حلقہ اسمبلی منگوڈ پر تینوں سیاسی پارٹیاں دباؤ کا شکار

رکن اسمبلی منگوڈ وکانگریس قائد کو مٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کے حالیہ عرصہ میں دئیے گئے بیانات نے تینوں جماعتوں کو کشمکش میں مبتلا ء کردیا ہے۔

حیدرآباد: ریاست کی تین اہم سیاسی جماعتیں کانگریس، ٹی آر ایس اور بی جے پی منگوڈ اسمبلی حلقہ کی سیاسی صورتحال پر زبردست دباؤ میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

رکن اسمبلی منگوڈ وکانگریس قائد کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کے حالیہ عرصہ میں دئیے گئے بیانات نے تینوں جماعتوں کو کشمکش میں مبتلا ء کردیا ہے۔

جہاں بی جے پی اور ٹی آر ایس منگوڈ اسمبلی حلقہ کے امکانی ضمنی انتخابات میں کامیابی کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے میں مصروف ہے وہیں کانگریس کی ساری کوشش ہے کہ ضمنی انتخابات کو کس طرح ٹالا جاسکے۔ اگر منگوڈ اسمبلی حلقہ کیلئے ضمنی انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو یہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل تینوں جماعتوں کیلئے پری فائنل ثابت ہوں گے۔

اس ضمنی انتخابات کا نتیجہ تمام تینوں جماعتوں کی کارکردگی اور امکانات پر اثر انداز ہوگا۔ موجودہ طور پر ٹی آر ایس اور بی جے پی جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں تو دوسری طرف کانگریس داخلی خلفشار سے نبرد آزما ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ خود کومٹ ریڈی، راجگوپال ریڈی کو ضمنی انتخابات میں بی جے پی امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے کا یقین نہیں ہے۔

دو روز قبل راجگوپال نے کہا تھا اگر وہ بی جے پی کے امیدوار بن کر منگوڈ سے مقابلہ کرتے ہیں تو ان کی کامیابی کے امکانات موہوم ہے۔ وہیں کانگریس راجگوپال کو کانگریس سے علحدگی اختیار کرنے سے روکنے بھر پور طاقت استعمال کررہی ہے۔

واصح رہے کہ اگر راجگوپال کانگریس میں برقرار رہتے ہیں تو ضمنی انتخابات کے انعقاد کا سوال ہی نہیں اٹھتا اور اگر وہ بی جے پی میں شامل بھی ہو جاتے ہیں تو ضمنی انتخابات کو روکنے کیلئے کانگریس محض انہیں پارٹی سے معطل کرسکتی ہے۔

ایک بار کانگریس سے معطل کردئیے جانے کے بعد وہ بی جے پی کے ساتھ بغیر رکنیت اسمبلی کو استعفیٰ دئیے آزادانہ طور پر گھوم پھر سکتے ہیں اور راج گوپال ریڈی بھی کانگریس سے معطلی ہی چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے تحت وہ کانگریس قیادت کو مشتعل کررہے ہیں۔

2018 اسمبلی انتخابات میں راجگوپال ریڈی نے کانگریس ٹکٹ پر اپنے قریبی حریف ٹی آر ایس امیدوار کو22,000 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ اُس وقت بی جے پی امیدوار کو صرف 12,000ووٹ ہی حاصل ہوئے تھے۔ حضور آباد میں ای راجندر کی طرح منگوڈ میں راجگوپال ریڈی کو اپنے دم خم پر کامیابی حاصل کرنا ہوگا۔

اگر راجگوپال کانگریس سے مستعفی ہوجاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ ان کے ساتھ مقامی کانگریس قائدین و کارکنان بھی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلیں گے۔ حضور آباد انتخابات کے بعد جہاں بی جے پی جارحانہ رخ اختیار کررکھی ہے وہیں ٹی آر ایس دفاعی موقف اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ کانگریس امیدوار کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔

اس صورتحال میں اگر منگوڈ اسمبلی حلقہ کیلئے ضمنی انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو یہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کیلئے وقار کا مسئلہ بن جائے گا۔

تبصرہ کریں

Back to top button