حقوق انسانی کا اخلاق سے گہرا رشتہ : پروفیسر سید عین الحسن

انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ صرف حقوق کو سمجھنا کافی نہیں ہے بلکہ ان کو عملی زندگی میں رواج دینا بھی ضروری ہے۔

حیدرآباد : ”پیغمبروں کی بعثت کا مقصد خدا اور خود کی معرفت کرانا تھا۔ نبی کریم خلق عظیم پر فائز تھے اور آپ نے حسن اخلاق سے انسانوں کے دلوں کو جیتا تھا۔ آج بھی آپ کی تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں جن کی روشنی میں ہم اپنی زندگی کی راہ متعین کرسکتے ہیں“۔

ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن (شیخ الجامعہ، مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیوسٹی، حیدرآباد) نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مانو اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز،نئی دہلی کی اشتراک سے ’ حقوق انسانی کا اسلامی اور عصری تناظر ‘ کے موضوع پر 8دسمبر کو منعقدہ ایک روزہ آن لائین سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔

انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ صرف حقوق کو سمجھنا کافی نہیں ہے بلکہ ان کو عملی زندگی میں رواج دینا بھی ضروری ہے۔ نیز انہوں نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبہ میں نمائندہ کام ہورہے ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں عا لمی سطح پر شعبہ کے کاموں کا اعتراف کیا جائے گا۔ شعبہ کے طلبہ کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے دیواری پرچہ ’اسلامی مطالعات‘ کا رسم اجراءبھی شیخ الجامعہ نے انجام دیا۔

پروفیسر محمد فہیم اختر، صدر شعبہ، اسلامک اسٹڈیز نے استقبالیہ کلمات پیش کئے اور شعبہ کی کارکردگی کے ساتھ اسلامک اسٹڈیز کا تعارف کرایا۔ سمینار کے کنوینر ڈاکٹر شکیل احمد، اسسٹنٹ پروفیسرنے موضوع کا تعارف کرایا اور اس کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی اور نظامت کے فرائض بھی انجام دئے۔ ڈاکٹر عاطف عمران، گیسٹ فیکلٹی نے شعبہ کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ پروگرام کی شروعات سالِ دوم کے طالب علم عاشق الرحمن کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوئی اور ڈاکٹر محمد عرفان احمد، اسسٹنٹ پروفیسر نے شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر ایم افضل وانی (وائس چیئر مین، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، دہلی) نے سمینار کی علمی نشست کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ”حقوق انسانی کے تعلق سے اصل ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے ہر طبقہ کے حقوق کو یقینی بنائے“۔
”حقوق انسانی کا اسلامی تناظر “کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کہا کہ ”اسلام میں حقوق العباد کی بہت اہمیت ہے۔ اسلامی تعلیمات کا جہاں ایک طرف بڑا حصہ عبادات سے تعلق رکھتا ہے تو دوسری طرف دوسرا حصہ حقوق انسانی کی ادائیگی سے متعلق ہے، جس کا نام اخلاق حمیدہ ہے“۔

پروفیسر مہتاب منظرنے حقوق انسانی کا عصری تصور کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”حقوق انسانی کے عصری دستاویزات اور ان میں مندرج حقوق کی تیاری میں اسلامی نظام میں مذکور حقوق سے کافی مدد ملی ہے اور حقوق انسانی کی عصری تحریک نے حقوق انسانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے“۔ ڈاکٹر شکیل احمدنے بھی مخاطب کیا۔ علمی نشست کی نظامت محترمہ ذیشان سارہ، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے انجام دی۔

ذریعہ
پریس نوٹ

تبصرہ کریں

Back to top button