حیدرآباد میں موسلادھار بارش سے معمول کی زندگی درہم برہم

شہر کے علاوہ مضافات کے کئی حصوں میں بارش کی وجہ سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہوتا گیا۔جس کی وجہ اسکول جانے والے بچوں کے علاوہ دفاتر کیلئے روانہ ہونے والے افراد کیلئے منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہوگیا۔کیونکہ ٹرافک کے بہاؤ میں خلل پڑتا رہا۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں آج صبح موسلادھار بارش کی وجہ معمول کی زندگی درہم برہم ہوگئی۔ سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا۔صبح 8بجے سے ہی بارش کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا۔شہر کے علاوہ مضافات کے کئی حصوں میں بارش کی وجہ سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہوتا گیا۔

جس کی وجہ اسکول جانے والے بچوں کے علاوہ دفاتر کیلئے روانہ ہونے والے افراد کیلئے منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہوگیا۔کیونکہ ٹرافک کے بہاؤ میں خلل پڑتا رہا۔

سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہوجانے کی وجہ خیرت آباد، پنجہ گٹہ،بنجارہ ہلز،جوبلی ہلز،سکندرآباد،مہدی پٹنم،امیر پیٹ،ایل وی نگر،نارائن گوڑہ اور حمایت نگر میں ٹرافک کے بہاؤ میں رکاوٹیں پیش آئیں۔اس کے علاوہ عطاپور،اپر پلی اور راجندر نگر کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی ٹرافک کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔

مصروف اوقات کار میں موسلادھار بارش کی وجہ دفاتر جانے والے افراد کیلئے مشکلات پیش آئیں۔کئی مقامات پر ٹرافک کے بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا ہوگئیں۔حیدرآباد ٹرافک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بارش کے رک جانے کے فوری بعد گھروں سے روانہ نہ ہوں تاکہ وہ مشکلات سے بچ سکیں۔

پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک تا2گھنٹوں تک انتظار کریں تاکہ بارش کا پانی ڈرین کے ذریعہ بہہ جائے اور ٹرافک کا مسئلہ بھی پیدا نہ ہو۔ٹرافک پولیس نے یہ بات بتاتے ہوئے عوام کو الرٹ کردیا ہے۔پولیس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ضروری طورپر گھروں سے باہر نہ نکلے۔ضرورت پر ہی گھروں سے باہر نکلیں۔

گزشتہ ہفتہ بارش کی وجہ نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا تھا۔حیدرآباد میں چند ہفتوں سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔تلنگانہ اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پلاننگ سوسائٹی کے مطابق ضلع میں 125فیصد زائد بارش ہوئی ہے۔وقار آباد،چیڑلہ میں بھی شدید بارش کی وجہ ذخائر آباد کی سطح میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔

دریا موسیٰ کی سطح میں بھی اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ ذخائر آب کے دروازے کھول دئے گئے تھے۔حمایت ساگر اور عثمان ساگر جو کہ شہر کے مضافات میں ہے سطح میں اضافہ کی وجہ فاضل پانی کا اخراج عمل میں لایاجارہا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button