حیدرآباد میں اردو صحافت :1855ء تا1950ء

1947ء کی تقسیم سے پہلے ملک کی سیاست کانگریس اور مسلم لیگ کی تائید و حمایت میں سرگرم تھی اخبارات بھی انہی صف بندیوں اور خانوںمیں بٹ گئے تھے۔ مختلف گروہوں، جماعتوں، مذاہب اور زبانوں کے بولنے والوں کے زیر اہتمام نکلنے والے اخبارات مختلف نظر یات رکھتے تھے، اس لئے تقسیم ہند کا اثر صحافت پر پڑا‘ اگست1947ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو حیدرآباد کی اردو صحافت ایک دورا ہے پرٹھہر گئی، جو اخبارات نئے حالات سے مطابقت نہ کرسکے۔

قاری ایم ایس خان
9391375008

نواب سکندر جاہ آصف ثالث کے بعد نواب ناصر الدولہ آصف چہارم 1829ء میں حیدرآباد کے حکمران ہوئے ان کے عہد میں ۱۲۶۱ھ م 1845ء میں ایک طبی مدرسہ قائم ہوا ۔1846میں اردو ذریعہ تعلیم کا ایک ایلو پیتھی طریقہ طب کے اسکول کا قیام عمل میں لایا گیا ۔یہ پہلا سرکاری مدرسہ تھا اس سرکاری مدرسہ طبابت کی جانب سے ۲۳ صفر ۱۲۷۲ھ م 1855ء میں ’’رسالہ طبابت ‘‘ کا آغاز ہوا۔ اس رسالے کے نگراں ڈاکٹر جارج اسمتھ تھے اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ حیدرآباد میں اردو صحافت کے بانی ڈاکٹر جارج اسمتھ ہیں۔

سلطنت آصفیہ اور حکومت حیدرآباد دکن نے دارالطبع سرکار عالی (گورنمنٹ پر ٹنگ پریس) سے جریدہ ’’اعلامیہ‘‘ ۲۶؍ رجب المرجب۱۲۸۶ھ م 1869ء سے فارسی میں طبع ہونا شروع ہوا ۔یہ ہفتہ وار اخبار تھا اور حکومت آصفیہ کے جملہ احکام اس میں شائع ہوتے تھے، 1884ء سے یہ بجائے فارسی کے اردو میں شائع ہونے لگا۔ حیدرآباد کی اردو صحافت 1855ء تا 1950ء کو سہولت کی خاطر حسب ذیل ادوار میں تقسیم کرسکتے ہیں پہلا دور 1855ء تا 1869ء ، دوسرا دور1869ء تا 1883ء ، تیسرا دور 1884ء تا 1911ء ، چوتھا دور 1911ء تا 1935ء پانچواں دور 1935ء تا 1948ء اور چھٹا دور 1948ء تا 1950ء حیدرآباد میں 1909ء تا 1918ء تک کے مطابع کی تفصیل بھی ’’بستان آصفیہ‘‘ میں درج ہے۔

حیدرآباد میں اردو صحافت کا آغاز ناصر الدولہ آصف جاہ چہارم کے عہد 1855ء میں ہوا ،ان کا انتقال 1857ء میں ہوا ان کے بعد افضل الدولہ آصف جاہ پنجم 1857ء سے 1869ء تک حیدرآباد کن کے حکمران رہے 1867ء میں حکومت حیدرآباد کا سرکاری پریس دارالطبع سرکار عالی قائم ہوا جہاں سے 1869ء میں جریدہ اعلامیہ طبع ہونا شروع ہوا ۔یہ ہفتہ وار اخبار تھا اس لئے1855ء تا 1869ء تک حیدرآباد کی صحافت کا پہلا دور قرار دیا گیا۔ یہ داراطبع آج بھی چنچل گوڑہ جیل کے بازو سعیدآباد روڈ پر گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کے نام سے وسیع اراضی پر موجود ہے۔

نواب میر محبوب علی خاں نظام ششم 1869ء میں تخت نشین ہوئے1883ء تک ریاست کی سرکاری زبان فارسی تھی، اس دور میں فارسی اخبارات کے ساتھ اردو اخبارات بھی شائع ہوئے اس لئے دوسرا دور 1869ء تا1883ء تک قرار دیا گیا- 1884ء کو اردو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا غیر ملکی فارسی زبان دفتروں سے خارج کردی گئی اس طرح حیدرآباد حکومت میں اردو کو فروغ ہوا۔ بے شمار اردو اخبارات اور رسائل جاری ہوئے، اس لئے حیدرآباد کی اردو صحافت کا تیسرا دور 1884ء تا 1911ء قرار دیا گیا1911ء میں نواب نظام ششم میر محبو ب علی خاں کا انتقال ہوا اور نواب میر عثمان علی خاں ساتویں حکمراں ہوئے۔ 1935ء تک حیدرآباد کے حالات حسب معمول تھے اس لئے چوتھا دور 1911ء تا 1935ء قرار دیا گیا ہے-

1935ء کے بعد سیاسی حالات میں بڑی تبدیلیاں ہوئیں اور ان کا اثر حیدرآباد کی اردو صحافت پر بھی پڑا ،اس دور میں تین مکاتب خیال کے اخباروں نے اپنی واضح روش اختیار کی تھی ایک تو شاہ پرست تھے جن کے پیش نظر نظام ہفتم اور پرچم آصفی کا احترام تھا دوسرے گروہ نے آزاد حیدرآباد کے تصور کو عام کیا جب کہ تیسرے گروہ نے ذمہ دار انہ حکومت کے قیام اور ترقی پسندانہ افکارات و خیالات کو پھیلانے کی کوشش کی ستمبر1948ء میں پولیس ایکشن (اصل میں یہ ملٹری ایکشن تھا) کی درد ناک وجان لیوا کارروائی کے باعث ساتویں نظام نواب میر عثمان علی خاں کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اس طرح حیدرآباد کی اردو صحافت کا پانچواں دور 1935ء تا 1948ء قرار دیا گیا ۔

سقوط حیدرآباد کے فوری بعد18؍ستمبر 1948ء کو میجر جنرل جے این چودھری حیدرآباد کے فوجی گورنر بنائے گئے-14ماہ ساری ریاست پر فوجی قبضہ رہا یکم ؍ڈسمبر1949ء کو حیدرآباد سے فوجی حکومت ختم ہوئی ،اس کی جگہ ایک نئی غیر فوجی حکومت تشکیل پائی جس کے چیف منسٹر شری ایم۔کے۔ویلوڈی تھے۔ 25؍جنوری 1950ء کو اعلیٰ حضرت نظام ہفتم نواب میر عثمان علی خاں کی حکمرانی کا دور ختم ہوا اور پرچم آصفیہ اتار دیا گیا- 26؍جنوری1950ء کو ساتویں نظام راج پر مکھ بنائے گئے،اس طرح حیدرآباد کی اردو صحافت کا چھٹا دور 1948ء تا 1950ء قرار دیا گیا۔

1947ء کی تقسیم سے پہلے ملک کی سیاست کانگریس اور مسلم لیگ کی تائید و حمایت میں سرگرم تھی اخبارات بھی انہی صف بندیوں اور خانوںمیں بٹ گئے تھے۔ مختلف گروہوں، جماعتوں، مذاہب اور زبانوں کے بولنے والوں کے زیر اہتمام نکلنے والے اخبارات مختلف نظر یات رکھتے تھے، اس لئے تقیم ہند کا اثر صحافت پر پڑا‘ اگست1947ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو حیدرآباد کی اردو صحافت ایک دورا ہے پرٹھہر گئی، جو اخبارات نئے حالات سے مطابقت نہ کرسکے ،انہوں نے اپنی اشاعتیں بند کردیں۔ ستمبر1948ء کے پولیس ایکشن کے باعث اکثر اخبارات بند ہوگئے یا بندکردئیے گئے ۔ بہت سے صحافیوں نے 1948ء کے انقلاب کے بعد ترک وطن کیا اور پاکستان منتقل ہوگئے۔

حیدرآباد کے قدیم روزناموں کے چند نام

ہزار داستان سن1883ء ، سفیر دکن1888ء ۔مشیر دکن 1892ء ۔ علم و عمل1904ء صحیفہ جون1950ء اس کا سائن بورڈ آج بھی فردوس ہوٹل چادر گھاٹ کے روبرو موجود ہے۔رہبر دکن1920ء رہبر دکن ساتویں نظام کا پسندیدہ اخبار تھا۔ نظام گزٹ 1927۔ صبح دکن 1928ء ۔ منشور 1929۔ وقت 1936۔ پیام1935۔ رعیت 1927-28ء ۔ میزان1943۔ تنظیم1939۔ امروز 1947۔ سیاست1948ء انقلاب ہفتہ وار نظام آباد سے1946ء ۔ قبل پولیس ایکشن کا اخبار پیسہ 1947ء محب وطن قبل پولیس ایکشن جناح1947ء ۔ تعمیر دکن1947۔ خورشید1947ء حمایت دکن قبل پولیس ایکشن، نمائش بلیٹن، حیدرآابادکا پہلا صنعتی روزنامہ ڈسمبر 1941ء تا جنوری 1942۔1938 ء میں ڈھائی روپے کے قلیل سرمائے سے باغ عامہ (پبلک گارڈن) نامپلی میں کل ہند صنعتی نمائش کے افتتاح کے بعد نمائش بلیٹن شائع ہوا ۔

اس کے مدیر محمد عبدالعلی بی ایس سی ایل ایل بی عثمانیہ تھے ،اس اخبار کی قیمت ایک پیسہ فی پرچہ تھی۔ غرض سقوط حیدرآباد کے بعد بہت سے اردو اخبارات بند ہوگئے، خود حکومت نے بھی کئی اخبارات کو مسدود کروا دیا،ان میں ’ رہبر دکن‘‘ قابل ذکر ہے جو پولیس ایکشن تک سب سے زیادہ مقبول اور سب سے زیادہ شائع ہونے واا اخبار تھا۔ رعیت اور پیام بھی بند ہوگئے-15؍اگست 1949ء تا 1951ء روزنامہ شعیب بھی شائع ہوا کرتا تھا، حیدرآباد کے معروف صحافی جناب حسن الدین عثمانی جو کئی اخبارات میں کام کرچکے تھے، ابتداہی سے ’’شعیب ‘‘ سے وابستہ تھے۔ پولیس ایکشن کے بعد حیدرآباد کا نگریس کمیٹی نے اپنا ایک اخبار ’’نئی زندگی‘‘ کے نام سے جاری کیا تھا ۔

روزنامہ ہمدم بھی1951ء تک بھی پابندی سے شائع ہوتا رہا ۔پولیس ایکشن سے قبل سب سے زیادہ مشہور اخباررہبر دکن بند کر دیا گیا2؍جولائی1949ء کو رہنمائے دکن جناب محمد منظور حسن کی ادارت میں جاری ہوا، رہنمائے دکن آج بھی جاری ہے۔ آج حیدرآباد سے چھ اردو روزنامے شائع ہوتے ہیں، ان میں’’منصف‘‘ ملک ہند کا سب سے کثیر الاشاعت روزنامہ ہے ، جسے مرحوم خان لطیف محمد خان صاحب نےایک نیا روپ عطا کیا،یہ ہندوستان کا واحد اخبار ہے جو ہفتے کے سات سپلیمنٹ شائع کرتا ہے (فی الحال جمعہ اور اتوار کا سپلیمنٹ ہی شائع ہورہا ہے ،دیگر سپلیمنٹ شائع نہیں ہورہے ہیں، جن کے شائع ہونے کا قارئین منصف کو شدت سے انتظار ہے ) منصف کی حق گوئی‘ بے باکی اور غیر جانبداری کے سبھی معترف ہیں ۔ روزنامہ’’ منصف ‘‘نے مجھ جیسے کئی گمنام قلمکاروں کو عوام الناس سے روشناس کروایا…

قدیم اخبارات اور رسائل عثمانیہ یونیورسٹی لائبریری، سالار جنگ میو زیم لائبریری، ادارۂ ادبیات اردو ،ابو الکلام آزاد اور نیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں باغِ عامہ نام پلی کے علاوہ قطب خانہ آصفیہ (سینٹرل اسٹیٹ لائبریری افضل گنج) اور آرکیا لوجی ڈپارٹمنٹ تار ناکہ حیدرآباد میں موجود ہے، باذوق حضرات و خواتین ان اخبارات سے بآسانی مستفید ہوسکتے ہیں۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button