حلال گوشت بائیکاٹ مہم کا مقصد سماج کو تقسیم کرنا ہے:سدا رامیا

سابق چیف منسٹر نے بی جے پی کی پالیسیوں پر ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری طورپر وہ (ہندوتوا گروپس) ایسے مسائل کو اٹھا رہے ہیں جو لوگوں اور برادریوں کے درمیان تعلقات اور ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں۔

بنگلورو: کرناٹک میں ہندوتوا گروپوں کے ذریعہ حلال گوشت کے استعمال کو ایک بڑے تنازعہ میں اس لئے تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ سماج کو تقسیم کیا جا سکے۔ یہ بات کانگریس لیڈر سدرامیا نے کہی۔

سابق چیف منسٹر نے بی جے پی کی پالیسیوں پر ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری طورپر وہ (ہندوتوا گروپس) ایسے مسائل کو اٹھا رہے ہیں جو لوگوں اور برادریوں کے درمیان تعلقات اور ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں۔

 یہ ایسے مسائل نہیں ہیں جو لوگوں یا لوگوں کی زندگیوں سے متعلق ہوں۔ وہ ان مسائل کو اٹھا رہے ہیں اور معاشرے میں امن کو خراب کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 29مارچ کو بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے حلال کھانے کو ”معاشی جہاد“ کہا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلمان اس بنیاد پر ہندو قصابوں سے گوشت خریدنے سے انکار کرتے ہیں کہ یہ حلال گوشت نہیں ہے تو ہندو ان سے گوشت کیوں خریدیں۔

یکم اپریل کو شیواموگہ کے بھدراوتی قصبہ میں حلال گوشت کی فروخت پر مارپیٹ کے دو واقعات کے سلسلہ میں بجرنگ دل کے 7 ارکان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پریس کانفرنس میں سدارامیا نے کہا کہ حلال گوشت کھانے کا رواج صدیوں سے موجود ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور اس سے وابستہ افراد کرناٹک میں امن و امان کو خراب کر رہے ہیں۔ انھوں نے انتباہ دیا کہ اس کا ریاست کی معیشت پر منفی اثر پڑے گا۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button