اسد الدین اویسی پر مذہبی اشتعال انگیزی کا مقدمہ درج

اویسی پر بلااجازت عوامی ریلی کرنے اور عوام کو رام سنیہی گھاٹ واقع مسجد کے نام پر مذہبی جذبات مشتعل کرنے کے علاوہ مقدمہ میں وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف نازیبا تبصرہ کرنے کا بھی الزام ہے۔

بارہ بنکی: اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی کے خلاف مذہبی جذبات مشتعل کرنے  اور مختلف دفعات کے تحت پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اویسی پر بلااجازت عوامی ریلی کرنے اور عوام کو رام سنیہی گھاٹ واقع مسجد کے نام پر مذہبی جذبات مشتعل کرنے کے علاوہ مقدمہ میں وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف نازیبا تبصرہ کرنے کا بھی الزام ہے۔

پولیس ترجمان نے آج یہاں یہ اطلاع دی۔ انہوں نےبتایا کہ بارہ بنکی شہر کی سٹی پولیس چوکی انچارج ہری شنکر ساہو کی تحریر پر اویسی کے خلاف بلااجازت عوامی ریلی کرنے اور مذہبی جذبات مشتعل کرنے، دفعہ 144 اور کووڈ۔19 اور ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس دوران نائب ضلع افسر صدر پنکج سنگھ نے بتایا کہ بلااجازت عوامی ریلی کرنے اور کووڈ-19 کے ضابطوں کی خلاف ورزی سمیت دیگر باتیں سامنے آئی ہیں۔ پروگرام کے ویڈیو اور فوٹیج اکٹھا کیے جا رہے ہیں۔ کل دیر رات تقریباً 10 بجے بارہ بنکی شہر کوتوالی میں یہ مقدمہ درج ہوا ہے۔

غورطلب ہے کہ دریا آبا د اسمبلی حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی ستیش چندر شرما نے اویسی اور پروگرام منعقد کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کروائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کل شام ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ہوم سےملاقات کی تھی۔ اس کی کاپی ضلع افسر اور پولیس افسر کو بھیجی تھی۔

رکن اسمبلی ستیش شرما نے ایڈیشنل چیف سکریٹری کو بھیجے خط میں لکھا تھا کہ جمعرات کو کٹرہ محلہ میں بلا اجازت میٹنگ کرکے اویسی نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ پر رام سنیہی گھاٹ میں 100 سال پرانی مسجد شہید کروانے کا الزام عائد کیا ہے جو قابل مذمت اور آپسی بھائی چارہ بگاڑنے والا ہے جبکہ غیرقانونے ڈھانچے (مسجد) کو قانونی عمل کے تحت گرایا گیا ہے۔

بارہ بنکی ضلع انتظامیہ نے اویسی کے پروگرام کی اجازت نہیں دی تھی۔ پارٹی کے عہدیداران نے کارکنان سے ملاقات اور چائے پر پارٹی کرنے کی منظوری لی تھی لیکن دو بڑے میدان میں بہ ضابطہ اسٹیج لگا کر عوامی ریلی کروا دی گئی۔ پروگرام میں سینکڑوں کی بھیڑ اکٹھا ہوئی جبکہ ضلع انتظامیہ نے صرف 50 لوگوں کی اجازت دی تھی۔ عوامی ریلی میں دوسرے اضلاع سے لوگ شریک ہوئے۔ جب رکن اسمبلی نے ایڈیشنل چیف سکریٹر ہوم سے اس کی شکایت کی تب پولیس حرکت میں آئی اور اویسی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.