حکومت تلنگانہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مرکز کے گرام پنچایتوں کو راست فنڈس، کے سی آر کی برہمی

چیف منسٹر کے سی آر نے مرکز کے پروگراموں جواہر روزگاریوجنا، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا، مہاتماگاندھی قومی دیہی طمانیت روزگار اسکیم اور دیگر کا حوالہ دیا جس میں مرکزی حکومت نے راست طورپر فنڈس دیہی ادارہ جات مقامی کے لئے جاری کئے۔

حیدرآباد: چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھرراو نے بیشتر پروگراموں پر عمل کے لئے ریاستی حکومت کوپیچھے چھوڑتے ہوئے راست طورپر ادارہ جات مقامی کو فنڈس جاری کرنے پر مرکزی حکومت پر برہمی کااظہار کیا۔انہوں نے اس احساس کا اظہارکیا کہ مرکز کے اقدامات منصفانہ نہیں ہیں کیونکہ اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مرکز ریاستوں پر بھروسہ نہیں کرتا۔

چیف منسٹر کے سی آر نے مرکز کے پروگراموں جواہر روزگاریوجنا، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا، مہاتماگاندھی قومی دیہی طمانیت روزگار اسکیم اور دیگر کا حوالہ دیا جس میں مرکزی حکومت نے راست طورپر فنڈس دیہی ادارہ جات مقامی کے لئے جاری کئے۔انہوں نے کہا کہ راجیوگاندھی سے لے کر اب تک تمام وزرائے اعظم نے پنچایت راج کے تین ٹائر سسٹم پر یقین ظاہر کیا تھا۔

انہوں نے پلے پرگتی اور پٹنا پرگتی پروگرام پر عمل کے سلسلہ میں پرگتی بھون میں تیاری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف ریاستی حکومت ہی مخصوص حالات سے باخبر ہے۔انہوں نے اس احساس کا اظہار کیا کہ ملک کی آزادی کے 75برس کی تکمیل کے موقع پر مرکزی حکومت،پینے کے پانی، آبپاشی کے مسائل، بجلی کی سپلائی، تعلیم اور صحت جیسے انفراسٹرکچر کی یکسوئی میں ناکام رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم تباہ شدہ تلنگانہ کی تعمیر نو کررہے ہیں۔ ہم تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ریاست کو ترقی دے رہے ہیں جس سے ملک کا سر فخر سے بلند ہورہا ہے۔ ریاست کو ترقی دلوانے کے لیے کافی محنت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں دیہی اور شہری ترقی پروگرام کو ایک علحدہ شناخت حاصل ہوئی ہے۔

چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ان پروگراموں پر عمل کے سلسلہ میں مختلف ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا ”ترقی کا پیمانہ یہ ہے کہ دوسرے اس کام کو پہچانیں جو ہم کر رہے ہیں“ انہوں نے مزید کہا کہ دیہی ترقی اور شہری ترقی کے پروگراموں کو ملک بھر میں نمایاں پذیرائی اور حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بات ہے کہ پہلے مرحلے میں دس میں سے دس گاؤں اور دوسرے مرحلے میں 19 میں سے 20 گاؤں کو مرکزی حکومت نے دو مواقع پر بہترین گاؤں کے طور پر تلنگانہ سے منتخب کیا ہے۔

 انہوں نے وزیرپنچایت راج دیاکر راؤ کو اس سمت کوششوں پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ نتائج اسی وقت ممکن ہوں گے جب حکام عوام کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کی طرف سے لیے گئے فیصلوں اور ان پر عمل کی سرگرمیوں میں دلچسپی اور خلوص سے حصہ لیں گے۔

جب نیا پنچایت راج ایکٹ لایا گیا تو کئی افراد نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا لیکن آج ہم ان کے شکوک کو دور کر رہے ہیں اور تلنگانہ کے دیہاتوں کی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ ہم ہر گاؤں میں انفراسٹرکچر بنا کر ترقی دے رہے ہیں۔ ہم نے ہر گاؤں میں کچرے کی نکاسی کے لیے ایک ٹریکٹر دیا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button