حیدرپورہ انکاؤنٹر‘ شہریوں کی نعشیں خاندان کو سونپی جائیں، محبوبہ مفتی کا احتجاج

سابق چیف منسٹرمحبوبہ مفتی نے کہا کہ جب سے مسلح افواج خصوصی اختیارات قانون (اے ایف ایس پی اے) لاگو ہے‘ بے قصور لوگوں کی ہلاکتوں کے لئے کوئی جواب دہی نہیں ہے۔ پیر کی شام سیکوریٹی فورسس کی بندوقوں کی لڑائی میں 4 افراد بشمول 2 شہری ہلاک ہوئے۔

جموں: پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے چہارشنبہ کے دن جموں میں ایک زبردست مظاہرہ کی قیادت کی۔ ان کا یہ احتجاج سیکوریٹی فورسس کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف تھا۔ انہوں نے نعشیں ورثا کو سونپنے کا مطالبہ کیا۔ سابق چیف منسٹر نے کہا کہ جب سے مسلح افواج خصوصی اختیارات قانون (اے ایف ایس پی اے) لاگو ہے‘ بے قصور لوگوں کی ہلاکتوں کے لئے کوئی جواب دہی نہیں ہے۔ پیر کی شام سیکوریٹی فورسس کی بندوقوں کی لڑائی میں 4  افراد بشمول 2 شہری ہلاک ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستانی دہشت گرد حیدر‘ اس کا مقامی ساتھی محمد عامر اور 2 شہری الطاف بھٹ اور مدثر گُل‘ حیدرپورہ انکاؤنٹر میں مارے گئے جہاں ایک غیرقانونی کال سنٹر چل رہا تھا اور دہشت گردوں کا خفیہ ٹھکانہ بھی تھا۔

 انسپکٹر جنرل پولیس (کشمیر رینج) وجئے کمار نے دعویٰ کیا کہ مدثر گُل‘ عسکریت پسندوں کا سرگرم ساتھی تھا اور الطاف بھٹ کے مکان میں کال سنٹر چلارہا تھا۔یہ لوگ عسکریت پسندوں کے ساتھ کراس فائرنگ میں مارے گئے۔ انہوں نے الطاف بھٹ کی موت پر دکھ ظاہر کیا لیکن کہا کہ اس کا شمار عسکریت پسندوں کو پناہ دینے والوں میں کیا جائے گا۔ محمد عامر کے باپ لطیف مگرے نے جو ضلع رام بن کے علاقہ گول کے رہنے والے ہیں‘ سرکاری دعویٰ کی تردید کی اور کہا کہ ان کا لڑکا عسکریت پسند نہیں تھا۔

محبوبہ مفتی نے پارٹی کے گاندھی نگر ہیڈکوارٹرس کے باہر پارٹی کارکنوں اور قائدین کے ساتھ احتجاج کیا۔ انہوں نے جو پلے کارڈ تھام رکھا تھا اس پر ہمیں مارنا بند کرو‘ حیدر پورہ ہلاکتوں کی تحقیقات کراؤاور نعشیں ورثا کو سونپو لکھا تھا۔ پولیس کی بھاری فورس نے احتجاجیوں کو مین روڈ کی طرف جانے سے روک دیا۔ محبوبہ مفتی نے میڈیا سے کہا کہ شہریوں کے ورثا سری نگر میں احتجاج کررہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نعشیں ان کے حوالہ کی جائیں۔ پی ڈی پی قائد نے کہا کہ یہ ظالم حکومت لوگوں کو مارڈالنے کے بعد ان کی نعشیں تک نہیں سونپتی۔ بی جے پی گاندھی‘ نہرو اور امبیڈکر کے اس ملک کو گوڈسے کا دیش بنانا چاہتی ہے۔ میں اس سے زیادہ کیا کہہ سکتی ہوں۔

مارے جانے والوں کے خلاف ڈیجیٹل ثبوت ہونے کے انسپکٹر جنرل پولیس کے دعویٰ کے بارے میں پوچھنے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ پولیس کے پاس اگر پہلے سے ثبوت تھا تو پھر اس نے انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا۔ ان کی فائرنگ میں جب بھی کوئی مارا جاتا ہے تو وہ اسے او جی ڈبلیو(اوور گراؤنڈ ورکر) قراردیتے ہیں جو غلط ہے۔ افسپا جب سے لاگو ہے کوئی جواب دہی نہیں‘ کوئی بھی جواب دہ نہیں ہے۔ بے قصور شہریوں کے ورثا کو نعشوں کی تدفین تک کرنے نہیں دی جاتی۔ انہوں نے پچھلے انکاؤنٹر کا بھی حوالہ دیا جس میں 3 نوجوان مارے گئے تھے۔ سیکوریٹی ایجنسیوں نے اس وقت بھی ڈیجیٹل ثبوت ہونے کا دعویٰ کیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.