ایم پی عتیق احمد سے سابر متی جیل میں ملاقات، اویسی کو اجازت سے انکار

اویسی نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے کئی لیڈروں کو بھی کئی کیسوں کا سامنا ہے۔ عتیق احمد کے خلاف 90 سے زیادہ فوجداری مقدمات درج ہیں۔ قتل، اغوا، غیرقانونی کانکنی، تاوان وصولی، دھمکی دینا اور فراڈ جیسے الزامات شامل ہیں۔

احمد آباد / حیدرآباد: صدر ایم آئی ایم اسد الدین اویسی کو رکن پارلیمان عتیق احمد سے احمد آباد کی سابر متی جیل میں ملاقات کی اجازت سے انکار کردیا گیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمان آج صبح چند پارٹی لیڈروں کے ساتھ احمد آباد پہنچے، لیکن گجرات محابس کے حکام نے عتیق احمد جو حال ہی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین میں شامل ہوئے سے ملاقات سے انکار کردیا۔

حیدرآباد میں ایم آئی ایم ذرائع نے بتایا کہ اویسی صبح 11 بجے عتیق احمد سے ملاقات کرنے سابرمتی سنٹرل جیل پہنچنے والے تھے۔ سپڑنٹنڈنٹ آف پولیس محابس نے کووِڈ 19 کا حوالہ دیتے ہوئے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

اویسی کے ہمراہ اورنگ آباد کے رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل، گجرات کے ریاستی صدر صابر کابلی والا اور سابق میئر حیدرآباد و یوپی انچارج ایم آئی ایم ماجد حسین تھے۔

عتیق احمد کی اہلیہ شائستہ پروین گزشتہ ماہ لکھنؤ میں اویسی کی موجودگی میں ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کی۔  سماج وادی پارٹی کے سابق لیڈر (عتیق احمد) نے بھی غائبانہ طور بر اے آئی ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اویسی نے یہ کہتے ہوئے کہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی مسلمانوں کو غلاموں کی طرح استعمال کررہی ہیں، عتیق احمد اور ان کی اہلیہ کو پارٹی میں شامل کیا۔ عتیق احمد جس کے خلاف کئی فوجداری مقدمات زیردوراں ہیں کو پارٹی میں شامل کرنے کے فیصلہ کا دفاع کیا۔

اویسی نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے کئی لیڈروں کو بھی کئی کیسوں کا سامنا ہے۔ عتیق احمد کے خلاف 90 سے زیادہ فوجداری مقدمات درج ہیں۔ قتل، اغوا، غیرقانونی کانکنی، تاوان وصولی، دھمکی دینا اور فراڈ جیسے الزامات شامل ہیں۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.