاسکتا۔

عرفات کے میدان میں مسجد نمرہ واقع ہے۔ یہاں بہ وقت ظہر اذان کے بعد خطبہ کی ادائیگی عمل میں آئے گی اور دو اقامت کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں یکے بعددیگرے قصر کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔ ممکن ہو تو مسجد نمرہ میں یہ دونوں نمازیں مذکورہ بالا کی طرح ادا کریں۔ مسجد نمرہ سے دوری کے فاصلہ پر قیام کی صورت میں اپنے ہی خیموں پر ان نمازوں کو اپنے اپنے وقت پر یعنی ظہر کے وقت پر ظہر اور عصر کے وقت پر عصر کی نماز باجماعت ادا کریں۔ البتہ ان نمازوں کی تنہا ادائیگی کی صورت میں اگر آپ مقیم نہ ہوں تو قصر کریں۔

وقوف مزدلفہ:

بتاریخ 9 ذی الحجہ غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب ادا کیے بغیر معلم کی بس کے ذریعہ یا پیدل مزدلفہ روانہ ہوجائیں۔ مزدلفہ، عرفات سے تقریباً چھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاءکی نمازیں ایک ساتھ ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھیں خواہ کتنی ہی رات کو مزدلفہ پہنچیں۔ پہلے مغرب کی فرض نماز ادا کریں اور پھر عشا کی فرض نماز پڑھیں۔ اس کے بعد مغرب کی سنت اور اس کے بعد عشاءکی سنت و وتر نماز ادا کریں۔ مزدلفہ میں مغرب و عشاءکی نمازوں کو اکٹھے ادا کرنا واجب ہے۔ اس کو ’جمع بین الصلواتین‘ کہا جاتا ہے۔ ان نمازوں کو تنہا ادا کرنے کی صورت میں اگر آپ مقیم نہ ہوں تو قصر کریں۔

واضح رہے کہ وقوف مزدلفہ کا وقت 10 ذی الحجہ کی صبح صادق سورج نکلنے تک کا ہوتا ہے۔ اگر کوئی عازم حج 10 ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے مزدلفہ سے چلاگیا یا سورج نکلنے کے بعد عرفات سے مزدلفہ پہنچا تو وقوفِ مزدلفہ کا واجب ترک ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس کے لیے دم دینا ضروری ہوتا ہے۔ مذکورہ ترکِ واجب کی صورت میں خواتین اور ضعیفوں کے لیے دم دینا ضروری نہیں ہے۔

مزدلفہ میں چونکہ صرف چند گھنٹوں کا ہی قیام رہتا ہے، لہٰذا خیموں کا انتظام نہیں کیا جاتا۔ اس لیے یہاں قیام زیرِ آسماں ہی رہے گا۔

مزدلفہ میں قیام کے دوران جمرات کو مارنے کے لیے کھجور یا بیر کی گٹھلی کے برابر کی 100 کنکریاں چن کر کسی تھیلی میں رکھ لیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے کونٹر سے بھی کنکریوں سے بھری تھیلی حاصل کی جاسکتی ہے۔

منیٰ کے لیے دوبارہ روانگی:

بتاریخ 10 ذی الحجہ نماز فجر کی ادائیگی اور صبح صادق کے بعد منیٰ کے لیے روانہ ہوجائیں۔ مزدلفہ سے منیٰ کا فاصلہ ایک کلومیٹر ہے۔ یہ فاصلہ پیدل ہی ادا کریں۔ عازمین حج منیٰ کے میدان میں 10، 11 اور 12 ذی الحجہ گزارتے ہیں۔ منیٰ پہنچ کر اپنے خیمہ میں کچھ دیر آرام کرلیں۔ یہ دن عید کا دن ہوگا۔ اس کے باوجود بھی عازمین حج کو عید کی نماز معاف کردی گئی ہے۔ یہ دن عازمین حج کامصروف ترین دن ہوگا اور اس دن ان کو کئی اہم ترین ارکان حج ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس دن کا سب سے پہلا کام ”رمی جمار“ ہے یعنی جمرات العقبہ (بڑے شیطان) کو علیحدہ علیحدہ سات کنکریاں مارنا ہے۔ جمرات کو کنکریاں مارنے کے لیے پانچ منزلہ عمارت بنائی گئی ہے۔ کنکریاں مارنے کے اوقات اور راستہ معلم کی جانب سے عازمین حج کو معلوم کرایا جائے گا۔ اسی نظام کے تحت عمل کرتے ہوئے کنکریاں ماریں۔ کنکریاں مارنے کے لیے جاتے ہوئے کوئی بھی سامان نہ لے جائیں۔ ’بسم اللہ اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے ہر کنکری کو اس طرح ماریں کہ وہ جمرہ کے گرد بنے ہوئے دائرے میں گرے۔ واضح رہے کہ کنکریاں جمرہ کو لگنا ضروری نہیں ہیں اور ضعیف اور کمزور عورتوں کی طرف سے رمی کے لیے وکالت جائز ہے۔ رمی کے وقت یہ دعا بھی کرسکتے ہیں۔

”اے اﷲ یہ کنکریاں شیطان کو ذلیل کرنے اور تجھے راضی کرنے کے لیے مارتا ہوں۔ اے اﷲ تو میرے حج کو مقبول بنا، میری کوشش کو قبول فرما اور میرے گناہوں کو معاف فرما۔“

رمی جمرہ کے بعد قربانی دیں۔ قربانی کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کا قربانی کا ٹوکن بھی خریدا جاسکتا ہے جس کی بدولت بینک کے ذریعہ قربانی دے دی جاتی ہے۔ قربانی کے ٹوکن پر قربانی کا وقت درج رہتا ہے۔ قربانی کے بعد مرد عازمین حج حلق یا قصر کروائیں۔ بہتر ہے کہ حلق ہی کروائیں۔ خواتین سر کے بالوں کے نچلے حصہ سے ایک انگل برابر بال خود کترلیں۔ حلق یا قصر کے بعد عازمین حج سے احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد منیٰ میں ہی اپنے خیموں میں یا پھر مکہ مکرمہ میں اپنی رہائش گاہ کو جاکر غسل کریں، عام کپڑے پہنیں اور طواف زیارت اور سعی کرلیں۔ طواف زیارت اور سعی 10 تا 12 ذی الحجہ کی غروب آفتاب تک کی جاسکتی ہے۔ بہتر ہے کہ بفضل تعالیٰ 10 ذی الحجہ کو ہی یہ ارکان ادا کردیں اور منیٰ لوٹ جائیں کیونکہ رات میں منیٰ کا قیام ضروری ہے۔ ذی الحجہ کی 11 اور 12 تاریخوں کو منیٰ میں ہی قیام کریں ۔ ان دنوں زوال کے بعد تینوں جمرات کو علیحدہ علیحدہ سات کنکریاں ماریں اور ذی الحجہ کی 12 تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے منیٰ سے مکہ مکرمہ واپس ہوجائیں۔

الحمد للہ اس سے فریضہ حج مقدس کی ادائیگی ہوچکی۔ الحمد للہ۔

بتاریخ 10 ذی الحجہ کو کسی وجہ سے طوافِ زیارت اور سعی ادا نہ ہونے کی صورت میں بتاریخ 11 ذی الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں ماریں اور مکہ مکرمہ جاکر طواف زیارت اور سعی ادا کریں اور اگر 11 ذی الحجہ کو بھی طواف زیارت اور سعی ادا نہ ہونے کی صورت میں 12 ذی الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں ماریں اور مکہ مکرمہ جاکر طواف زیارت و سعی ادا کریں۔ بتاریخ 12 ذی الحجہ کو بھی اگر یہ کام نہ ہوئے ہوں تو 13 ذی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں ماریں اور مکہ مکرمہ جاکر غروب آفتاب سے قبل طواف زیارت اور سعی ادا کریں اور حدود حرم میں ہی دم دیں۔ ذی الحجہ کی 13 تاریخ تک بھی اگر طواف زیارت اور سعی ادا نہ ہو تو قیام مکہ کے دوران ان کو ادا کریں اور حدود حرم ہی میں دم دیں۔ واضح رہے کہ حیض یا نفاس کی وجہ سے بتاریخ 12 ذی الحجہ تک طواف زیارت ادا نہ کرنے اور اس کے بعد پاک ہوکر طوافِ زیارت ادا کرنے کی صورت میں خواتین عازمین حج پر دم واجب نہیں ہوگا۔

مزید یہ کہ اگر کوئی عورت حیض یا نفاس کی بدولت بتاریخ 13 ذی الحجہ تک بھی طواف زیارت نہ کر پائے اور پاک ہونے سے پہلے اس کا سفر ناگزیر ہوجائے تو ایسی صورت میں وہ طواف زیارت حیض یا نفاس کی حالت میں بھی کرسکتی ہے۔ اس سے وہ پورے طور پر حلال ہوجائے گی۔ لیکن واضح رہے کہ ایک بدنہ یعنی بڑے جانور کی قربانی بطور دم حدود حرم میں دینا اس کے لیے لازم ہوگا۔ یہ اسلامک فقہ اکیڈمی، ہند کا اجتماعی طور پر کیا ہوا شرعی فیصلہ ہے۔ اس طرح طواف زیارت ادا کرنے کے بعد سعی کریں۔

الحمد اس سے فریضہ حج مقدس کی ادائیگی ہوچکی۔ اس کے بعد مدینہ منورہ کو روانگی یا وطن کو واپسی سے قبل جتنے بھی دن مکہ مکرمہ میں قیام ہوں‘ نفل طواف اور نفل عمرہ کرتے رہیں۔ اس لیے کہ طواف اور عمرہ یہ دو نعمتیں سوائے حرم پاک کے دنیا کے کسی بھی حصہ میں ادا نہیں کیے جاسکتے۔ مزید یہ کہ مکہ مکرمہ کے قیام کو غنیمت اور سعادت سمجھیں اور قرآن پاک کی تلاوت، درود شریف کا ورد اور اپنے اہل خانہ کی دنیا و آخرت کی ہر لحاظ سے کامیابی اور اپنے مرحوم و مرحومہ رشتہ داروں اور دوستوں اور تمام مسلمانوں کی مغفرت کے لیے دعائیں کرتے رہیں۔

طواف وِداع:

مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کو روانگی یا وطن واپسی سے قبل طواف وِداع بغیر احرام کے ادا کریں۔

حج سے متعلق خواتین عازمین حج کے لیے خصوصی احکامات

خواتین عازمین حج حسب ذیل خصوصی احکامات کی پابندی کرتے ہوئے حج و عمرہ ادا کریں:

I۔ عورت کا حج و عمرہ:

عورتوں کے لیے حج و عمرہ ادا کرنے کا طریقہ وہی ہے جو مردوںکا ہے۔ البتہ صرف حسب ذیل چند باتوں میں تھوڑا فرق ہے۔ لہٰذا فرق کے لحاظ سے عمل کرتے ہوئے عمرہ و حج کرنا عورتوں کے لیے ضروری ہے۔ جس کی تفصیل اس طرح سے ہے۔

i۔ عورت کے لیے مردوں جیسا کوئی احرام نہیں ہے۔ وہ سلے ہوئے عام کپڑوں میں ہی عمرہ اور حج کرے۔

ii۔ حالت احرام میں سر ڈھانکے رہے۔

iii۔ حالت احرام کے دوران سر کا مسح کرتے وقت سر پر موجود کپڑے کو پیچھے ہٹاکر مسح کرے اور کپڑے کو پھر سے برابر کرلے۔ کپڑے پر مسح کرنا درست نہیں۔

iv۔ غسل کے وقت بھی سر کے کپڑے کو علیحدہ کرے اور غسل کے بعد پھر سے سر ڈھانک لے۔

v۔ تلبیہ بآواز بلند نہ کہے بلکہ دھیمی آواز سے کہے۔

vi۔ طواف میں اضطباع اور رمل نہ کرے۔

vii۔ حجر اسود کو بوجہ ہجوم بوسہ نہ دے۔ اگر موقع آسانی سے ملے تو ضرور دے۔

viii۔ نماز واجب الطواف بوجہ ہجوم مقام ابراہیم پر نہ پڑھے۔ مسجد الحرام میں کہیں اور جگہ پڑھ لے۔

ix۔ سعی کے دوران صفا اور مروہ کے مابین سبز کھمبوں کے درمیان تیز نہ چلے۔

x۔ عمرہ کے دوران سعی کے بعد اور حج کے دوران قربانی کے بعد سر نہ منڈوائیں‘ اپنی چوٹی کے نچلے حصہ سے ایک انگل بال خود کاٹ لے یا اپنے محرم سے کٹوائے۔

II۔ حج و عمرہ کے ضمن میں ایام خواتین سے متعلق احکامات:

حج و عمرہ کے ضمن میں ایام خواتین سے متعلق احکامات اس طرح ہیں:

i۔ حج کو روانگی کے وقت ایام شروع ہوجائیں اور احرام ناگزیر ہو تو حالت ایام میں بھی عورتیں غسل کریں اور احرام باندھ کر عمرہ و حج کے تمام افعال سوائے طواف کعبہ کے ادا کریں اور پاک ہونے کے بعد طواف کعبہ ادا کریں۔

ii۔ احرام باندھنے کے بعد ایام شروع ہوجائیں تو احرام قائم رکھیں اور عمرہ و حج کے تمام افعال سوائے طواف کعبہ کے ادا کریں اور پاک ہونے کے بعد طواف کعبہ ادا کریں۔

iii۔ دوران طواف ایام شروع ہوجائیں تو حرم شریف سے باہر نکل آئیں اور عمرہ بشمول سعی اور حج کے دیگر تمام افعال انجام دیں اور پاک ہونے کے بعد طواف کعبہ ادا کریں۔

iv۔ حج کی ادائیگی کے لیے نیت کرنے سے قبل یا نیت کرنے کے بعد ایام شروع ہوجاویں تو طوافِ زیارت کے سوا حج کے تمام افعال انجام دیں۔اور پاک ہونے کے بعد طوافِ زیارت اور سعی ادا کریں۔ اگر طواف زیارت اور سعی کے لیے مقررہ ایام یعنی ذی الحجہ کی 10 تا 12 تواریخ کے دوران پاک ہوجائے تو فوراً غسل کر کے طواف زیارت اور سعی ادا کریں اور اگر طواف زیارت اور سعی کا وقت گزر جائے تو پاک ہونے کے بعد طواف زیارت اور سعی کرلے۔ واضح رہے کہ ایسی صورت میں تاخیر کی وجہ سے عورت پر دم لازم نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ اگر کوئی عورت حیض یا نفاس کی بدولت بتاریخ 13 ذی الحجہ تک بھی طواف زیارت نہ کر پائے اور پاک ہونے سے پہلے اس کا سفر ناگزیر ہوجائے تو ایسی صورت میں وہ طواف زیارت حیض یا نفاس کی حالت میں بھی کرسکتی ہے۔ اس سے وہ پورے طور پر حلال ہوجائے گی۔ لیکن واضح رہے کہ ایک بدنہ یعنی بڑے جانور کی قربانی بطور دم حدود حرم میں دینا اس کے لیے لازم ہوگا۔ یہ اسلامک فقہ اکیڈمی، ہند کا اجتماعی طور پر کیا ہوا شرعی فیصلہ ہے۔ اس طرح طواف زیارت ادا کرنے کے بعد سعی کریں۔

v۔ طواف وداع کے موقع پر اگر ایام شروع ہوجائیں اور وطن لوٹنا ضروری ہو تو ایسی صورت میں طواف وداع ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ کافی ہے کہ مسجد الحرام کے کسی دروازے کے سامنے کھڑی ہو کر کعبہ شریف پر الوداعی نظر ڈال کر لوٹ جائیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button