حرمین شریفین سمیت تمام مساجد میں دوسال بعد سماجی فاصلہ کے بغیر پہلی نماز جمعہ ادا کی گئی

حرمین شریفین سمیت مملکت کی تمام مساجد میں دوبرس بعد پہلی نماز جمعہ بغیر سماجی فاصلہ کے ادا کی گئی۔ ائمہ نے نماز جمعہ کیلئے صفوں کودرست کرنے اورفاصلہ ختم کرنے کا خصوصی اعلان بھی کیا۔

ریاض: عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر لوگوں کیلئے عام زندگی جینا دشوار ہوگیا تھا۔ وبا کے پیش نظر تمام اداروں حتیٰ کہ مساجد عبادت گاہوں اور کعبہ شریف ، حرمین شریفین کے علاوہ دنیا کی تقریباً تمام مساجد میں سماجی فاصلہ کے ساتھ پانچ وقت کی نماز ادا کی جارہی تھی۔

حرمین شریفین سمیت مملکت کی تمام مساجد میں دوبرس بعد پہلی نماز جمعہ بغیر سماجی فاصلہ کے ادا کی گئی۔ ائمہ نے نماز جمعہ کیلئے صفوں کودرست کرنے اورفاصلہ ختم کرنے کا خصوصی اعلان بھی کیا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں کورونا وائرس کے حوالے سے 2 برس سے عائد متعدد پابندیوں کے خاتمے کے بعد پہلی نماز جمعہ سماجی فاصلے کے بغیر ادا کی گئی۔ حرمین شریفین کے علاوہ مملکت کی تمام مساجد میں مکمل گنجائش کے ساتھ نمازیوں نے صفوں کی پابندی کے ساتھ نماز باجماعت ادا کی۔

مساجد کے آئمہ نےسماجی فاصلے کی پابندی کے خاتمے پرخصوصی طورپرشکرانے کے کلمات ادا کرتے ہوئے صفوں کی درستگی کا اعلان بھی کیا۔ واضح رہے دنیا بھر کی طرح  سعودی عرب میں بھی کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے تحت مارچ 2020 سے پابندیاں عائد کرتے ہوئے سماجی فاصلے کا اصول بھی متعین کیا گیا تھا جس کے تحت حرمین شریفین سمیت مملکت کی تمام مساجد میں نمازیوں کےدرمیان ڈیڑھ میٹرکا فاصلے رکھا گیا تھا بعدازاں گزشتہ برس اس فاصلے کوکم کرکے آدھا میٹرکردیا گیا تھا۔

کورونا کی وبا کے پیش نظرمساجد میں نمازیوں کےلیے سماجی فاصلہ کو متعین کرنے کی غرض سے صفوں میں نشانات لگائے گئے تھے تاکہ صف میں کھڑے ہونے کیلئے فاصلہ کے اصول کومدنظررکھا جائے۔ گزشتہ ہفتہ مملکت میں کورونا وائرس کے حوالے سے وزارت صحت کی جانب سے جاری سفارشات پرعمل کرتے ہوئے متعدد ضوابط کو ختم کیا گیا جن میں سماجی فاصلہ ، کھلے مقامات پرماسک کے استعمال کی پابندی  کے علاوہ سفری ضوابط کے حوالے سے قرنطینہ و لازمی پی سی آر ٹیسٹ شامل تھا۔

وزارت صحت کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بند مقامات پرماسک کا استعمال جاری رکھا جائے علاوہ ازیں ایسے افراد جنہوں نے ویکسین کی بوسٹرڈوز نہیں لی وہ بھی جلد ازجلد بوسٹرڈوز لینے کےلیے توکلنا پررجسٹریشن کرالیں۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button